ایسوں کا کیا کریں؟

متاثرہ خاتون
Image caption ایک متاثرہ خاتون نوزائدہ بچی کے ساتھ۔

اب تک درست طور پر یہ بھی طے نہیں ہو پا رہا کہ کتنے لوگ اجڑے ہیں، کتنے مرے ہیں، کتنے لاپتہ ہیں، کتنے مویشی، فصلیں اور زمینیں صاف ہوگئی ہیں۔ کس کس کے گھر بہہ گئے ہیں۔ جنھیں آج کھانا ملا ہے، کل ملے گا یا نہیں۔ جنھیں ذرا دیر پہلے صاف پانی کی بوتل ہاتھ آئی ہے۔ انھیں پھر ایک اور نصیب ہوگی یا وہ اسی بوتل کا پانی پی کر اسی میں جوہڑ کا پانی بھر لیں گے۔

مگر اس کڑے وقت میں بھی آفرین ہے ان لوگوں پر جو ہر المیے کو سنہری موقع سمجھ کر ایجنڈا آگے بڑھانے سے باز نہیں آتے۔

اس وقت متعدد سیلاب زدہ علاقوں میں آپ کو ایسے گروہ نظر آئیں گے جو ویگن اور کوسٹرز لے کر جگہ جگہ گھوم رہے ہیں۔ یہ گروہ خیمے، خوراک، ادویات اور صاف پانی کے بجائے سکتے کے شکار فاقہ زدہ متاثرین کو بذریعہ میگا فون خوف، ڈر اور عبرت سپلائی کر رہے ہیں۔

’تمھارے اعمال ہی ایسے تھے کہ یہ عذاب آنا تھا۔ توبہ کرو۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ حرص کرنی ہے تو بعد از آخرت زندگی کی حرص کرو۔ یہ تکالیف نہیں آزمائش ہے۔ جس کا اگر یہاں نہیں تو وہاں ضرور اجر ملے گا‘۔

یقیناً یہ سب وعظ اور نصیحتیں بہت اچھے ہیں لیکن جب پیٹ خالی ہوں۔ جب حاملہ عورتیں ہر چلتی گاڑی کو امدادی گاڑی سمجھ کر پیچھے پیچھے بھاگ رہی ہوں۔ جب بچے خوراک کی تقسیم کے وقت اپنے ہی بڑوں کے پیروں تلے آ رہے ہوں اور جب بڑے چھینا جھپٹی کے دوران پولیس کے ڈنڈوں کی زد میں آ رہے ہوں ۔ کیا یہ وقت وعظ اور نصیحت کے لیے مناسب ہے؟

ایک اور گروہ بھی ہے جو صرف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ذریعے اپنی آرام کرسیوں میں بیٹھا سیلابی قیامت کا نظارہ کر رہا ہے اور میدان میں لنگوٹ باندھ کر کودنے کے بجائے سیمیناروں اور بیانات کے ذریعے مصیبت زدگان کی مدد کر رہا ہے۔

مثلاً کالا باغ ڈیم بن جاتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس گروہ کے خیال کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ جیسا سیلاب اس سال آیا ہے اب ہر سال آئے گا۔

فرض کریں کہ اب ہر سال ایسا ہی خوفناک سیلاب آئے گا اور اس بنیاد پر کالا باغ ڈیم بھی بن جائے تو بھی کیا ہوگا ؟ کالا باغ ڈیم کتنا پانی روک لے گا۔ دس لاکھ کیوسک، بیس لاکھ کیوسک؟ باقی ایک کروڑ کیوسک سے زائد پانی کا کیا ہوگا جو پچھلے تین ہفتے سے لگاتار گذر رہا ہے اور اگر اگلے دس برس تک اتنا بڑا سیلاب نہ آیا تو پھر کیا ہوگا؟ کتنوں کو معلوم ہے کہ تربیلا اور منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی اصل گنجائش آدھی رھ گئی ہے۔ کالا باغ ڈیم صرف تربیلا اور منگلا کی اوریجنل گنجائش کا بقیہ آدھا پانی ہی ذخیرہ کر پائےگا۔

مسئلے کا حل کالا باغ ڈیم بتانے والے کبھی بھی یہ نہیں بتائیں گے کہ نہروں اور کھیت تک پانی پہنچانے والی آبی گذرگاہوں کو اگر پکا کر دیا جائے تو ایک کالا باغ ڈیم کے برابر پانی مفت میں بچ سکتا ہے۔ اگر پہاڑی علاقوں کو اندھا دھند درختوں سے محروم نہ کیا جائے تو یہ درخت تیس فیصد سیلابی پانی کو دریا میں آنے سے پہلے روک لیں گے۔ اگر دریائی گذرگاہوں میں تجاوزات نہ کی جائیں تو بیش تر سیلابی پانی آسانی سے گذر جائے گا۔

ایک اور گروہ بھی ہے جو اس وقت پاکستان کے ایک قدیم اشاعتی ادارے کے مدیر مالک کی قیادت میں دانشوری کے چپو چلا رہا ہے۔ اس گروہ کا خیال ہے کہ یہ سیلاب بھارت کی سازش ہے۔ جس کے انجنیروں نے نہ صرف اضافی پانی پاکستان کی طرف دھکیل دیا بلکہ افغان حکومت کو ورغلا کر دریائے کابل میں بھی اضافی پانی چھڑوا دیا۔ مدیرِ موصوف کی تجویز ہے کہ پاکستان بھارت کی امداد مسترد کر دے اور بھارتی ڈیموں کو بم مار کر اڑا دے ۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

تو کیا دماغی امراض کے شفا خانے بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں؟

اسی بارے میں