تباہی پر متاثرہ لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے بی بی سی اردو کے ٹال فری نمبر پر اپنے مسائل ریکارڈ کرائے ہیں تاکہ انہیں لائف لائن پاکستان کے ذریعے حکومتی عہدے داروں کے نوٹس میں لایا جا سکے۔ ذیل میں ٹال فری نمبر پر ریکارڈ کرائے گئے چند بیانات پیش کیے جا رہے ہیں:

خیبر حسین، گوٹھ شہروا، جیکب آباد

ہم اس گوٹھ میں سیلاب میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کھانے کے لیے کچھ ہے اور نہ پینے کے لیے پانی۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکالا جائے۔ ہماری جانوں کو بہت خطرہ ہے۔ پلیز اللہ کے واسطے، اللہ کے رسول کے واسطے، آپ کسی کو بھی کہیں ہمیں یہاں سے نکالیں، نہیں تو ہم مر جائیں گے۔ بالکل مر جائیں گے۔ پلیز ہماری مدد کریں پلیز۔

رحمان اللہ، چترال

بیوڑی کے علاقے میں جتنے لوگوں کے گھر تھے، زمینیں تھیں وہ سب تباہ ہو گئے ہیں۔ کروڑوں کا نقصان ہو گیا ہے لیکن حکومت تو چارسدہ، مردان جیسے علاقوں کو پوچھتی ہے اور پنجاب اور سندھ کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ چترال اور اپر دیر کا جہاں سارے پُل بہہ گئے ہیں اس کو کوئی پوچھتا نہیں ہے۔

غلام مصطفیٰ، بستی حاجی غلام صدیق، راجن پور

ہم تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔ سیم نالہ جو کٹا تھا اس کی وجہ سے وہاں بہت زیادہ پانی داخل ہو گیا تھا۔ ادھر لوگوں کی مکان گِر گئے ہیں۔ ہماری بستی میں خیموں کی شدید کمی ہے۔ بنیادی ضرورتوں کی اشد ضرورت ہے۔ مچھر بہت ہے، کوئی دوا نہیں ہے۔ میں نے پہلے بھی کال کیا تھا لیکن میری کال نشر نہیں ہوئی۔ مہرنانی فرما کر ہمارا مسئلہ حل کریں۔ ادھر بہت نقصان ہوا ہے۔ انفراسٹرکچر اور سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ہماری بستی کے ساتھ ساتھ چالیس پچاس کے قریب بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ صرف چند پکے مکان بچے ہیں۔ چودہ دن ہو گئے ہیں، ہم تک امداد نہیں پہنچی۔ آپ حکام سے بات کریں۔ ہم بے یارومددگار بیٹھے ہیں۔

یارمحمد بزدار، کوہِ سلیمان، تونسہ، ڈیرہ غازی خان

میں تمام مسلم ممالک اور اسلامی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سانحے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے ملک کی امداد کریں۔ میں حکومت سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ سیلاب سے جو علاقے متاثر ہوئے ہیں وہاں امداد پہنچائے۔ یہ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ یہ ایک سانحہ ہے، المناک واقعہ ہے۔ ہمارے اپنے علاقے میں جو ایک پہاڑی علاقہ ہے وہاں پر کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ اگر ہمارے علاقے سے کوئی مدد مانگتا ہے تو وہ بالکل غلط کہہ رہا ہے۔

محمد نواز بدانی جتوئی، گوٹھ حاجی کریموں

ہمارے ہاں دوائیوں کی بہت کمی ہے۔ سرکاری طور پر جو آ رہا ہے وہ صرف بااثر لوگوں کو مِل رہا ہے۔ ہمارے ہاں جو پانی سے بہہ کے آدمی آئے ہیں ان کے لیے اِدھر کچھ نہیں ہو رہا۔ برائے مہربانی ہمارے پاس امداد بھیجیں۔ کھانے کی بہت کمی ہے، کھانا بھیجیں۔

آزاد خان مزاری، روجھان مزاری

ہمارے علاقے میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ ابھی تک ہمارے علاقوں میں حکومت نے کوئی امداد نہیں کی۔ ہمارے علاقے کے تمام متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے دست کی بیماری کا شکار ہو گئے ہیں۔ آپ براہِ کرم اپنے ایک نامہ نگار کو ہمارے علاقے میں بھیجیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ انسان کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔

شمس القمر، صادق آباد

ہمارے کچھ رشتہ دار سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ وہ سندھ اور پنجاب کی سرحد پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی نہ تو سندھ حکومت مدد کر رہی ہے اور نہ ہی پنجاب حکومت۔ براہِ مہربانی ہماری یہ درخواست متعلقہ حکام تک پہنچا دیں کہ دو صوبوں کی سرحدوں پر رہنے والے متاثرین کی مدد کو بھی یقینی بنائیں۔

زراق، اوستہ محمد

سیلاب نے بہت تباہی مچائی ہے۔ زندگی کے آثار معدوم ہو رہے ہیں۔ دنیا کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ حکومت سیلاب سے ہونے والے نقصان کو پورا کر سکے۔

جلال خان، جعفرآباد

یہاں پر آس پاس سارے ہی لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں حکومت نام کی کوئی چیزنہیں ہے۔ لوگوں کی ساری زندگی کی جمع پونجی پانی بہا کر لے گیا ہے۔

عابد حسین، کشمور

ہمارے ہاں بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ ٹاور خراب ہیں۔ ہماری طرف کوئی فلڈ پروگرام نہیں آیا ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ ہمارے مسئلے کی طرف توجہ دیں۔

ندیم اقبال لغاری، جام پور

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا زمینی رابطہ ختم ہے۔ برائے مہربانی اگر ممکن ہو سکے تو ہمارا زمینی رابطہ بحال کریں۔ پچھلے پندرہ دن سے ہم تک خوارک کا ایک بسکٹ تک نہیں پہنچا۔ مہربانی فرما کر ہماری مدد کریں۔

عمر رضا، سوات

یہاں سارا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ یہاں کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہاں پر پچاس ساٹھ پل تھے جو سارے بہہ چکے ہیں۔

دوست محمد جونیجو، کراچی

دریائے سندھ میں جو حالیہ سیلاب آیا ہے اس میں خیرپور لاڑکانہ پل پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ میری اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ اس بند کو عارضی طور پر توڑا جائے اور پانی کے بہاؤ میں تیزی لائی جائے۔ بہاؤ میں رکاوٹ سے سکھر اور گڈو کے علاقے میں نقصان ہو رہا ہے۔

جاوید ڈاہر، تحصیل ٹھل، جیکب آباد

ہمارے شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ساری کچی آبادی پانی میں ڈوب چکی ہے۔ شہر کا کچھ حصہ باقی بچا ہے لیکن اس میں دس دن سے بجلی بند ہے۔ ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ ہماری بجلی بحال کرائی جائے تاکہ زندگی کا پہیہ رواں ہو سکے۔

غلام مصطفیٰ، روجھان

میرا عرض یہ ہے بی بی سی اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہ ہمارے علاقے میں سیلاب زدگان ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ ان کو کوئی ریلیف ملا ہے اور نہ کچھ اور۔ ان میں سے کچھ سیلاب زدگان کے بچوں کو ہیضے کی شکایت ہو گئی ہے۔ آج ہمارے بستی میں دو بچیوں کی موت ہو گئی ہے۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ہمارے علاقے میں ٹیمیں بھیجیں۔

محمد اسلم بلوچ، جعفرآباد

اس وقت ہمارے علاقے میں بہت سیلاب آیا ہوا ہے۔ لیکن کوئی حکومت سامنے نہیں آ رہی۔ غریب آدمی بہت پریشان ہیں۔ متاثرین سڑکوں پر کھڑے ہوئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

علی جان، جیکب آباد

ہم پانی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں کوئی گاڑی وغیرہ نہیں مل رہی ہے۔ مہربانی فرما کر ہماری مدد کی جائے تاکہ ہم علاقے سے نکل سکیں۔

عبدالرحمٰن، اسلام آباد

سیلاب زدگان سے متعلق مجھے یہ کہنا ہے کہ ہمیں دل کھول کر سیلاب زدگان کے لیے چندہ دینا چاہیے اور بیرونی امداد پر کم سے کم انحصار کرنا چاہیے۔

خواجہ غلام محی الدین، داویِ نیلم، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

وادیِ نیلم کا زمینی راستہ کٹ چکا ہے۔ دوکانیں بہہ چکی ہیں۔ لوگ کھانے کو ترس رہے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت ہے۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ شدید بارش کی وجہ سے تمام پل بہہ چکے ہیں۔ پاک فوج نے ہمت کر کے کچھ پلوں کو مرمت کر کے راستہ بحال کیا ہے۔ میری اعلی حکام سے گزارش ہے کہ فوری طور پر وادیِ نیلم کا راستہ بحال کیا جائے۔

عبدالشفیق، تونسہ، ڈیرہ غازی خان

ہم کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اپنی دو بچیوں اور ایک بچے کو بخار آیا ہوا ہے۔ ہماری بی بی سی کے توسط سے حکومت سے اپیل ہے کہ برائے کرم میر کھر کے لوگوں کو ٹینٹ فراہم کیے جائیں۔ ہماری آبادی دس سے گیارہ سو افراد پر مشتمل ہے۔

علی گوہرلنجوانی، پنہل بھٹی، قمبر شہداد کوٹ

ہماری فصل ساری برباد ہو گئی ہے۔ کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ ہماری مدد کریں۔

مشتاق شیخ، سکھر

یہ جو ننگے سر، ننگے پاؤں بھوکے لوگ سڑکوں پر اور اونچی جگہوں پر بیٹھے انتظار کر رہے ہیں، ہماری حکومت ان سے رابطہ کیوں نہیں کر رہی۔ لیکن اگر ہماری حکومت انہیں بھوکا چھوڑ دے گی تو کہا یہ بھی ہمیں چھوڑ دیں گے؟ حکومت کو چاہیے کہ انہیں فوری طور پر امداد فراہم کرے۔

رسول بخش، سکھر

یہ جو کشتی الٹ گئی تھی، اسے پاک فوج کے جوانوں نے نکالا ہے۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ اسے گاؤں والوں نے نکالا ہے وہ غلط ہے، اسے فوجیوں نے نکالا ہے۔ باقی سراسر جھوٹ ہے۔

احمد علی جھکرانی، کشمور

تین دن ہوئے امدادی ٹیمیں نظر نہیں آ رہیں۔ کافی تعداد میں چھوٹے بچے اور بڑے بیمار ہیں۔ کسی کو بخار ہے تو کسی کو کوئی اور بیماری ہے۔ اس وقت یہاں کوئی امدادی ٹیم یا حکومتی نمائندہ نظر نہیں آ رہا ہے۔

منیر مہتاب، لیاقت پور، رحیم یار خان

جتنے لوگ بھی امدادی کام کر رہے ہیں، میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ جو بھی کام کر رہے ہیں وہ مستحق لوگوں تک امداد پہنچائیں۔ یہاں کچھ لوگوں کو امداد ملی ہے کچھ کو نہیں مل رہی ہے۔

غلام حیدر، کشمور

ہمارے علاقے میں پانی کھڑا ہے۔ ہمارے گھروں میں پانی کھڑا ہے۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ہم خود اس وقت دریا کے کنارے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر سلمان اظہر، لاہور

میں بی بی سی کی وساطت سے اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ وہ بالکل فکر نہ کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے۔ میں ان کی ہمت کو سلام کرتا ہوں اور ان کے لیے دن رات دعا کرتا ہوں۔ ان کی ایک کال پر ہم سب ڈاکٹر ان کی خدمت کے لیے حاضر ہو جائیں گے۔

عالم خان، کراچی

سیلاب زدہ لوگوں کی امداد کے سلسلے میں میری ایک تجویز ہے۔ پاکستان میں آٹھ کروڑ موبائل فون صارفین ہیں اور اگر ان پر ایک روپیہ ٹیکس لگایا جائے تو دو روز میں چودہ پندرہ کروڑ روپے اکٹھے ہو جائیں گے۔

شیر عالم، درہ

حالیہ بارشوں نے پورہ انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے۔ میں آپ کی وساطت سے حکومتی عہدیداروں سے التماس ہے کہ خدا را فضائی دورہ کر کے معلوم کریں کہ عوام پر کیا گزر رہی ہے۔ زمینی راستے کٹ چکے ہیں اور اشیائے خوردو نوش کی شدید قلت ہے۔

عبدالعزیز خان، عیسیٰ خیل، میانوالی

جناح بیراج سے لیکر چشمہ بیراج تک جتنا بھی علاقہ ہے وہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ دریا کے کنارے رہنے والے لوگ کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہیں امداد کی شدید ضرورت ہے۔

افتخار احمد کھوسو، جیکب آباد

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سارے لوگ سیلاب کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ گوٹھ ابلوئی کھوسو میں بہت سے لوگ ایک اونچے ٹیلے پر رہ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے۔

خالد حسین، مظفر گڑھ

ہم گزشتہ پندرہ روز سے کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔ گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کوئی فرد دیکھنے کو نہیں ملتا۔ امداد اگر آ بھی رہی ہے تو اسے مگر مچھ کھا رہے ہیں۔ عام آدمی تک کوئی امداد نہیں پہنچ رہی۔ یہاں نہ کوئی میڈیکل ٹیم آئی ہے اور نہ ہی یہاں کوئی میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

خان، احمد میاں شاد، جیکب آباد

ےحمد میاں شاد میں پانی آ گیا ہے، بچے، گاؤں سارے بھر گئے ہیں۔ ہمارے ساتھ نہ پولیس تعاون کر رہی ہے اور نہ فوج اور کوئی تعاون نہیں کر رہا ہے۔ ہم بس روڈ پر بیٹھا ہے۔ تعاون کچھ نہیں کرتے بس یہ بولتے ہیں کہ تم بھئی بس آ جاؤ۔ اخبار والا بولتا ہے کہ بس تم آ جاؤ۔ پچاس روپے آٹا ہو گیا ہے۔

مٹھن شاہ، کچا

یہاں پر جی کوئی بھی ایسا انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں لوگ کھانے کے انتظار میں ہیں۔

ساجد بدرالدین، الائی، بٹگرام

یہاں ہمیں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں ہمارے دو پل بہہ گئے۔ میں نے اس لیے فون کیا ہے کہ شاید کوئی ہماری مدد کر سکے۔

سلطان محمد، ضلع ہرنئی

آج سے چار دو پہلے سیلاب آیا تھا اور ہم ایک بار پھر پانی کی زد میں ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ تعمیری بند بناؤ تاکہ پانی رک سکے۔‘

حکیم رمضان، چوک منڈا

ہمارے علاقے میں آٹھ نو شہروں کے آئے ہوئے متاثرین پناہ گزین ہیں۔ ہمارے شہر میں خوراک کی بہت قلت پیدا ہو گئی ہے۔ مظفرگڑھ سے بھی رابطہ کٹا ہوا ہے۔ شہر میں بہت زیادہ مہنگائی ہے۔ میں حکومت سے آپ کی وساطت گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس طرف توجہ دے۔

ثناء اللہ، کندھ کوٹ، کشمور

چھ اگست سے ہمارے علاقے میں بہت لوٹ مار چل رہی ہے۔ ہم صدر زرداری اور فوج سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے مال مویشی اور قیمتی سامان محفوظ رہے۔

سکینہ، رسالپور

ہم رسالپور سنٹر میں بیٹھے ہیں، یہاں پر آئی ڈی پیز کی امداد کسی کو نہیں مل رہی۔ ہم چار پانچ دفعہ چکر لگا چکے ہیں لیکن یہ لوگ کوئی رسپانس نہیں دے رہے۔ رمضان شروع ہو چکا ہے، انہیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ پیکیج دیں۔ یہاں کوئی انتظام نہیں ہے، نہ سحری کا اور نہ ہی افطاری کا۔

قاری فیض، غازی گھاٹ

یہاں پر ایک علاقہ ہے ہیڈ چتالی، وہاں پر پاس پاس میں جو گاؤں ہیں سب تباہ ہو گئے ہیں۔ میں بی بی سی کے توسط سے حکومت بالا سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے لیے ان لوگوں کو وہاں سے نکالیں۔ لوگوں کے پاس نہ دوائیں ہیں نہ کھانے پینے کا کوئی سامان۔

عبدالرحیم چانڈیو، ڈی جی خان

مجھے آپ کے ویب سائٹ سے معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ لائف لائن پاکستان کے نام سے ایک پروگرام کر رہے ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ڈیرہ غازی خان میں حالات بہت خراب ہیں۔ یہاں پٹرول نہیں مل رہا۔

نذیر احمد رضا، کوٹ ادو

کوٹ ادو سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہمارا گاؤں ہے جس میں بہت اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے۔ اکثر مکانات تباہ ہو گئے ہیں اور ان میں موجود سامان بھی تباہ ہو گیا ہے۔ ہماری اپیل ہے اپنے حکامِ بالا سے، خصوصاً وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے کہ جن لوگوں کے مکان بہہ گئے ہیں اور سامان کا نقصان ہوا ان کو معاوضہ دیا جائے۔

قاری محمد صالح تھہیم، گُل محمد تھہیم، سانگھڑ

ہمارے گاؤں میں حالیہ مون سون میں شدید بارشوں کی وجہ سے سارا گاؤں زیر آب آ گیا ہے۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے مچھر اور گندگی پھیل گئی ہے جو بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ آپ کی وساطت سے ہم صوبائی اور وفاقی وزیر صحت سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے مدد فرمائیں۔

جہانزیب، ججال، کوہستان

شدید بارشوں سے دبیر بازار جو پانچ سو دکانوں پر مشتمل ہے سیلاب کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ دبیر نالے کی وجہ سے لوگوں کے پکے مکان تباہ ہو گئے ہیں۔ لیکن حکومت نے ابھی تک متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ حکومت صرف اعلان کر رہی ہے لیکن ان میں سے کسی بھی اعلان پر عمل نہیں ہو رہا۔ میں آپ کی وساطت سے حکومت سے التماس کرتا ہوں کہ وہ دبیر بازار کے متاثرین کی مدد کرے۔

سعید احمد، ڈی جی خان (ٹرائیبل ایریا)

یہاں پر بہت زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، مکانات گِر گئے ہیں، املاک کو نقصان پہنچا ہے اور مال مویشی سیلاب کے پانی میں بہہ گئے ہیں۔ آپ ہمارا پیغام ڈی جی خان انتظامیہ تک پہنچ دیں۔ یہاں روزانہ بارش ہو رہی ہے اور لوگوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

غلام حسین بلوچ، ٹھٹھہ

ہمارا ضلع پاکستان کا آخری ضلع ہے، جہاں سے دریائے سندھ سمندر میں داخل ہوتا ہے۔ ہم دریا کے بالکل آخر میں رہ رہے ہیں۔ دریا کا سارا پانی بمشمول دوسرے ریلے کے ہمارے علاقے سے ہی گزرے گا۔ ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ باقی ملک کی طرح اس علاقے میں بھی دریا کے پشتوں پرنظر رکھی جائے، کیونکہ یہاں دریا کے پشتے بہت ہی خستہ حالت میں ہیں۔

شوکت علی، ننگولئی، سوات

میں بی بی سی کی وساطت سے حکام بالا سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا آدھا گاؤں سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا ہے اور جو آدھا بچا ہے اس میں بانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ تقریباً ستر فیصد لوگوں نے سامان سے بھرے گھر چھوڑ کر نقل مکانی کی ہے اور کر رہے ہیں۔ دریائے سوات کے پانی کے گاؤں کے بالائی حصوں میں داخل ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کو آسانی سے ٹالا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی طرف سے مدد کی ضرورت ہے۔

انعام اللہ، گیس بالا، دیامیر، گلگت

ہمارے گاؤں میں حالات بہت خراب ہیں۔ بہت زیادہ نقصان ہوئے ہیں۔ آپ کا جو بھی چینل ہے، اس کے ذریعے آپ حکومتِ پاکستان تک یہ اطلاع پہنچ دیں کہ گیس بالا گاؤں میں جو گلگت سے پیتیس کلو میں آگے ہے وہاں پر حالات بہت ہی خراب ہیں۔

محمد صغیر، پٹن، کوہستان

ہم گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔ یہاں خیموں کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزوں کی شید کمی ہے۔ ابھی پانچ سو روپے میں چینی کی ایک دھڑی (پانچ کلو) نہیں ملتی۔ پہلے سامان بھشام سے آتا تھا لیکن اب وہاں پر موجود پُل بھی ٹوٹ گیا ہے۔ کوئی بھی ہمارے مدد کو نہیں پہنچا ہے۔ ٹینٹ نہیں ہیں۔ باقی پیسے وغیرہ گھروں میں تھے وہ بھی چلے گئے ہیں۔

حمید اللہ، بنگڑو، کوہستان

ہماری کوئی پچاس لاکھ مالیت کی زمین تھی، دو گھر تھے، سب ملیا میٹ ہو گیا ہے۔ ہمارے علاقے میں آج تک حکومت کی طرف سے کوئی ہیلی کاپٹر نہیں آیا۔ ہمارے تین طرف پہاڑ ہیں اور چوتھی سمت میں دریا بہتا ہے۔ ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم آپ کی وساطت سے حکومت اور عالمی دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پھنسے ہوئے لوگوں تک غذائی امداد پہنچائی جائے۔ ہماری کل نفری پچیس ہزار ہے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہم سب پھنسے ہوئے ہیں۔

