’تھانہ تو ڈوب چکا ہے، کارروائی کیسے‘

سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کو جہاں اپنے سامان کے چوری ہونے کا دکھ ہے وہاں ان کو یہ بھی شکایت ہے کہ پولیس چوری کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

بقول متاثرین کے پولیس والوں کا یہ کہنا ہے کہ جب تھانے نہیں رہے تو مقدمہ درج کہاں کریں۔

جنوبی پنجاب کے ریلیف کیمپوں اور دیگر مقامات پر پناہ لینے والے سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے زیر آب آنے والے گھروں سے وہ سامان چوری ہو رہا ہے جو و اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے۔

ان متاثرین سیلاب کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر چھوڑ آئے ہیں لیکن ان یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کا سامان چوری نہ ہوجائے کیونکہ سامان چوری ہونے کی وارداتوں میں پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔

مظفر گڑھ کے نواحی علاقے محمود کوٹ کے قیصر عباس کہتے ہیں کہ ان کے زیر آب آنے والے گھر میں پڑے سامان کی حفاظت کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں ہے اور وہ تمام رات جاگ کر اپنے سامان کی حفاظت کرنے پر مجبور ہیں ۔

سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ جب پولیس کو سامان چوری ہونے کی اطلاع دیتے ہیں تو بقول ان کے پولیس والے کہتے ہیں کہ وہ آپ کا مسئلہ ہے آپ خود ہی حل کریں گے ۔

تحسین رضا نے بتایا کہ چار سے پانچ افراد کو چوری کرتے ہوئے پکڑا اور پولیس کے متعلقہ ایس ایچ او سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کیا تو ان کے بقول ایس ایچ او کا جواب تھا کہ ’تھانہ تو پانی میں ڈوب چکا ہے تو پھر مقدمہ کہاں درج کریں۔‘

انہوں نے بتایا کہ پولیس کے انکار کے بعد ان لوگوں کو چھوڑ دیا کیونکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا ہے کہ جب سیلاب کا پانی ان کے علاقے میں آیا تو لوگوں کی بڑی تعداد اپنا سامان نہیں اٹھا سکے اور ان کا دھیان اسی طرف لگا رہتا ہے کہ ان کا سامان چوری نہ ہوجائے۔

سلطان کالونی میں قائم ریلیف کیمپ کے متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں پولیس کو سامان چوری ہونے کی وارداتوں کی اطلاع دی تھی تو جواب تھا کہ ہمارے ساتھ مقدمہ درج کرنے کی بات نہ کرو کیونکہ ان حالات میں کیسے مقدمہ درج ہو۔

کیمپ میں رہنے والے حافظ غلام یاسین کا کہنا ہے کہ ان کی بستی کے پانچ گھروں میں کا سامان چوری ہوچکا ہے اور جب پولیس کو اس بات کی اطلاع دی تو بقول ان کے’ پولیس والوں نے کہا کہ کہ ہم امدادی کام کریں یا پھر تمہاری بات سنیں۔‘

سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ چور کشتیوں پر آتے ہیں اور اگر کوئی ان کو روکے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر کا سامان لے کر جا رہے ہیں اور اس طرح ان کا سامان چوری ہورہا ہے۔

خدا بخش کا الزام ہے کہ انہوں نے چوروں کو پکڑا لیکن پولیس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں بلکہ انہیں چھوڑ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ’جب پولیس والوں کو کارروائی کی درخواست کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہر طرف پانی ہے وہ جائے وقوعہ پر کیسے جائیں۔‘

کیمپ میں موجود محمد اسماعیل کا کہنا ہے کہ ’پولیس اپنے چکروں میں ہیں اور لوٹنے والے اپنے چکر میں لگے ہوئے ہیں‘۔

کیمپوں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ زیر آب علاقوں میں ان کے سامان کی حفاظت کا انتظام کیا جائے اور ایک سیلاب متاثر قیصر عباس کے بقول ان کی حفاظت کے لیے پیٹرولنگ کا بندوبست ہونا چاہیں۔

اسی بارے میں