امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام، تین ہلاک

وزیرستان
Image caption ہلاک ہونے والوں میں دو کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وجنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے دو کا تعلق شمالی اور ایک کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا جاتا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو بتایا کہ اتوار کی صُبح جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانامیں شہر سے پانچ کلومیٹر دور مغرب کی جانب علاقہ دژاغونڈئی میں ایک مقامی شخص کی لاش ملی ہے جس کو فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق مُبینہ جاسوس کا نام صالح خان بتایا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل صالح خان کو نامعلوم مُسلح افراد نے اپنے گھر کے سامنے سے اغواء کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق طالبان ان پر امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام لگا رہے تھے اور ان کے طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات بھی بتائے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ ادھر شمالی وزیرستان میں گزشتہ شام نامعلوم مُسلح افراد نے رزمک سب ڈویژن سے تعلق رکھنے والے دو مقامی قبائلیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق رزمک سب ڈویژن میں وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والے شبیر جان اور شاہ والی کی لاشیں ایک پہاڑی نالے سے ملی ہیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دس دن پہلے دونوں کو مُسلح افراد نے ان کے گھروں سے اغوا کیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں پر مقامی طالبان یہ الزام لگا رہے تھے کہ وہ امریکی جاسوس طیاروں کے لیے طالبان کے خفیہ ٹھکانوں کی نشاندہی میں ملوث تھے۔

یادرہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیے جانے والوں کا سلسلہ گزشتہ چھ سات سالوں سے جاری ہے۔ اس کے نتیجہ میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں قبائلی عمائدین علماءعلاقے کے عام شہریوں کے علاوہ افغانستان کے شہری بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں