کراچی: رکنِ قومی اسمبلی کے بھائی ہلاک

Image caption آصف خان کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شہری حکومت کے ایک افسر آصف خان کو ہلاک کردیا ہے۔

آصف خان عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پرویز خان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان قادر خان مندوخیل نے بی بی سی کے نثار کھوکر کو بتایا ہے کہ آصف خان کراچی کی شہری حکومت میں اکاؤنٹس افسر تھے اور وہ پیر کی شام سِوک سنٹر میں اپنے دفتر سے نکل رہے تھے کہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔

قادر خان کے مطابق آصف خان کی میت کو جناح ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

آصف خان کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں پانچ دن قبل عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سالار عبیداللہ یوسف زئی کو ایئرپورٹ کے قریب ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا تھا اور تاحال کے ان کے قاتلوں کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

Image caption رکن قومی اسمبلی پرویز خان، مقتول ان کے بھائی تھے

اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے گزشتہ روز کراچی میں عبیداللہ کی رسم سوئم کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ عبیداللہ کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

آصف خان کی میت جناح ہسپتال کے سرد خانے منتقل کردی گئی ہے۔

اے این پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اصف خان کی میت منگل کی صبح سات بجے ایک پرواز کے ذریعے اسلام آباد روانہ کی جائے گی جہاں سے پھرمیت کو ان کے آبائی علاقے صوابی تدفین کے لیے منتقل کیا جائے گا۔

آصف خان نے تین بچوں اور ایک بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اے این پی کے ترجمان قادر خان مندوخیل کے مطابق اے این پی رہنماؤں کا قتل کراچی میں سندھ کے سیلاب متاثرین کی آمد کو روکنے کی سازش ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ’یہ کراچی پر قبضے کی جنگ ہے اور اس میں جمہوریت دشمن عناصر ملوث ہیں جو جمہوری دور میں مارشل لا کے مطالبات کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں