بلوچستان:سیلاب متاثرین کی تعداد دس لاکھ

Image caption بلوچستان میں سیلاب متاثرین کو خوراک اور صاف پانی کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے

بلوچستان میں فوجی حکام کے مطابق صوبے میں سیلاب متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹینٹ جنرل جاوید ضیاء نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ان میں سے چھ لاکھ کا تعلق سندھ سے ہے جو پہلے مرحلے میں سیلاب آنے کے بعد بلوچستان کے ڈیرہ اللہ یار آئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اب ڈیرہ اللہ یار کے سیلابی پانی میں ڈوب جانے کے بعد یہ لوگ ڈیرہ مراد جمالی اور دوسرے علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔

بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے بعد ڈیرہ مراد جمالی میں صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا متاثرین کی بحالی کے لیے عالمی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔

بقول لیفٹینٹ جنرل جاوید ضیاء کے’ اس وقت پاک آرمی کے پانچ ہزازسے زیادہ جوان بلوچستان میں متاثرین کو خوراک اور ادویات کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی ایک بڑی تعداد دس دن گزرنے کے باوجود کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو سر چھپانے کے لیے خیمے ہیں اور نہ کھانا۔ جبکہ ان کی اکثریت ابھی تک مبینہ طور پر سیلابی پانی پینے پر مجبور ہیں جس کے باعث بچوں اور خواتین میں پیٹ اور جلد کی مختلف بیماریاں پھیل چکی ہیں۔

سندھ سے تعلق رکھنے والوں میں سے اکثریت نے شکایت کی ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی کی انتظامیہ صرف بلوچستان کے لوگوں کی امداد کر رہی ہے اور سندھ والوں کو کچھ بھی نہیں دے رہی ہے۔ جبکہ بلوچستان کے متاثرین نے کہا کہ یہاں کے سیاسی نمائندے صرف ان لوگوں کی امداد کر رہے ہیں جو ان کے ووٹرہیں۔

سندھ سے آئے ہوئے ان متاثرین نے بتایا ہے کہ تو وہ بے سرو سامانی کی حالت میں گھروں سے ایک جوڑا کپڑا پہن کر ہنگامی حالت میں بچوں اور خواتین کے ہمراہ نکلے تھے اور جب بلوچستان میں داخل ہوئے تو ٹرک اور دیگر گاڑی مالکان نے کرایہ کی صورت میں ان سے ہزاروں روپے وصول کیےاور اب تو ان کے پاس واپس جانے کا کرایہ بھی نہیں ہے۔

حکومتِ بلوچستان اور غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ متاثرین کو تمام ضرروت کی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر واقع ڈیرہ مراد جمالی شہر کے آس پاس موجود ہزاروں کی تعداد میں سیلاب زدگان شدید گرمی میں سیلابی پانی استعمال کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔

البتہ سبی میلہ نمائش گراونڈ میں پانچ ہزار افراد کے لیے قائم کیمپ میں متاثرین کو دو وقت سادہ چاول کے صورت میں کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ وہاں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ وہ چاول کھا کر گزارہ کر لیں گی مگر اس کے شیر خوار بچے کے لیے دودھ نہیں ہے۔

بلوچستان کے متاثرین نے شکایت کی کہ صوبائی وزراء فوجی حکام اور این جی اوز کے لوگ بھی صرف میڈیا کے سامنے امدادی سامان تقسم کرتے ہیں اور ٹینٹ بھی ان لوگوں کو دیے جاتے ہیں جو سڑک کے قریب روکے ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں کچھ نہیں ہو رہا ہے جو سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر متاثرین سے بوجھل ہیں۔

اسی بارے میں