چکدرہ پل کھول دیا گیا، راستہ بحال

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں تین اضلاع اور ایک قبائلی ایجنسی کو پاکستان کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد چکدرہ پل ضروری مرمت کے بعد ہلکی ٹریفک کےلیے کھول دیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی تقریباً بیس لاکھ افراد سے زمینی رابط بحال ہو گیا ہے۔

بری کوٹ اور مالاکنڈ ایجنسی میں فوج کے آپریشنل کمانڈر بریگیڈیر سعید اللہ نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ چکدرہ پل کے حصے پانی میں بہہ جانے سے تقریباً چھ اضلاع تک گاڑیوں کی آمد و رفت اور سامان کی سپلائی مکمل طورپر منقطع تھی۔

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع اپر دیر، لوئر دیر، چترال، باجوڑ ایجنسی اور ضلع سوات کے کچھ علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے کےلیے واحد ذریعہ یہی چکدرہ پل ہے اور اس کی بندش سے لاکھوں سیلاب متاثرین بھی مشکلات کا شکار رہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی دنوں کے کوششوں اور ضروری مرمت کے بعد چکدرہ پل پر ایک مرتبہ پھر گاڑیوں کی آمد و رفت بحال کردی گئی ہے جس سے بالائی سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع کی طرف جانے والے تمام راستے کھول گئے ہیں۔

آپریشنل کمانڈر کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سوات اور دیگر اضلاع میں تمام بڑے بڑے پل اور رابط سڑکیں پانی میں بہہ چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع سوات میں صرف چالیس سے پچاس پل سیلابی پانی میں تباہ ہوچکے ہیں۔

بریگیڈیر سعید اللہ نے مزید بتایا کہ دیگر علاقوں میں بھی پلوں کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے اور امید ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں میں تمام سڑکوں پر ٹریفک بحال کردی جائیگی۔

خیال رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سب زیادہ تباہی وادی پشاور اور مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں ہوئی ہیں جہاں جانی و مالی نقصانات کے علاوہ انفرسٹرکچر کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

ادھر دوسری طرف بالائی سوات اور ضلع کوہستان کے چند علاقوں میں سیلاب کو آئے ہوئے دو ہفتے گزرگئے ہیں لیکن ان علاقوں تک زمینی راستے بدستور بند ہے جس سے لاکھوں افراد کو خوراک کی قلت اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بالائی سوات کے علاقے کالام اور بحرین بدستور ملک کے دیگر حصوں سے کٹے ہوئے ہیں اور یہاں راستوں کی بندش کے باعث لوگوں کوایک آٹے کا تھیلا لینے کےلیے چالیس پچاس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

اس طرح ضلع کوہستان میں بھی سڑکیں اور پل پانی میں بہہ جانے سے کئی علاقوں تک رسائی بدستور منقطع ہے جس سے لوگ خوراک کی قلت کا شکار ہوگئے ہیں۔ کوہستان کے ایم پی اے عبد الستار خان کے مطابق دو دن پہلے وادی کندیہ میں پانچ بچے بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں