متاثرین کا رخ بلوچستان کی طرف

Image caption لوگ گدھا گاڑیوں پر سامان لادے بلوچستان کی جانب رواں دواں ہیں

صوبہ سندھ کے اضلاع قمبر شہداد کوٹ اور جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے ہزاروں متاثرین نے صوبہ بلوچستان کا رخ کر لیا ہے۔

شہداد کوٹ کی تحصیل قبو سعید خان سے انخلاء کے اعلان کے بعد لوگ بلوچستان کے بالائی علاقوں جھل مگسی، باریچہ، گنداخہ اور ان دیگر علاقوں کی طرف جا رہے ہیں جو محفوظ بتائے جاتے ہیں۔

ٹریکٹر ٹرالی پر اپنے خاندان کے ساتھ گنداخہ جانے والے نور محمد بروہی کا کہنا تھا کہ انہیں اور کوئی جگہ سمجھ میں نہیں آ رہی تھی، اس لیے انہوں نے بلوچستان کا رخ کیا ہے۔ان کے مطابق قبو سعید خان میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی ہے، ان کے پاس گندم موجود ہے جسے وہ پسوا کر لیجانا چاہتے ہیں مگر آٹے کی کچھ چکیاں بند ہیں اور کچھ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث نہیں چل رہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے انخلاء کے اعلان کے بعد سے اب تک شہر سے ستر فیصد لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل چکے ہیں۔

قبو سعید خاں قبو نہر پر ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دہنی بخش نے امکانی سیلاب کا یہاں ہی بیٹھ کر سامنے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جن کے پاس پیسے تھے وہ چلے گئے میرے پاس اتنی رقم نہیں اس لیے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘۔

شہر کی اکثر دکانیں اور پیٹرول پمپ بند ہیں جبکہ پیٹرول ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے، ایک شہری علی محمد بھٹی نے بتایا کہ اب راشن دستیاب نہیں ہے اور سبزی بھی نہیں آرہی ہے اس لیے انہیں دشواری ہو رہی ہے، ’اس کا یہ ہی حل ہے کہ یہاں سے نکل جائیں‘۔

علاقے میں پبلک ٹرانسپورٹ زیادہ تر بند ہوگئی ہے، لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں، ٹرکوں اور گدھا گاڑیوں کی ذریعے آگے کے شہروں کی طرف جا رہے ہیں۔ مسمات راستی اپنے گدھا گاڑی پر تھوڑا بہت سامان لیکر نکل پڑیں ہیں مگر انہیں سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ انیس سو ستر کی دہائی میں جب سیلاب آیا تھا تو اس وقت ان کی عمر بارہ سال تھی اس وقت بھی انہیں گاؤں چھوڑنا پڑا تھا اور کوئی تین ماہ کے بعد واپسی ہوئی تھی اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر کب واپس ہوگئی اور ان کے تین بیٹے اور ان کے پندرہ بچے کہاں سے کھائیں گے اور کیا کریں گے۔

پکی سڑک سے محروم قبو سعیدخان تحصیل ڈھائی لاکھ کی آْبادی پر مشتمل ہے، جس کی اکثریت مزدور اور زراعت پیشہ ہے۔ شہر کو ایک طرف سیف اللہ کینال، دوسرے طرف کھیر تھر کینال اور تیسرے طرف سیلابی پانی سے خطرہ لاحق ہے۔ یہ پانی جیکب آْباد اور گڑہی خیرو سے ہوتا ہوا قبو سعید خان کی طرف بڑہ رہا ہے اسی خطرے کے باعث انتظامیہ نہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی۔

قبو سعید خان سے پچیس کلومیٹر دور واقع پانچ لاکھ آْبادی کے شہر شہداد کوٹ میں گزشتہ دو دن سے افراتفری کا ماحول ہے، شہر کو بیگاری فیڈر، آر بی او ڈی سیم نالے اور کھیر تھر کینال سے خطرہ ہے، شہر سے باہر مٹی سے ایک حفاظتی بند تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ سیم نالے کے پانی کو روکا جاسکے۔

شہداد کوٹ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انخلا کا کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا مگر پھر بھی لوگوں میں خوف وہ ہراس پھیلا ہوا ہے اور دو روز سے لوگ شہر خالی کر رہے ہیں۔

جمیل بھٹی نامی شہری کے مطابق ساٹھ فیصد آبادی اپنے رشتے داروں اور جاننے والوں کے پاس چلی گئی ہے جن کی جان پہچان نہیں ہے انہیں پریشانی ہے کہ وہ کہاں جائیں۔

بلوچستان کے علاقوں اوستہ محمد، گنداخہ، جھل مگسی کا زمینی اور تجارتی رابطہ شہدادکوٹ سے ہے، ٹھل اور گڑہی خیرو کے علاوہ بلوچستان سے آنے والے سیلاب متاثرین کی بھی یہاں ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ جو اب اگلی منزل کے لیے روانہ ہوگئے ہیں ۔

سواریوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹروں نے بھی کرایوں میں پچاس سے سو فیصد اضافہ کردیا ہے، انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ متاثرین کے لیے گاڑیاں فراہم کی جائیں گی اور شہدادکوٹ سے چلائی جائیگی مگر بعد میں فنی بنیاد پر اس کوموخر کردیا گیا، لوگوں کو لاڑکانہ پہنچنے کی ہدایت کی گئی جہاں سے ٹرین ڈھائی ہزار کے قریب لوگوں کو لیکر کراچی روانہ ہوئی۔

سابق تحصیل ناظم اعجاز بروہی کا کہنا ہےکہ یہاں کے لوگ چاول کی صفائی کے سیلروں پر مزدوری کرتے ہیں جبکہ کچھ کسان ہیں ان کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہیں کہ وہ بڑا سفر کرسکیں اس لیے لوگوں میں پریشانی اور تشویش پائی جاتی ہے۔

مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ حکومت اور انتظامیہ لوگوں میں خوف پھیلا کر شہر خالی کردایتی ہے مگر کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی صرف لوگوں کو دربدر کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں