سیلاب کے بعد طویل اور کٹھن سفر

متاثرین نقل مکانی کر رہے ہیں

میلے کپڑوں، الجھے ہوئے بالوں اور اداس چہروں کے ساتھ ہزاروں لوگ ایک ایسی منزل کی طرف گامزن ہیں جس کے بارے میں اکثر خود لاعلم ہیں۔

کراچی سے لے کر شکارپور تک ہر مرکزی شاہراہ پر بعض لوگ ٹرکوں، ٹرالروں، بسوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر سوار ہیں جبکہ کچھ پیدل ہیں جو جہاں تھک جاتا ہے وہیں ڈیرے ڈال دیتا ہے۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے اس وقت سینتیس لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ چالیس ارب رپوں کا مالی نقصان ہوا ہے۔

رانی پور کے قریب ٹریکٹر ٹرالی پر سوار ایک خاندان سے ملاقات ہوئی، جس کے نوجوان جمال الدین بنگلانی نے بتایا کہ وہ جیکب آْباد کے علاقے ٹھل کے گاؤں عبدالرزاق بنگلانی سے تعلق رکھتے ہیں جہاں نہ صرف ان کا گھر و سامان بلکہ چاول کی کھڑی فصل بھی زیر آْب آنے کے بعد تباہ ہوچکی ہے۔

Image caption سیلاب سے اس وقت سینتیس لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں

تیس افراد پر مشتمل یہ خاندان پہلے بلوچستان کے علاقے جھٹ پٹ گیا تھا مگر وہاں بھی سیلابی ریلا داخل ہوگیا اور انہیں نکلنا پڑا۔ اب یہ خاندان حیدرآباد کے قریبی علاقے ٹنڈو اللہ یار کی جانب رواں دواں ہے، جہاں جمال الدین کے مطابق ان کی پرانی جان پہچان ہے۔

اس قافلے میں دس کے قریب مختلف عمروں کے بچے بی شامل تھے، جن کے چہروں سے محسوس ہو رہا تھا کہ انہیں بھوک لگی ہے۔ یہ بات ان کی ماں بی جان چکی تھیں شاید اسی لیے ہی سڑک کے قریب الاؤ جلا کر چاول ابالنے کی تیاری کی جارہی تھی۔

ایک بزرگ علی نواز بنگلانی نے بتایا کہ ان کا واحد ذریعہ معاش دو ایکڑ زمین تھی جہاں سے ہی انہیں آمدنی ہوتی تھی اب وہ ٹنڈو اللہ یار جا رہے ہیں جہاں مزدوری کریں گے، مگر تین بچوں کے والد کو مزدوری ملے گی یا نہیں وہ نہیں جانتے۔

Image caption بیشتر متاثرین کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اب وہ مزدوری تلاش کریں گے

ایک اور متاثر شخص یوسف بنگلانی حکومت اور دیگر اداروں کی جانب سے مختلف شہروں میں لگائے گئے کیمپوں سے لاعلم تھے، بقول ان کے کسی نے انہیں آگاہ ہیں نہیں کیا۔ یوسف بنگلانی انیس سو ستر کی دہائی میں آنے والے سیلاب کے بھی گواہ ہیں، ان کے مطابق وہ سیلاب کم تھا حالیہ سیلاب نے تو ایک دانہ نہیں چھوڑا اور گھروں کے گھر ڈبو دیئے ہیں۔

سیلاب کا پانی کب اترے گا اور وہ کب گھروں کو لوٹیں گے اس کا جواب فی الحال متاثرین اور حکومت دونوں کے پاس نہیں ہے، مگر یوسف بنگلانی کا کہنا ہے کہ خریف کی فصل تو بہہ گئی مگر اب وہ ربیع میں گندم کی بوائی کرسکیں گے یا نہیں وہ اس سے لاعلم ہیں۔ بقول ان کے اگر ایسا ہوا تو ایک سال کے اس عرصے میں ان کا دیوالیہ ہوجائیگا۔

صوبھو بنگلانی دمے کے مریض ہیں اور انہیں ہر ماہ دو ہزار کی دوائیں لینی پڑتی ہیں مگر آج ان کی جیب میں دو سو رپے بھی نہیں رہے، جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ کچھ گولیاں دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں سرکاری ہپستال سے انہیں صرف یہ مل سکی ہیں اب ان کے سہارے چلنا ہے جتنے دن بھی چلے۔

