سانپوں کے درمیان زندگی

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی چوتھی کڑی جو وسعت اللہ خان نے بکھر سے بھیجی ہے۔

منگل دس اگست

Image caption کئی متاثرین بتتے ہیں کہ مال مویشی کو کیمپوں میں رکھنا ممکن نہیں

جب آپ کو یہی معلوم نہ ہو کہ کسں جگہ کتنی دیر ٹھہرنا ہے تو پھر آپ ہوٹل کے سٹاف یا دھوبی کو کپڑے دھونے کے لیے بھی نہیں دے سکتے۔ اس لیے مجھے صرف پانچ گھنٹے کی نیند کے بعد خود کو جیسے کیسے اٹھانا پڑگیا۔ آس پاس کی دکانیں بند اور ہوٹل میں واشنگ پاؤڈر یا کپڑے دھونے کا صابن ندارد۔ لہذا پہلے نہایا اور پھر نہانے والے صابن سے ایک جوڑا دھوکر کھڑکی میں لٹکا دیا اور دعا کرنے لگا کہ سورج آج اپنے وقت سے تیس منٹ پہلے نکل آئے تو کتنا اچھا ہو۔ مگر یہ ہو نہ سکا ۔ڈیڑھ گھنٹے بعد نیم گیلے کپڑے بیگ میں ڈالنے پڑے۔

ساڑھے نو بجے ہوٹل چھوڑا اور گاڑی کا رخ بھکر کی جانب موڑ دیا۔ لیکن بھکر سے پہلے لئیہ کی تحصیلٰ پڑتی ہے اور کروڑ لال عیسن میں ڈاکٹر اشو لال رہتے ہیں۔ اگر دورِ حاضر میں سرائیکی زبان کے پانچ ہراول شعرا کے نام نکالے جائیں تو یہ ممکن نہیں کہ اشو لال کا نام اس فہرست میں شامل نہ ہو۔ اشو لال دریائے سندھ کے عشق میں اتنے گرفتار ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک مجموعے ’سندھ ساگر نال ہمیشاں‘ میں صرف دریا سے متعلق نظمیں جمع کردی ہیں:

کوئی دیوتا ہئی جیہڑا سمدا نہی

کوئی دیوتا ہے جیہڑا ستا پئے

( کوئی دیوتا ( سندھو دریا) ہے جو نہیں سوتا۔ کوئی دیوتا ہے جو سو رہا ہے)

پچاس کے پیٹے میں پہنچنے والے ڈاکٹر اشو لال کے بقول انکے بچپن تک سندھو دیوتا کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ کوئی بہتے پانی میں پیشاب کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ پھر لوگوں نے دریا کو دریا بدر کرنے کے لیے لالچ کے پھاوڑے سے اتنے زخم لگائے کہ وہ باؤلا ہوگیا۔ دریا سے اس کا راستہ چھین لیا گیا۔ حالت یہ ہوگئی کہ مغرب کی جانب بہنا چاہے تو راہ میں کھیت کھلیان آجائیں، شمال کی طرف سے راستہ بنانا چاہے تو بستیاں گریبان پکڑ لیں۔ جنوب کی جانب سے فرار ہونا چاہے تو سڑک، حفاظتی بندوں کی بھیڑ چال اور کرپشن کا کتا اسکا دامن پکڑ لے۔ آخر کتنا صبر کرتا۔

چنانچہ ایک سندھو نے اپنی جان پچانے کے لیے انسان کی لامحدود لالچ کو گلے سے پکڑلیا اور بہاؤ میں گھسیٹتا ہوا لے گیا۔ لیکن دریا انسان کی طرح ظالم اور بے مروت نہیں ہوتا۔ یہی سندھو اپنے ساتھ پہاڑوں سے نئی توانا مٹی کا تحفہ بھی لایا ہے۔ اس تازہ مٹی سے اٹھنے والی فصلیں کچھ ہی عرصے میں زخم مندمل کردیں گی اور انسان پھر ناشکرے پن کے راستے پر چل پڑے گا۔

ڈاکٹر اشو لال سے گھنٹے بھر ملاقات کے بعد شیخ ثنا اللہ کی دکان پر پہنچا۔ شیخ صاحب تحصیل میں ٹیوب ویل، جنریٹرز اور سپئر پارٹس کے سب سے بڑے ڈیلر ہیں۔ لیکن ان دنوں شیخ صاحب کا اپنے کام سے زیادہ کسی کے کام آنے میں جی لگ رہا ہے۔ شیخ ثنا اللہ اپنے دو بھائیوں اور بیٹوں کے ساتھ پانچ اگست سے روزانہ ایک ہزار سیلاب زدگان کو دوپہر اور شام کا گرما گرم تازہ کھانا فراہم کر رہے ہیں اور پورا رمضان یہی کرنے کا ارادہ ہے۔ چونکہ یہ کوئی چٹ پٹی سٹوری نہیں ہے اس لیے میڈیا کی نظر میں بھی نہیں ہے۔ وزیرِ اعلی، وزیرِ اعظم اور اعلی بیورو کریٹس کی’آنیوں جانیوں‘ سے فرصت ملے تو شیخ ثنا اللہ جیسے خاموش ہیروز کی جانب بھی نگاہ اٹھے۔

شیخ صاحب سے ملاقات کے بعد ایک اور ہیرو سے ملاقات ہوئی۔ سابق تحصیل ناظم سجاد خان سیہڑ موجودہ رکنِ قومی اسمبلی بہادر خان سیہڑ کے چھوٹے بھائی ہیں۔جب سیلاب نے کروڑ کے دروازے کو اپنی دستکوں سے توڑ ڈالا تو ہزاروں لوگ پانی میں پھنس گئے۔ سجاد خان نے کراچی سے ایک لانچ اور تین کشتیاں منگوائیں۔ لگ بھگ پچاس مقامی کشتیوں کو کرائے پر حاصل کیا اور اپنے ساٹھ ستر ساتھیوں سمیت چھ دن میں علاقے کے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اس بیچ تین دن تک سجاد خان خود لانچ چلاتے رہے اور وہ بھی کچھ کھائے پیے بغیر۔ انکے بڑے سے گھر کے احاطے میں دونوں بھائی سینکڑوں پناہ گزینوں سے دن رات گھرے رہتے ہیں۔ کسی کو آٹا ، کسی کو کھانا، کسی کوخیمہ، کسی کو تسلی، کسی کو دعا اور کسی کو سفارشی پرچی درکار ہوتی ہے۔

سجاد خان کے بڑے بھائی بہادر خان کو یہ فکر لاحق تھی کہ وفاقی وزیرِ مملکت برائِے پارلیمانی امور مہرین انور راجہ کے اس پیغام کا کیا کریں کہ شام کو وہ اسلام آباد سے خوراک کے پانچ سو پیکٹوں کے ساتھ پہنچیں گی اور اگر مقامی طور پر کسی ویڈیو میکر کا انتظام ہوجائے تو بہت اچھا ہوگا۔

وزیر آندا پے، وزیر آندا پے ۔۔۔ یہ خبر آناً فاناً پھیل گئی۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا منظر ہوگا جب وزیرہِ موصوفہ پانچ ہزار پناہ گزینوں کے ہجوم میں خوراک کے پانچ سو پیکٹ بانٹیں گی۔ اسکے بعد میں تو بکھر کی طرف روانہ ہوگیا ۔ بعد میں سنا کہ پانچ سو پیکٹوں کی تقسیم کے درمیان ہلڑ بازی ہوئی لیکن مووی میکر نے بہرحال وزیرہ موصوفہ کی فلم بنا کر انکے حوالے کر دی۔

بکھر کروڑ لال عیسن سے لگ بھگ پچاس منٹ کی مسافت پر ہے۔ راستے میں بارش سے سبز صحرائے تھل میں کچھ پناہ گزینوں نے خیمے لگائے ہوئے تھے۔ یہ خانہ ساز خیمے بہت عجیب سےتھے۔ آمنے سامنے چار چار چارپائیاں اوپر نیچے مضبوطی سے باندھ کر ان پر پرانی موٹی چادریں ڈال دی گئی تھیں۔ لیجیے خمیہ تیار ہوگیا ۔باہر کچھ جانور بندھے ہوئے تھے۔

میں نے ایک پناہ گزین سے دریافت کیا کہ یہاں تو بارش اور گرمی کے سبب سانپ بچھو بھی وافر ہوں گے اور تمھارے ساتھ بچے بھی ہیں۔ کسی سرکاری کیمپ یا نہر کے بند پر رہ لیتے تو زیادہ محفوظ رہتے۔ مجھے یہ جواب ملا۔

’گال تہاڈی ٹھیک ہے سوہنا پر مال دا کیا کروں۔ کیمپ وچ بندیاں کو روٹی نئیں لبھدی تاں مال کو کیویں لبھسی۔ نہر دے بند تے تاں نہ بندیاں کو روٹی ملدی اے نہ مال کوں۔ اتھاں کھلے میدان وچ گھٹ کنوں گھٹ مال تاں رج ویندے۔ اتھاں نانگ بہوں ہن۔ کل میں ڈو اپنے ہتھیں مارن۔ اصل مسئلہ مال دا اے۔ بچے کو نانگ پے ای ونجے تاں ڈوجھا جم پوسی ۔ پر مال گیا تاں اساں سارے مر ویسوں ۔‘

( بات آپ کی درست ہے لیکن جناب میں اپنے مویشیوں کا کیا کروں؟ کیمپ میں تو انسانوں کو خوراک نہیں ملتی جانوروں کو کون پوچھے گا۔ جبکہ نہر کے بند پر نہ ہمیں روٹی ملے گی نہ ہمارے جانوروں کو۔ یہاں کھلے میدان میں کم از کم جانوروں کا پیٹ تو بھر جاتا ہے۔ سانپ یہاں بہت ہیں۔ کل ہی دو اپنے ہاتھ سے مارے ہیں۔ اصل مسئلہ مویشیوں کا ہے۔ بچے کو سانپ نے کاٹ لیا تو ایک اور مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ لیکن مویشی نہ رہے تو ہم سب مرجائیں گے ۔‘

بکھر شہر میں ڈاکٹر افضل دھاندلہ سے ملاقات ہوئی جو انیس سو ترانوے کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر اٹھاسی ہزار ووٹ لے کر بھی ہارگئے۔ ڈاکٹر صاحب نے سیاست سے جزوی توبہ کرلی اور سماجی خدمت کے میدان میں کود گئے۔ انہوں نے ملتے ہی شاکر شجاع آبادی کا یہ شعر سامنے رکھ دیا۔

ڈوئیں موئے ہاں شاکر پانی توں

تیکو ترہے مارے، ساکوں چھل مارے

(ہم دونوں کو پانی نے ہلاک کردیا شاکر۔ تجھے پیاس نے تو ہمیں سیلاب نے مار ڈالا)

بکھر کا لگ بھگ پچاس کیلومیٹر طویل دریائی ساحل زیرِ آب آیا ہے اور وہاں بھی کچے کے دیہاتوں میں تباہی کی وہی کہانی ہے جو بلتستان سے ٹھٹھے تک پھیلی ہوئی ہے۔

شام سات بجے ہم بکھر کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ میانوالی تک لگ بھگ ڈھائی گھنٹے کا سفر بتایا گیا ہے۔ یہ کہانی کل سہی۔۔۔

اسی بارے میں