اس طرح تو ہوتا ہے !

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی پانچویں کڑی جس میں وسعت اللہ خان بھکر کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان اور میانوالی جاتے ہیں۔

بدھ دس اگست ( میانوالی۔ ایک بجے شب )

Image caption جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے سیلاب سے متاثر ہیں

گزشتہ شام سات بجے بھکر سے نکلنے کے بعد اندازہ یہ تھا کہ ڈھائی گھنٹے میں میانوالی پہنچ جائیں گے۔ لیکن وہ دل ہی کیا جو سیدھی راہ پر چلے۔کہنے لگا ڈیرہ اسماعیل خان صرف چالیس کلو میٹر دور ہے اس کی جھلک دیکھتے ہوئے میانوالی نکل لو تو کیا برا ہے۔دماغ نے کہا صراطِ مستقیم پر چلتے رہو روٹ بدلنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن دل نے دماغ کو دھکا دے کر سٹیرنگ سنبھال لیا اور گاڑی ملتان میانوالی روڈ سے ڈیرے جانے والی سڑک پر مُڑ گئی۔

بھکر سے دریا خان جانے والی سڑک پر دونوں جانب ہرے بھرے کھیت اور درختوں کے جھنڈ دیکھ کر جی خوش ہوگیا۔ کم ازکم کچھ زمین تو ایسی ہے جس نے سیلاب کا پانی نہیں چکھا۔ لیکن جیسے ہی گاڑی نے ایک بند عبور کیا بائیں ہاتھ پرمنظر بدل گیا۔گدلے سیلابی پانی نے زمین کا محاصرہ کر رکھا تھا اور کپاس کے لاتعداد پودے اس پانی میں سے بمشکل سر نکالے بے چارگی سے دیکھ رہے تھے۔ تقریباً بیس منٹ تک یہ منظر گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑتا رہا اور سندھو دریا کا پل آگیا۔اس طرف بورڈ لگا ہوا تھا ’خدا حافظ پنجاب پولیس‘۔دوسری جانب ٹیکس کے بوتھس سے پہلے بورڈ لگا ہوا تھا ’خوش آمدید خیبر پختون خواہ‘ اور برابر میں ایک بورڈ پر لکھا تھا ’یہاں پر اندھا ڈولفن کا نظارہ ہوتا ہے‘۔ تذکیر و تانیث کی تبدیلی سے یقین آگیا کہ صوبہ بدل چکا ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک جوان نے عین پل کے درمیان گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا اور پوچھا ’ کدھر ؟‘ میں نے جواب دیا ’ادھر !‘ کہنے لگا ٹھیک ہے ۔۔۔چار گز دور صوبہ پختونخواہ پولیس کی میز لگی ہوئی تھی۔ کہاں سے تشریف لا رہے ہیں ؟ جی بھکر سے ! کہاں جا رہے ہیں ؟ جی ڈیرہ اسماعیل خان ؟ کیوں ؟ سیلاب دیکھنے ؟ کیا بھکھر میں سیلاب نہیں ملا ؟ جی ملا بس سوچا کہ پختون خواہ بھی دیکھ لیں ! زنجیر گرا دی گئی اور گاڑی بیس روپے ٹیکس دے کر پختون خواہ میں داخل ہوگئی۔

پل ختم ہوتے ہی بائیں جانب کے پشتے اور پشتے سے نیچے پناہ گزیں خیموں کی طویل قطار گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑ رہی تھی۔فوج کا میڈیکل کیمپ بھی نظر آیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں داخل ہوتے ہی موبائیل فون کے سگنلز غائب ہوگئے۔شہر کے عین وسط میں جس حجرے میں ہم تھوڑی دیر کے لیے چائے پینے رکے وہاں پر معلوم ہوا کہ موبائیل سگنلز کا شہری حدود میں کئی ماہ سے داخلہ ممنوع ہے۔

منطق یہ ہے کہ دہشت گرد موبائیل استعمال کرتے ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ دہشت گرد تو کپڑے بھی پہنتے ہیں۔جوتا بھی پہنتے ہیں۔کھانا بھی کھاتے ہوں گے۔ موبائیل فون بند کرنے والی انتظامیہ کو آخر یہ خیال کیوں نہ آیا؟ اور فیصلہ سازوں کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ تباہ کن سیلاب کے پے درپے حملوں کے بعد مقامی لوگ کس طرح موبائیل فون کے بغیر ایک دوسرے کا حال احوال اور تازہ صورتحال معلوم کرتے ہوں گے۔موبائیل سگنلز غائب ہونے سے میرا دم گھٹنے لگا۔ یوں ڈیرہ اسماعیل خان میں رات گزارنے کا خیالِ موہوم بھی سگنلز کی طرح غائب ہوگیا۔

حجرے میں موجود ایک شخص نے بتایا کہ لکی مروت سے عیسیٰ خیل تک کی سڑک پر پانی کے سبب ٹریفک بند ہے۔اس لیے اگر آپ واقعی اس وقت میانوالی جانے پر بضد ہیں تو پھر دریا خان سے بیچ کی سڑک کے ذریعے ہائی وے پر نکل سکتے ہیں۔

دوبارہ دریائے سندھ کے بل پر پہنچے تو پنجاب پولیس نے گاڑی کی مفصل تلاشی لی اور پوری تفصیل سرکاری رجسٹر میں درج کی۔ایک سپاہی نے کہا دہشت گردی کے بعد سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔

لگ بھگ تین گھنٹے کے سفر کے بعد رات ساڑھے بارہ بجے میانوالی میں داخل ہوئے۔ہو کا عالم ہے۔اگلا ایک دن اس شہر میں گزارنا ہے جہاں مغرب کے بعد بازار بند ہوجانے کی مستحکم روایت ہے۔صبح دریائے سندھ کا بایاں کنارہ چھوڑ کر کیا دائیں کنارے پر چڑھ سکیں گے ؟ کالا باغ جاسکیں گے ؟ کچھ نہیں معلوم۔ تھکن سے دماغ شل ہورہا ہے۔برابر کے کمرے سے لوک موسیقی بلند آواز میں ہمسائیوں کو بانٹی جا رہی ہے۔ لیکن کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ! شب بخیر۔

سیلاب ڈائری چوتھی قسط

سیلاب ڈائری تیسری قسط

سیلاب ڈائری دوسری قسط

سیلاب ڈائری پہلی قسط

اسی بارے میں