پیدل جانے والے لوگوں کے ساتھ بھینسوں اور گائیوں کے بڑے بڑے ریوڑ بھی ہیں، جس کے آگے کتے اور گدھے گاڑیاں بھی چل رہی ہیں۔

خیرپور شہر کے قریب ایک شخص نظام الدین سے ملاقات ہوئی جس کی ایک طرف سے قمیض پھٹی ہوئی تھی، انہوں نے بتایا کہ راستے میں کچھ لوگوں نے ان سے جانور چھیننے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ان کے ہیں۔ بڑے تکرار کے بعد ان سے ہاتھا پائی ہوئی اور کپڑے پھٹ گئے جبکہ پولیس الگ سے تنگ کر رہی ہے۔

کچے میں ڈاکوؤں سے مقابلہ کرنے والے ان لوگوں میں سے کئی نے اپنے ساتھ اسلحہ بھی اٹھایا ہوا ہے جن میں اکثر کے پاس سنگل اور ڈبل بیرل بندوقیں ہی۔ بقول ان کے یہ لائسنس یافتہ اسلحہ ہے۔

Image caption ’کچھ پیدل ہیں جو جہاں تھک جاتا ہے وہیں ڈیرے ڈال دیتا ہے‘

شکارپور کے علاقے رحیم آباد کے رہائشی محمد نواز نے خیرپور میں ڈیرہ ڈال دیا ہے ان کے مطابق وہ یہاں کھجور کے باغوں میں پہلے بھی مزدوری کرنے آچکے ہیں اس لیے انہوں نے یہاں کا رخ کیا کیونکہ رہنے کے لیے جگہ اور مزدوری دونوں کا بندوست ہوجائے گا مگر یہاں تو پہلے ہی لوگوں کے ہجوم امنڈ آئے ہیں۔

خیرپور کے قریبی علاقے ٹیڑہی میں واقع ایک مدرسے نے بھی اپنے دروازے سیلاب سے متاثرین کے لیے کھول دیے ہیں جہاں چار سو کے قریب متاثرین کا انتظام کیا گیا ہے، مدرسے کے مہتم قاضی حمد اللہ کا کہنا ہے کہ ان متاثرین کو دو وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

اسی مدرسے کے باہر ایک خاتون سے ملاقات ہوئی جس نے بتایا کہ مولوی جو کھانا کھاتے ہیں وہ جب بچ جاتا ہے تب ہی ان کو دیا جاتا ہے حالانکہ وہ بھی روزہ رکھ رہی ہیں، مگر مدرسے کی انتظامیہ نے ان کے اس الزام کو مسترد کیا۔

نصیباں نامی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ تین روز سے ادھر ادھر کے چکر لگا رہی ہیں مگر انہیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھانے کے علاوہ دیگر چیزیں بھی درکار ہیں یہاں نہ سونے کے لیے کوئی بسترہ یا چادر ہے نہ تبدیل کرنے اور نہانے کے لیے کوئی جگہ اور صابن دستیاب ہے۔

شکارپور کے باہر ایک گدھا گاڑی پر سامان لاد کر جانے والے ایک بزرگ خدا بخش سے میں نے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ خدا کی زمین ہے جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ جائیں گے۔

سکھر شہر میں اس وقت ہزاروں لوگ کیمپوں میں موجود ہیں اور جگہ نے ہونے کی وجہ سے اب لوگ آگے کے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث کئی علاقوں میں پولیس ان متاثرین کو آگے جانے کو کہہ رہی ہے، خیرپور شہر کے باہر یہ منظر میں نے خود بھی دیکھا پولیس موبائل میں موجود اہلکاروں کا کہنا تھا کہ حکام کا حکم ہے کہ اب لوگوں کو آگے کی طرف بھیجو۔

متاثرین کی ایک بڑی تعداد کراچی، حیدرآباد، ہالا، سیہون اور بھٹ شاہ سمیت دیگر علاقوں میں پہنچ گئی ہے جن میں سے کچھ نے قلندر شہباز کے مزار اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کو ٹھکانہ بنالیا ہے جہاں لنگر کی صورت میں کھانا آسانی سے دستیاب ہے۔ ان متاثرین میں کئی تو ایسے لوگ بھی ملے جو کبھی اپنے ضلعوں سے باہر ہی نہیں گئے تھے بقول ان کے حالات نے دربند کردیا ہے ورنہ وہ تو اپنا علاقہ چھوڑنے تک کو گوارا نہیں کرتے تھے۔