پچاس لاکھ کھلے آسمان تلے

سیلاب متاثرین

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطے کے ادارے ’اوچا‘ کے ترجمان مریسیو جولیانو نے بتایا ہے کہ پاکستان میں پچاس لاکھ سیلاب زدگاں کو سر چھپانے کے لیے تاحال کوئی امداد نہیں مل سکی ہے۔

بی بی سی اردو کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے بتایا ہے کہ کھلے آسمان تلے بیٹھے پچاس لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مل رہا ہے اور نہ دیگر سہولیات میسر ہیں۔ ان افراد میں بیماری کی لہر پھیل سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق آٹھ لاکھ سیلاب زدگاں اب بھی ایسے ہیں جن تک ہیلی کاپٹر کے علاوہ رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں۔

مریسیو جولیانو نے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے دنیا کم از کم چالیس ہیلی کاپٹر فوری طور پر فراہم کرے۔

مریسیو جولیانو نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق متاثرین کی تعداد کم تھی اس لیے خیموں اور پلاسٹک شیٹس بھی کم منگوائیں گئیں۔

لیکن ان کے مطابق اب متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سڑسٹھ لاکھ ہوگئی ہے اس لیے خیموں اور پلاسٹک شیٹس کی ضرورت دوگنی ہوگئی ہے۔

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق پچاس لاکھ افراد کھلے آسمان تلے جب کہ آٹھ لاکھ سے زمینی رابطہ منقطع ہے

انہوں نے بتایا کہ دس لاکھ سے زیادہ مکان تباہ ہوئے، گیارہ ہزار دیہات زیر آب آئے ہیں اور ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

’اس وقت اڑتالیس لاکھ بلکہ پچاس لاکھ بے گھر لوگوں کو چھت مہیا نہیں ہے اور وہ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ جن لوگوں کو چھت چاہیے تھی ان کی تعداد بیس لاکھ سے ساٹھ لاکھ ہوگئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔ کیونکہ خیمے اور پلاسٹک شیٹس اتنی بڑی تعداد میں کسی ایک جگہ دستیاب نہیں اس لیے یہ چیزیں بنانے والے دن رات کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بڑی خطرناک صورتحال ہے کہ پچاس لاکھ افراد کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں جن میں بیماریاں پھیل سکتی ہیں‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سیلاب متاثرین میں بیماریاں پھیلنے کی اطلاعات ہیں اور کئی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس وقت طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

’ہمیں یہ نہیں پتہ کہ کتنے لوگ مر چکے ہیں لیکن اتنا جانتے ہیں کہ سیلاب سے متعلق بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اب جب ہم بات کر رہے ہیں تو تاحال پندرہ لاکھ لوگوں کا علاج کیا جاچکا ہے یا ہو رہا ہے جس میں ڈائریا، ملیریا اور دیگر بیماریاں شامل ہیں اور یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے‘۔

اقوام متحدہ کے ترجمان مریسیو جولیانو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گلگت بلتستان، پنجاب اور سندھ میں آٹھ لاکھ سیلاب زدگاں ایسے ہیں جن تک ہیلی کاپٹر کے علاوہ رسائی ممکن نہیں ہے۔

’آٹھ لاکھ لوگوں تک ہیلی کاپٹر کے بنا رسائی ممکن نہیں۔ ہمیں ہیلی کاپٹرز کی شدید ضرورت ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام جو امدادی اشیاء پہنچانے میں سرفہرست ہے انہیں چالیس ہیلی کاپٹر امدادی کاموں کے لیے چاہیں۔ ہمیں امید ہے کہ امداد دینے والے جس ملک کے پاس بھی ہیلی کاپٹر ہیں وہ ہمیں فراہم کریں تاکہ یہ بہت بڑا امدادی کام جلد کرسکیں‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب کو تین ہفتے گزر چکے ہیں لیکن اب بھی سندھ میں سیلاب کی تباہ کاری جاری ہے اور روز بروز متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے متاثرین کی امداد کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔

’ہمارا اندازہ ہے کہ سندھ میں متاثرین کی تعداد سینتیس لاکھ ہوچکی ہے اور تقریبا تین لاکھ مکان تباہ ہوئے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ سندھ میں سیلاب ابھی جاری ہے۔ دریائے سندھ میں چالیس گنا زیادہ پانی ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ سندھ میں ابھی مزید لوگ متاثر ہوں گے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ مکان متاثر ہوئے جن کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ جب کہ سندھ میں تین لاکھ اور خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ اسی ہزار، بلوچستان میں پچھتر ہزار، گلگت میں تین ہزار اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چھ ہزار مکان متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تاحال صرف دو لاکھ کے قریب لوگوں کو خیمے اور پلاسٹک شیٹس دے سکے ہیں اور مزید ایک لاکھ دس ہزار کے قریب خیمے اور پانچ لاکھ پلاسٹک شیٹس پہنچنے والی ہیں۔

پاکستان میں سیلاب سے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا۔ کہ اسی لاکھ ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوئی ہے۔

’کم از کم بتیس لاکھ ہیکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں اور دو لاکھ مویشی مر گئے ہیں۔ اگر جلد امداد نہ ملی تو مزید مال مویشی مریں گے جس کی وجہ سے متاثرہ لوگوں کی زندگی پر قلیل المیعاد اور طویل المیاد منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے خوراک کی قلت ہوگی اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بیشتر لوگوں کا گذر بسر کھیتی باڑی اور مال مویشیوں پر ہوتا ہے اور یہ دونوں ذرائع ختم ہونے سے ان کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔

اسی بارے میں