کراچی: اے این پی کے رہنما ہلاک

فائل فوٹو
Image caption اس سے پہلے رضا حیدر کے قتل کے بعد کراچی میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ستر کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ائرپورٹ کے قریب عوامی نشینل پارٹی کے صوبائی سالار عبیداللہ یوسف زئی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

ان کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے دفتر سے واپس گھر جا رہے تھے۔ اس واقعہ میں عبیداللہ زئی کے ساتھ دفتر میں کام کرنے والے ایک ساتھی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عبید اللہ یوسف زئی کی ہلاکت کے بعد شہر میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے جن میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر نامعلوم افراد نے دس کے قریب گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل امین خٹک نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ عبید اللہ یوسف زئی قومی فضائی کپمنی پی آئی اے میں ملازم تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ پی آئی اے کے کارگور آفس سے واپس جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ان کو ہلاک کر دیا۔

اس سے پہلے رواں ماہ کے پہلے ہفتے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا حیدر کی ہلاکت کے بعد شہر میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ستر کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق کالعدم مذہبی تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔

بدھ کو کراچی میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا سلسہ دوبارہ شروع ہوگیا تھا اور تین دنوں میں ایک پولیس افسر اور ڈاکٹر سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں لشکر جھنگوی جیسی کالعدم مذہبی تنظیمیں ملوث ہیں اور پولیس ان عناصر کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اسی بارے میں