مادلی، روجھان، ضلع راجن پور

مسئلہ یہ ہے کہ راستے بھی صحیح ہیں لیکن کوئی امداد نہیں مِل رہی۔ سیلاب کی تباہ کاریاں تو ہر جگہ ہیں لیکن ہمارے گاؤں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ یہاں پرائیویٹ کشتیوں والے دس ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔ لوگوں کے گندم پڑی ہے لیکن یہ کشتیوں والے کہتے ہیں آدھی گندم ہمیں دو گے تو تب ہم تمھیں باہر نکالیں گے۔ کوئی ہمارا پرسانِ حال نہیں ہے۔ سرداری نظام ہے، سردار اپنے کاموں میں مصروف ہیں اور ہمیں کوئی نہیں پوچھ رہا۔

پُنل، گھوٹکی، سندھ

ہم مارواڑی لوگ ہیں۔ ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں پر بہت پانی ہے۔ ہم پانچ دس روز سے بھوکے پیاسی بیٹھے ہیں۔ اقلیتی لوگوں کو کوئی امداد نہیں مِل رہی۔ ہم بہت پریشان ہیں۔ ہمارے مکان گِر گئے ہیں، سر چھپانے کے لیے چھت نہیں ہے۔ گندم بھی چلی گئی۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، وہ بھی بیمار ہیں۔ ہمارے مدد کر دیجیئے، ہمیں باہر نکلواؤ، کھانے پینے کی چیزیں مہیا کرو۔ دوا وغیرہ کی بھی ہمیں پرابلم ہے۔ پانی میں مچھر اور سانپ وغیرہ ہیں جن کی وجہ سے ہم بہت پریشان ہیں۔ دن رات پریشانی کے عالم میں گزر رہے ہیں۔

رانو پیروانی، غوث پور، کشمور

ہمارے علاقے میں سیلاب آیا ہوا ہے۔ خیر سیلاب کا تو جو ہے سو ہے لیکن وہاں اس سے زیادہ بڑا مسئلہ لوٹ مار کا ہے۔ ہم خود غوث پور چھوڑ کر دوسرے گاؤں آئے ہوئے ہیں اور ہماری کچھ عورتیں اور مرد اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے وہیں موجود ہیں۔ تین روز پہلے ہمارے گاؤں میں دو سو کے قریب مسلح ڈاکو گھس آئے ہیں جو وہاں پر ہمارے مندروں اور دکانوں کو لوٹ رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ غوث پور میں پھنسے ہوئے لوگوں کو صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے لیکن حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہے۔

سلطان محمد، ضلع ہرنائی

یہاں ہمارے علاقے میں بڑے پیمانے پر پانی آیا ہوا ہے۔ یہاں پر تقریباً تین سو گھر متاثر ہوئے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن ہم کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ حکومت ہماری مدد کو آ رہی ہے اور نہ ہی انتظامیہ پر کوئی اثر ہو رہا ہے۔ ہم بلڈوزروں کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہمارے پاس ڈیزل نہیں ہے۔ گھر تو ہمارے چلے گئے لیکن ہمیں اشیائے خوردو نوش کی ضرورت ہے۔

حبیب الرحٰمن لونی، ضلع لورالائی

ہمارے علاقے میں گزشتہ دس گھنٹے سے بارش ہو رہی ہے اور پورہ علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور سے بارش ہو رہی ہے اور نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ علاقے میں کئی عورتیں اور بچے پانی میں بہہ گئے ہیں۔ حکومت نے ابھی تک کوئی امدادی کام شروع نہیں کیا ہے۔

سیلاب زدگان کی مدد اور انہیں مفید معلومات فراہم کرنے والے بی بی سی کے پروگرام ’لائف لائن پاکستان‘ میں شرکت کرنے، اپنے مسائل بتانے اور اس کے لیے جاری سرگرمیوں سے آگاہی کے لیے آپ ہمیں مفت فون کر سکتے ہیں۔ نمبر ہے 080022275

آپ اپنی رائے اردو اور پشتو میں ریکارڈ کرا سکتے ہیں۔ ریکارڈ کی گئی یہ آوازیں لائف لائن پروگرام میں شامل ہوں گی۔ یہ پروگرام دن میں تین بار پیش کیا جاتا ہے۔ نمبر ایک بار پھر 080022275

اسی بارے میں