آخری وقت اشاعت:  پير 16 اگست 2010 ,‭ 12:49 GMT 17:49 PST

سیلاب کا رخ اب قمبر شہداد کوٹ کی طرف

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ میں سیلابی پانی کا رخ اس وقت قمبر شہداد کوٹ ضلع کی جانب ہوگیا ہے۔

صوبائی مشیر اطلاعات جمیل سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ قبو سعید خان شہر اور آس پاس کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی جبکہ گاڑیاں بھی فراہم کی جارہی ہیں تاکہ لوگوں کو نکلنے میں آسانی ہوسکے۔

کلِک ایسی تباہی پہلے نہیں دیکھی:بان کی مون

کلِک پانی ہی پانی، دفن کہاں کریں

کلِک سیلاب ڈائری: سانپوں کے درمیان زندگی

کلِک جان جیکب کا شہر پانی کے گھیرے میں

قبو سعید خان کی آبادی ڈھائی لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے، جیکب آْباد کو بچانے کے لیے نورواہ نہر کو دیئے گئے کٹ کے بعد یہ پانی اب آگے بڑہ رہا ہے۔

سکھر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ سیلابی ریلا کیر تھر کینال میں شامل ہوگیا ہے جو پہلے اپنی مکمل گنجائش کے تحت چل رہی ہے جبکہ علاقے میں موجود سیم نالے میں بھی بارش اور برساتی پانی کے بہاؤ کے باعث دباؤ ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا کہ دونوں میں اگر یہ صورتحال جاری رہی تو قبو سعید خان کے علاوہ شہداد کوٹ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دریائے سندھ سے سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلا بلوچستان کے ضلع جعفر آباد سے گزر رہا ہے

دوسری جانب پنوعاقل کے قریب سیلابی پانی میں ایک کشتی الٹ گئی، جس کے باعث ایک بچی سمیت سات افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں، اطلاعات کے مطابق کچے کے علاقے کے گاؤں سومرا پنھواری کے بیس کے قریب باسی ایک کشتی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل ہو رہے تھے کہ پانی کے تیز بھاؤ کے باعث کشتی الٹ گئی اور ایک بچی سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر افراد کو بچالیا گیا۔

دریں اثناء جیکب آباد کے قریب پانی کا دباؤ کم ہوگیا ہے، ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شہر اور شہباز ایئر بیس کو محفوظ بنالیا گیا ہے۔

بلوچستان میں سیلاب

دریائے سندھ سے سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلا بلوچستان کے ضلع جعفر آباد سے گزر رہا ہے جس کے باعث جعفر آباد کے مرکزی قصبے ڈیرہ اللہ یار اور روجھان جمالی مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں اور ان علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں افراد نے بلوچستان کے دوسرے شہروں کا رخ کیا ہے۔

جیکب آباد شہر جس میں شہباز فضائی اڈہ بھی واقع ہے کو بچانے کے لیے کوئٹہ بائی پاس سے بند کو کاٹا گیا جس کے باعث سیلابی ریلا نصیر آباد اور جعفر آباد میں داخل ہو گیا۔

جعفر آباد سے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی نے ڈیرہ اللہ یار اور روجھان جمالی کے قصبوں کو مکمل طور پر ڈبو دیا ہے جبکہ پانی اب اوستہ محمد کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس قصبے کی نوّے فیصد آبادی محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ڈیرہ مراد جمالی، سبّی اور کوئٹہ کی جانب جاتے دیکھے گئے ہیں۔ تاہم نقل مکانی کرنے والے بیشتر افراد کے لیے کسی قسم کے امدادی کیمپ تاحال قائم نہیں کیے گئے ہیں اور لوگ بلند مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

انجمن ہلالِ احمر کی فیلڈ کوارڈینیٹر روبینہ شہوانی کے مطابق بلوچستان میں سیلاب کے نتیجے میں تین لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے اور ان افراد کے لیے کوئٹہ، سبّی اور ڈیرہ مراد جمالی میں تین ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جن میں سات سو خاندان رہائش پذیر ہیں جبکہ باقی لوگ یا تو بلوچستان میں اپنے رشتہ داروں کے پاس یا پھر دیگر شہروں کی جانب نکل گئے ہیں۔

کمشنر نصیر آباد ڈویژن شیر خان بازئی نے ٹیلی فو ن پر کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے ایوب ترین کو بتایا ہے کہ اس وقت ڈیرہ اللہ یار، روجھان جمالی اور اوستہ محمد شہر سے ڈیڑھ لاکھ آبادی ان شہروں سے ڈیرہ مراد جمالی اور سبی کی طر ف منتقل ہو چکی ہے۔

شیر خان بازئی کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ان شہروں میں پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ان افراد کو نکالنے کے لیے آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر اور کچھ کشتیاں کام کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفر آباد ڈاکٹر سعید جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ افراد کو شہر سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جعفر آباد اور سبی کے درمیان ٹرین چلانے کے علاوہ سرکاری سطع پر عام لوگوں کو ٹرانسپورٹ کا اننتظام کیا گیا ہے۔ تاہم جعفر آباد کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے کوئی ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کی گئی اور اکثر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ڈیرہ اللہ سے دوسرے محفوظ مقامات پر جا رہے ہیں۔

اموات کی دوسری لہر؟

اقوامِ متحدہ کے ادارے یوینیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریوں کے نتیجے میں اموات کی دوسری لہر آ سکتی ہے جسے روکنا اس وقت سب سے اہم ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کا آغاز قریباً دو ہفتے قبل ہوا تھا اور اس سے دو کروڑ افراد اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ بل نے کہا کہ ’بارشیں ہو رہی ہیں اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں مزید سیلاب آ سکتا ہے اور حالات مزید خراب ہی ہوں گے۔ ہم نے اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے والے افراد کے لیے خیمہ بستیاں قائم کر دی ہیں تاہم یہ سب ایک طویل عرصے تک چلےگا‘۔

جو امدادی سرگرمیاں ہم نے دو ہزار پانچ کے زلزلے میں دیکھی تھیں اس کا ایک فیصد بھی اس بار دیکھنے کو نہیں مل رہیں

پیٹرک فیولر، ریڈ کراس

ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمیں اسہال اور ممکنہ طور پر ہیضے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس ہیضے کے ایک مریض کی تصدیق ہو چکی ہے، اگرچہ ابھی اس نے وباء کی صورت اختیار نہیں کی ہے تاہم ہمیں اموات کی دوسری لہر کو روکنے کے لیے کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے‘۔

ادھر عالمی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اتنی وسیع پیمانے پر ہوئی ہے کہ اگر تمام عالمی امدادی تنظیمیں حکومت کے ساتھ مل کر بھی کام کریں تو پھر بھی وسائل پورے نہیں پڑیں گے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے پاکستان میں سربراہ پاسکل کیوتے نے بی بی سی کے نامہ نگار رضا ہمدانی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے ابھی تک مالی امداد کے لیے بین الاقوامی اپیل کا اعلان نہیں کیا۔ ’یہ تباہی اتنی بڑی ہے کہ ہم ابھی بھی سروے کر رہے ہیں اور ایک بار سروے مکمل ہو گیا تو اس کے بعد ہی ہم اپیل کا اعلان کریں گے۔‘

اکثر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ڈیرہ اللہ سے دوسرے محفوظ مقامات پر جارہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال عالمی ریڈ کراس ہلالِ احمر کے ساتھ مل کر متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر اتنی تباہی دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوتی تو اس ملک کی حکومت بھی اکیلے اس سانحے سے نمٹنے کی اہلیت نہ رکھتی۔ ’ابھی سانحہ جاری ہے۔ اس سانحے کی اصل تباہ کاریوں کا اس وقت معلوم ہو گا جب سیلابی ریلا اپنی منزل پر پہنچے گا۔‘

دوسری جانب انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ تنظیم کے رابطہ کار پیٹرک فولر کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک پاکستانیوں اور عالمی برادری کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہو سکا کہ یہ کتنا بڑا سانحہ ہے۔ ’میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں کہ جو امدادی سرگرمیاں ہم نے دو ہزار پانچ کے زلزلے میں دیکھی تھیں اس کا ایک فیصد بھی اس بار دیکھنے کو نہیں مل رہیں۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