’پندرہ بیس فیصد لوگوں کو امداد ملی ہے‘

Image caption بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی مطلوبہ خوراک اور صاف پانی دستیاب نہیں

سندھ میں سیلاب زدگان کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کے وسائل پر دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

صوبہ سندھ میں سکھر شہر میں اس وقت سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد موجود ہے، جن میں سے کچھ کیمپوں میں تو کچھ سڑکوں اور درختوں کے نیچے پڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

امدادی ٹیمیں نظر نہیں آ رہیں: آڈیو

حکومت نے متاثرین کی تعداد چھتیس لاکھ سے زائد بتائی ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے بیس لاکھ متاثرین کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے لیے خیموں کی اشد ضرورت ہے۔

سکھر میں قائم متاثرین کے کیمپوں میں انتظامیہ کا نام و نشان نظر نہیں آتا، اکثر کیمپوں میں ڈاکٹر یا میڈیکل اسٹاف نہیں، بعض کیمپوں میں ڈاکٹر ایک دو روز موجود تھے جو اب کہیں نظر نہیں آ رہے۔ ایک کیمپ میں موجود عبدالحکیم نامی شخص کے پاؤں میں زخم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچے میں سیلابی پانی میں سے نکلتے ہوئے انہیں چوٹ آئی اور ’یہاں ڈاکٹر تو نہیں آیا وہ دوسری کیمپ میں جاکر دوائی لے کر آئے ہیں‘۔

محمد لقمان کے پانچ بچے جلدی امراض میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’چار روز پہلے ڈاکٹر آیا تھا اور اس نے دو دو گولیاں اور پانچ بچوں کے لیے ایک مرہم دیا تھا اس کے بعد ڈاکٹر کا نام و نشان نہیں جبکہ بچے تکلیف میں ہیں‘۔

ایک نجی کمپنی کے کیمپ پر موجود رضاکار نفیسہ شہزاد نے بتایا کہ بچوں کے لیے دودھ دستیاب نہیں ہے کیونکہ جو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جارہا ہے وہ بڑوں کے لیے ہے اور بچوں کی خوراک فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی تصدیق چار کیمپوں میں سے صرف ایک کیمپ پر موجود سینئر ڈاکٹر ظہیر احمد نے بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی مطلوبہ خوراک اور صاف پانی دستیاب نہیں ہے، اس کے علاوہ جلدی امراض اور آنکھوں میں انفیکشن بھی ہے۔

خوراک کی تقسیم کے دوران جھگڑے اور تصادم بھی ہو رہے ہیں، جس کے باعث ہر کیمپ میں رضاکار اور چوکیدار مقرر کیے گئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بیس لاکھ متاثرین میں سے سرکاری کیمپوں میں صرف دو لاکھ لوگ موجود ہیں۔ صوبائی مشیر اطلاعات جمیل سومرو کا کہنا ہے کہ کافی لوگ درختوں اور سڑکوں پر بیٹھے ہوئے حکومت ان کا بھی شمار متاثرین میں کرتی ہے مگر یہ لوگ اپنے مال مویشیوں کے باعث کیمپوں میں نہیں رہتے۔

’یہ ایک المیہ ہے اس کے باعث دیگر جگہوں پر دیگر چھوٹے چھوٹے المیے جنم لیں گے، یہ صرف حکومت کے بس کی بات نہیں ہے، اس میں معاشرے کے ہر فرد کو حصہ لینا پڑے گا، عالمی اور مقامی برادری کو ہمارا ہاتھ باٹنا پڑے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جن کا مال مویشی ڈوب گئے ہیں ان میں فرسٹریشن ضرور ہوگی۔ جب انسان گھر میں ہوتا ہے تو وہاں کھانے اور آرام ایک وقت مقررہ ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس اتنی افرادی قوت نہیں ہے کہ ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو وقت پر تیار خوراک پہنچا سکیں۔ کیونکہ ایک جگہ کھانا پک رہا ہے اسے دوسری جگہ لے جانا پڑتا ہے۔ وہاں نظم و ضبط نہیں رہتا اور افرا تفری پھیلتی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں بھی ایسے المیے جنم لیتے ہیں وہاں ایسی صورتحال جنم لیتی ہے‘۔

پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے اہلکار فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ صورتحال دن بدن شدید ہوتی جارہی ہے اور خدشہ ہے کہ ہزاروں لوگ بھوک اور بیماری سے نہ مر جائیں۔ ’ لوگوں کو جس قدر مدد اور ریلیف کی ضرورت ہے وہ نہیں مل رہا، مشکل سے پندرہ بیس فیصد لوگوں کو ہی مدد پہنچ رہی ہے جس وجہ سے متاثرین سکھر سے آگے کے شہروں اور قصبوں کا رخ کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ روزانہ نو سو کلو چاول پکا کر فراہم کر رہا اور اس سے زیادہ کی ان میں طاقت نہیں ہے، بقول ان کے کئی ایسی تنظیمیں تھیں جو تین چار دن یہاں رہیں اور واپس جا رہی ہیں جس وجہ سے خلا کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔

فیصل ایدھی کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے کی اشد ضرورت ہے، اگر ڈاکٹر آجائیں تو وہ انہیں اپنی موبائل سروس اور دوائیں فراہم کرنے کو تیار ہیں ’سندھ میں نصف درجن سے زائد میڈیکل یونیورسٹیاں اور کالیج موجود ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہاں کے ڈاکٹر اور طالب علم آخر کیوں نہیں نکل رہے‘۔

اسی بارے میں