جنوبی پنجاب: سیلاب سے فصلیں شدید متاثر

پاکستان میں سیلاب فائل فوٹو
Image caption جنوبی پنجاب کا اسی فیصد علاقہ سیلاب کی وجہ سے زیرِ آب ہے

پاکستان میں آنے والے سیلاب نےجہاں لوگوں کو بےگھراوراُن کی املاک کو تباہ کیا ہے وہیں اس سیلابی پانی نے کئی لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی جانے والی فصلوں کوبھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

جنوبی پنجاب کا اسی فیصد علاقہ سیلاب کی وجہ سے زیرِ آب ہے اور وہ کھیت اب سیلابی پانی میں ڈوب چکے ہیں جہاں پر کاشت کی جانے والی فصلیں کچھ عرصہ کے بعد کاٹی جانےوالی تھیں۔

جنوبی پنجاب کے کسی بھی علاقے کا رخ کیا جائے تو وہاں پر فصلوں کی بربادی صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ زیرِ کاشت کھیت سیلاب کے باعث اب تالابوں میں تبدیل ہوگئے ہیں اور ان کھیتوں میں کاشت کی جانے والی فصل پانی میں بہہ گئی ہے۔

ضلع مظفرگڑھ صوبہ پنجاب کے زرعی ضلع کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں پر کئی قسم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جس میں کپاس نمایاں فصل ہے اور صرف مفظرگڑھ کےضلع میں دو لاکھ ایکڑ پر لگائی گئی کپاس مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

محمکہ زراعت کے آفیسر جمشید خالد سندھو نے بی بی سی کو بتایا ’مظفر گڑھ میں کپاس، چاول، گنےاور سبزیوں کی جو فصل کاشت کی گئی تھی وہ سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔‘

زرعی آفیسر کے مطابق مظفرگڑھ میں ساڑھے چار لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی گئی ہے لیکن سیلاب کے پانی کی وجہ سے دو لاکھ ایکڑ اراضی پر لگائی گئی کپاس مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

ُان کے بقول مظفرگڑھ کےعلاقےمیں جو کپاس کاشت کی جاتی ہے اُس کا شمار اچھی نسل کی کاٹن میں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک لاکھ اور پچاس ہزار ایکڑ پرگنا لگایا گیا تھا لیکن بائیس ہزار ایکڑ رقبہ سیلاب کے پانی سے ڈوب گیا جس کی وجہ یہ فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔

اسی طرح مظفرگڑھ میں ساٹھ ہزارایکڑ رقبے پرچاول کاشت کیا جاتا ہےمگربارہ ہزار ایکڑ وہ رقبہ جس پر چاول کاشت کیا گیا تھا وہ سیلاب کے پانی کی نذر ہوگیا ہے ۔

جمشید خالد سندھو نے بتایا کہ مظفر گڑھ ضلع میں ایک لاکھ اور پچاس ہزارایکڑ رقبے پر سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں جس سے ملتان سمیت پنجاب کے دیگرعلاقوں میں سبزی کی ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے لیکن پینتیس سے چالیس ہزار ایکڑ رقبہ پر لگائی جانے والی سبزیاں اور دالیں بھی سیلاب کی لیپٹ میں آگئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زیرِ کاشت سبزیاں تباہ ہونے سے اس کی قیمت میں دُوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔

کپاس کی فصل سیلاب کے پانی میں زیرِ آب آنے کے باعث پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو بھی نقصان ہوا ہے جبکہ گنے کی فصل تباہ ہونے کی وجہ سے ملک میں چینی کی قمیت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جو کھیت زیر آب آگئے ہیں اب ان پر اکتوبر میں گندم کاشت کی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں