پچاس کروڑ ڈالر وصول، ’مزید ہیلی کاپٹرز درکار‘

عالمی برادری نے پاکستان میں سیلاب سے ہوئی تباہی کے متاثرین کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد دی ہے اور سب سے زیادہ امداد دینے والے ممالک میں امریکہ، سعودی عرب اور برطانیہ شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ بروگرام کے پاکستان میں سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیے چالیس مزید ہیلی کاپٹر درکار ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں سیلابی ریلا ڈیرہ اللہ یار کے بعد روجھان جمالی میں بھی داخل ہو گیا ہے جہاں پانی کی سطح نو فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ میں صورتحال بدستور سنگین ہے تاہم پنجاب میں پانی اترنا شروع ہوگیا ہے۔

بھارت کی پچاس لاکھ ڈالر کی امداد قبول

’پاکستان کو ایک سست رفتار سونامی کا سامنا‘

’خوراک کی گھریلو ذخیروں کی تباہی‘

کالام شہر سیلاب سے دو حصوں میں تقسیم: تصاویر

متاثرین کھلے آسمان تلے، خیمے چاہئیں

عالمی امداد

فنانشل ٹریکنگ سروس جو اقوام متحدہ کا ایک ڈیٹا بیس ہے جو تمام امداد کا ریکارڈ رکھتی ہے کے مطابق جمعہ کو رات گئے تک چار سو نوے ملین ڈالر کی امداد پاکستان کے سیلاب سے متاثر افراد کے لیے دی گئی ہے۔

اس سروس کے مطابق تین سو پچیس ملین ڈالر مزید امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تاہم اس امداد میں اقوام متحدہ کی جاری کردہ اپیل کی مد میں دو سو تریسٹھ ملین ڈالر وصول ہوئے ہیں۔یہ امداد اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی جانے والی اپیل کا ستاون فیصد ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاکستان میں سربراہ ولگ گینگ ہربنگر نے کہا ہے کہ متاثرین تک فوری طور پر امداد پہنچانے کے لیے چالیس ہیلی کاپٹرز درکار ہیں۔

’ہمیں ہیلی کاپٹرز کی فوری ضرورت ہے۔‘

اقوام متحدہ نے جمعہ کے روز مزید پانچ ہیلی کاپٹر حاصل کیے ہیں اور اب عالمی تنظیم کے کُل پندرہ ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔

سندھ پر دباؤ

نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلا سیہون اور ضلع مٹیاری کے قریب سے گزر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیہون میں دریائے سندھ پر کوئی حفاظتی بند نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی دور دور تک پھیل گیا ہے۔ دریائے سندھ کے بائیں جانب واقع ضلع مٹیاری کے حفاظتی بند پر سیلاب کا دباؤ ہے اور وہاں سیلاب کی وجہ سے بیس کے قریب دیہات زیر آب آ گئے ہیں جہاں سے آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاھ نے کہا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ اور میرو خان کے شہروں اور انسانی آْبادیوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔سیلاب کا پانی اور بلوچستان سے آنے والا پانی حمل جھیل سے اب منچھر جھیل میں چھوڑا جائیگا۔

انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ آنے والے پانی سے شہروں میں خیرپور ناتھن شاھ اور میھڑ شہر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، اگر دریا کی سطح بلند ہوئی اور منچھر کی سطح کم تو تاریخی شہر سیوھن اور آس پاس کے دیہات کو خطرہ ہوسکتا ہے اس حوالے سے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں

شھدادکوٹ

صوبہ سندھ کے علاقے سجاول جونیجو کے بعد سیلابی پانی شھدادکوٹ کے قریب پہنچ گیا ہے اور مقامی انتظامیہ نے بوڑھے افراد، عورتوں اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان

بلوچستان کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے برساتی پانی کے باعث ضلعی انتظامیہ نے فرید آباد شہر سمیت چھوٹے بڑے تین سو کے قریب دیہاتوں کو وارننگ جاری کی ہے۔

بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں سیلابی ریلا ڈیرہ اللہ یار اور روجھان جمالی میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث شہر زیر آب آ گیا۔

ڈیرہ اللہ یار اور روجھان جمالی میں نو فٹ سے زائد پانی کھڑا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ڈیرہ اللہ یار کے بعد تحصیل گنداخہ میں گذشتہ شب سیلابی ریلا داخل ہوا جس کے باعث پچیس دیہات اب تک مکمل طور پر زیر آب آچکے ہیں اور چالیس ہزار افراد متاثرہوئے ہیں

۔

متاثرین تاحال کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جبکہ پانچ سو مکانات بھی زمین بوس ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ سولہ سو سے زیادہ افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے جن میں سے تین سو افراد کا انخلاء ہیلی کاپٹروں ذریعے مکمل ہوچکا ہے۔

نصیر آباد کے بچاؤ بند ٹوٹنے کے باعث تحصیل تمبو کے بیس دیہات زیر آب آچکے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد محفوظ مقامات پر اپنی مدد آپ کے منتقل ہورہے ہیں۔

جبکہ ضلع جعفر آباد میں سیلابی پانی اس وقت تحصیل تمبو پنہچ چکا ہے جہاں سے یہ پانی ضلع جھل مگسی سے ہوتا ہوا دوبارہ شہداد کوٹ کے مقام پر سندھ میں داخل ہوگا۔

پنجاب

حکام کے مطابق جنوبی پنجاب میں سیلاب کی صورت حال بہتری کی طرف گامزن ہے اور کئی علاقوں میں پانی نیجے اتر رہا ہے جبکہ پیچھے سے کوئی بڑا سیلابی ریلا بھی نہیں آرہا ۔

پنجاب کے ریلیف کمشنر اخلاق تارڑ نے بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق کو بتایا کہ ضلع لیہ میں تو کافی حد تک سیلابی پانی اتر گیا ہے جبکہ مظفر گڑھ میں شگاف پڑنے سے جو پانی نکل رہا تھا اسے بند کرنے کے لیے شگافوں کو پر کیا جارہا ہے۔

پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے ڈی سی او فراست اقبال کا کہنا ہے کہ تونسہ براج میں پانی میں کمی آئی ہے جس کے باعث ضلع میں پانی اترنا شروع ہو گیا ہے۔

ریلیف کشمنر اخلاق تارڑ نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کو جو نقصان ہوا ہے اس کا تخمینہ لگانے کے لیے میانوالی ، بھکر اور لیہ میں سروے شروع کردیا گیا جبکہ بقول ان کے یہ امکان ہے کہ مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان ، راجن پور اور رحیم یار خان میں آئندہ ہفتے یہ سروے شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سیلاب متاثرین کو گھروں کی تعمیر کے لیے رقم جلد از جلد دی جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر شروع کرسکیں۔

دوسری جانب جنوبی پنجاب کے زیر آب آنے والے علاقوں میں وباہی امراض کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان امراض کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور بوڑھوں کی ہے۔

محکمۂ موسمیات

محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمرالزمان چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس وقت کوٹڑی بیراج سے سات لاکھ پچہتر ہزار کیوسک کے قریب سیلابی ریلا گزر رہا ہے اور آئندہ چند روز میں امکان ہے کہ یہ آٹھ لاکھ پچہتر ہزار کیوسک کے قریب پہنچ جائے گا‘۔

انھوں نے کہا کہ جب یہ ریلا سمندر میں گرنا شروع ہوگا تواُس وقت مدوجزر کی وجہ سے سمندر میں اونچی لہریں اٹھ رہی ہوں گی جو ریلے کو سمندر میں گرنے کے عمل کو سست کر دیں گی۔

انھوں نے کہا کہ سیلابی ریلے کے سمندر میں گرنے کا عمل جب سست ہو گا تو امکان ہے کہ کوٹری اور سمندر کےدرمیانی علاقوں میں وسیع رقبہ زیرِ آب آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں