جب دریا آزاد ہوا !

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی چھٹی کڑی جس میں وسعت اللہ خان میانوالی کے بعد کالا باغ جاتے ہیں۔

جمعہ تیرہ اگست

،تصویر کا کیپشن

دریائے سندھ کے پانی نے کالا باغ کے سبزیاں، جوار، باجرہ، چاول اور دالیں پیدا کرنے والے کھیتوں کو ریت ملی مٹی سے مہربند کردیا ہے

کل دن بھر میانوالی میں کوئی خاص کام نہیں کرسکا۔صرف مرکزِ شہر کا چکر لگایا۔میانوالی ایک ثقافتی ٹی جنکشن پر واقع ہے جہاں اکثریتی اعوان اور نیازی برادریاں سیاسی طور پر ہم آہنگ ہوں نہ ہوں مگر پنجاب، صحرائے تھل اور خیبر پختون خواہ کے لسانی و عمرانی اثرات ایک دوسرے سے گلے ضرور ملتے ہیں۔

شہر کے عمومی ماحول سے لگتا ہی نہیں کہ دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر واقع کالاباغ اور تحصیل عیسیٰ خیل میں سیلاب نے زندگی پلٹ دی ہوگی۔نہ چندہ جمع کرنے والوں کا سٹال، نہ نگاہوں میں آنے والی امدادی رسد کی نقل و حرکت۔البتہ مقامیوں کی عمومی گفتگو میں ضرور موجِ تشویش کبھی کبھی ابھر آتی ہے۔

آج صبح دس بجے کالا باغ کی جانب روانگی ہوئی۔میانوالی سے لگ بھگ چالیس بیالیس کلومیٹر پر دریائے سندھ کے کنارے پہرہ دینے والی آخری پہاڑی پر بسا ہوا کالا باغ دور سے ایک چھوٹا سا قصبہ نظر آتا ہے۔لیکن اس کا دامن کئی تاریخ نے پکڑ رکھا ہے۔

بزرگ سیاسی کارکنوں کو کالا باغ نواب امیر محمد خان کے دورِ سخت گیر کی یاد دلاتا ہے جب ساٹھ کے عشرے میں پورا مغربی پاکستان گورنر نواب صاحب کی گھنی نوکیلی مونچھوں کی الگنی سے اس طرح معلق تھا کہ ایوب خان کو بھی اپنا تخت ہلتا محسوس ہوتا تھا۔لیکن نواب صاحب بعد از سبکدوشی کسی دل جلے کے ہاتھوں نہیں اپنے ہی ایک فرزند کی گولی کا نشانہ بنے۔

ستر کے عشرے کے ترقی پسندوں کو کالا باغ نواب خاندان کے جورو ستم کے خلاف اٹھنے والی مقامی عوامی تحریک بغوچی کی یاد دلاتا ہے۔جو بظاہر دبا دی گئی لیکن اس کے اثرات نے بلاخر نوابین کو روایتی کروفر سمیت آسمان سے اتار کر زمین پر کھڑا کردیا۔ چھوٹے صوبوں کے قوم پرستوں کو یہ شہر اس متنازعہ ڈیم کی یاد دلاتا ہے جو نہ بنا ہے نہ شاید کبھی بنے گا۔

اگر نہیں بدلا تو کالا باغ کی دہلیز پر بہنے والا دریائے سندھ نہیں بدلا۔چشمہ اور جناح بیراج بھی اس منہ زور کے پاؤں میں بیڑی نہ ڈال سکے۔

جب جیپ پچاس منٹ کے سفر کے بعد کالا باغ میں داخلے کے پل پر پہنچی تو عجیب و غریب سا ماحول تھا۔انیس سو اٹھائیس میں انگلستان کے مڈلینڈ کے کارخانوں میں ڈھلنے والا یہ پل اگر دنیا کا نہیں تو کم ازکم جنوبی ایشیا کا واحد ریلوے برج ہے جس پر سوائے ریل کے ہر سواری چلتی ہے حالانکہ یہ اب سے چھبیس برس پہلے اپنی تکنیکی عمر پوری کر چکا ہے۔

شروع میں موٹا موٹا لکھا ہے کہ یہ پل خطرناک ہے اور ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند ہے۔اس کے باوجود بمپر ٹو بمپر ٹریفک رواں ہے۔کالا باغ والے بھی عجیب ہیں۔جب اس پل سے رپٹ کر کچھ لوگ دریا میں جاگرتے ہیں تو عوام اسے بند کرنے کے لیے مظاہرے کرتے ہیں۔جب پل بند ہوجاتا ہے تو کچھ عرصے بعد اسے کھولنے کے لیے جلوس نکالتے ہیں۔

ان دنوں اس وضع دار ہانپتے کانپتے ضعیف پل پر ٹریفک کا دباؤ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس سے کچھ پرے جناح اور چشمہ بیراج دریائے سندھ میں سیلابی دباؤ بڑھنے کے سبب ٹریفک کے لیے اچانک بند کردیے جاتے ہیں۔

میں پل پر ٹریفک جام ہونے کے سبب جیپ سے اتر گیا۔کیا خوبصورت منظر ہے۔دائیں جانب دریائے سندھ تنگ پہاڑی راستے سے آزاد ہو رہا ہے اور پل کے بائیں جانب یہی دریا تھکن اتارنے کے لیے کھلے میدان میں بازو کھولتے ہوئے دور تک پاؤں پسار رہا ہے۔

اگر فضا سے دیکھا جائے تو اس مقام پر دریا غالبً ایک ایسی بڑی بوتل کی صورت نظر آئے گا جس کا پیندا پھیلتا ہی چلا جا رہا ہو۔اگر پل پر کھڑے ہو کر کالا باغ کی جانب دیکھا جائے تو پہاڑی کا وہ سرا موجود ہے جس پر سے لگ بھگ آٹھ سو برس پہلے وسطی ایشیا کی ترک سلطنت کے جری بادشاہ جلال الدین خوارزم شاہ نے خون کے پیاسے چنگیز خان کے لشکر سے جان بچانے کے لیے گھوڑے سمیت دریا میں چھلانگ لگا دی۔

چنگیز خان نے پہاڑیوں کے چنگل سے آزاد ہوتے دریا کو میدان میں پھیلتے ہوئے نگاہوں سے تولا اور منگول سپاہیوں کو خوارزم شاہ کے پیچھے کودنے سے یہ کہہ کر منع کر دیا ’ رک جاؤ۔یہ ترکستان کا کوئی دریا نہیں ہے‘۔

جب میں بلاخر صحیح سلامت پل کے پار اترا تو میں نے دیکھا کہ دریا چھلک رہا ہے اور اس کا پانی شہر میں جانے کے لیے پھر سے بے تاب ہے۔کالا باغ شہر میں متحرک ایک فلاحی این جی او کارواں کے دوستوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے ہی چھ چھ فٹ دریا شہر میں گھس گیا تھا اور دو دن پہلے بڑی منت سماجت کے بعد نکلا ہے۔سڑکوں کے اطراف کیچڑ کی موٹی تہیں دریا کی رخصتی کی گواہی دے رہی تھی۔

دریائے سندھ کے پانی نے کالا باغ کے سبزیاں، جوار، باجرہ، چاول اور دالیں پیدا کرنے والے کھیتوں کو ریت ملی مٹی سے مہربند کردیا ہے۔ ماڑی انڈس، داؤد خیل اور پائی خیل میں ستر فیصد مکانات ختم ہوگئے ہیں۔

مگر میں کالا باغ سے گذر کر تحصیل عیسیٰ خیل جانا چاہ رہا ہوں یہ دیکھنے کے لیے کہ دریا نے اس علاقے کے ساتھ کیا سلوک کیا جہاں کبھی معروف ادیب پنڈت دیا شنکر نسیم کا گھر بھی آباد تھا۔اور ان سے بھی زیادہ مشہور ان کے والد تلوک چند محروم کی نظم آبِ سندھ کبھی جماعت ہفتم کے نصاب میں شامل تھی۔

اس زندگی سے ہم کو نہ دنیا ملی نہ دیں

تقدیر کا مشاہدہ کرتے گذر گئی

بس اتنا ہوش تھا مجھے روزِ وداعِ دوست

ویرانہ تھا نظر میں، جہاں تک نظر گئی

ہر موجِ آبِ سندھ ہوئی وقفِ پیچ و تاب

محروم جب وطن میں ہماری خبر گئی

دوپہر کا سوا ایک بج رہا ہے۔کالا باغ شہر کا کاروبار نمازِ جمعہ کے لیے بند ہو رہا ہے اور مجھے عیسیٰ خیل پہنچنے کے لیے مزید پچاس کلومیٹر ناپنے ہیں۔