ہیضے کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ

بیماریاں
Image caption متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو شکایات ہیں کہ امدادی ادارے ان تک نہیں پہنچ پا رہے۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم محکمے کے حکام کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جلد کی بیماری سکیبیز معمول سے چوبیس فیصد زیادہ جب کہ ڈائریا کی بیماری بارہ سے تیرہ فیصد معمول سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

حالیہ سیلاب اور بارشوں سے صوبے کے شمالی علاقے کوہستان اور سوات سے لے کر جنوبی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک تک تمام اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں اب مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم صوبائی محکمہ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صحت کے حوالے سے یوں تو تمام علاقے متاثر ہیں لیکن وہ علاقے جہاں پانی کھڑا ہے وہ زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان علاقوں میں چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک نمایاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جلد کی بیماری سکیبیز کے مریض سب سے زیادہ ہیں جن کی تعداد معمول سے چوبیس فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دوسرے نمبر پر دست اور قے کی بیماریاں ہیں جن کے مریضوں کی تعداد معمول سے بارہ، تیرہ فیصد زیادہ بتائی گئی ہے۔

شکیل قادر کے مطابق اقوام متحدہ کی تنظیم ڈبلیو ایچ او، یونیسف، ایم ایس ایف اور دیگر امدادی اداروں کے تعاون سے لوگوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت کی جانب سے ایک سو میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔

ادھر متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو شکایات ہیں کہ امدادی ادارے ان تک نہیں پہنچ پا رہے۔

اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والے ایک امدادی کارکن دین محمد مجاہد سے تین روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے متاثرہ علاقوں سے بتایا کہ یہاں لوگوں کو جلد کی بیماریاں ہو رہیں ہیں۔ ان میں ٹانگوں اور پیروں پر چھالوں کا نکلنا عام ہے۔ اسی طرح نوشہرہ، چارسدہ اور سوات سے بھی اطلاعات ہیں کہ اکثر افراد کو دست اور قے کی بیماریاں ہیں جنھیں ان مقامی ہسپتالوں اور صحت کے بنیادی مراکز لایا جا رہا ہے جو سیلاب اور بارشوں کی زد میں آنے سے بچ گئے ہیں۔

شکیل قادر کے مطابق نقصانات بہت بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں اور حکومت کے پاس ان سے نمٹنے کے وسائل نہیں تاہم دیگر اداروں کے تعاون سے کوششیں کی جا رہی ہیں کہ تمام متاثرہ افراد تک پہنچا جائے۔

اسی بارے میں