وزیرستان: آلودہ پانی سے ہلاکتیں

وزیرستان
Image caption سیلاب کے بعد کئی علاقوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آلودہ پانی پینے سے تین بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک جب کہ سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ سینکڑوں لوگوں تک تا حال امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دور دراز پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد پیر کو کئی علاقوں میں گیسٹرو، قے اور دست کی بیماری پھیل گئی ہے۔

ان امراض کے نتیجہ میں تین بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن علاقوں میں بیماری پھیل رہی ہے ان میں موسکی، پریاٹ، اسدخیل، سیدگئی اور دوسلی شامل ہیں۔

میرانشاہ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مبارک خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اموات گندا پانی پینے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد کئی علاقوں میں صاف پانی دستیاب نہیں ہے اور بچوں کے علاوہ خواتین اور مردوں میں بھی امراض پھیل رہے ہیں۔ اگر ان کا بر وقت علاج نہیں کیا گیا تو مذید ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں گیسٹرو کے لیے استمعال ہونے والی ڈرپ کی کمی ہے۔

دوسری جانب مقامی صحافی احسان اللہ داوڑ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ پانچ دنوں سے بجلی کی سپلائی منقطع ہے اور سیلاب کے بعد ان دور دراز علاقوں کو کسی قسم کی طبی امداد بھی نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے لیے صاف پانی دستیاب نہیں ہے اور لوگ سیلاب کا گندا پانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