آٹھ دن اور آٹھ راتیں پانی کا مقابلہ

گلن بنگلانی کا خاندان
Image caption گلن بنگلانی کسان ہیں اور ان کی دو بیویاں اور بارہ بچے ہیں، جن میں سے تین پانی میں بہہ گئے

ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے تین بچے پانی کے ریلے میں بہہ گئے مگر وہ کچھ نہیں کرسکے۔گلن بنگلانی اور ان کے پندرہ اہل خانہ کو آٹھ روز پانی میں پھنسے رہنے کے بعد پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر نے بچایا ہے۔

گلن بنگلانی ٹھل تحصیل کے گاؤں جونگل کے رہائشی ہیں جو دریائے سندھ کے قریب واقع ہے، ٹوڑھی بند پر شگاف کے باعث یہ گاؤں زیر آْب آ گیا تھا۔اس وقت وہ سکھر کے نواح میں دادو کینال کے کنارے اپنے دیگر بچوں کے ساتھ موجود ہیں۔

گلن نے بتایا کہ انہیں حکام کی جانب سے کسی خطرے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا، وہ نیند میں سو رہے تھے کہ اچانک پانی گاؤں میں داخل ہوگیا اور وہ بچوں کو لے کر باہر نکل پڑے۔

گلن بنگلانی کسان ہیں اور ان کی دو بیویاں اور بارہ بچے ہیں، جن میں سے تین پانی میں بہہ گئے۔ ان کی بیوی ستن نے بتایا کہ محب علی اور تراب علی کو انہوں نے اپنے کندھے پر اٹھا کر رکھا تھا اچانک پانی کا ایک بڑا ریلا آیا اور وہ پانی میں غوط لگانے لگیں، بچے ان کے ہاتھوں سے نکل کر پانی میں بہہ گئے۔ ایسے ہی گلن کی دوسری بیوی کی بیٹی سیلابی پانی کا شکار ہوگئی۔

گلن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انہیں وقت پر اطلاع کردیتی تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔’ کون اپنے بچوں کو مروانا چاہتا ہے، ہم یہاں سے نکل جاتے۔‘

گلن کی ماں نبیت بنگلانی نے روایتی بلوچی کپڑے پہنے ہوئے تھے جو کندھوں سے پھٹ چکے ہیں، ان کے مطابق وہ آٹھ روز ہاتھوں میں قرآن لے کر پاؤں پر کھڑے رہے، کبھی کسی دیوار پر چڑھ جاتے تو کبھی پانی کا بہاؤ انہیں دوسری جانب لے جاتا تھا، پانی ان کے کندھوں تک پہنچ چکا تھا، اس دوران ان کا شوہر بادل بنگلانی بھی پانی میں بہہ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دو روز کے بعد ہیلی کاپٹر دیکھنے میں آیا اور جس سے کچھ پیکٹ گرائے گئے ، جن میں سے اکثر پانی میں بہہ جاتے تھے، ان پیکٹس میں بھنے ہوئے چنے، کھجور، دودھ کا پیکٹ وغیرہ موجود تھا۔

پندرہ افراد پر مشتمل اس کنبے کے تمام ہی افراد زخمی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں پانی میں تیرتے ہوئے لکڑی اور کانٹے لگنے سے زخم آئے ہیں۔ بقول نبیت بنگلانی کہ انہوں نے سروں پر قرآن اٹھا رکھا تھا، وہ آٹھ دن اور راتیں پانی میں پڑے رہے، جب بھی ہیلی کاپٹر چکر لگاتا وہ انہیں قرآن کا واسطہ دیتے آخر آٹھ روز کے بعد انہیں رحم آیا اور پانی سے پورے خاندان کو باہر نکالا۔

ستر سالہ مسمات نبیت کو جب پانی سے نکالا گیا تو وہ بے ہوش چکی تھیں، ان کے مطابق خوراک کی عدم دستیابی کے باعث کمزوری محسوس ہو رہی تھی ابھی تک انہیں چکر آتے ہیں، اس خاندان کے نو بچوں میں سے کئی کو ابھی تک گلوکوز کی ڈرپ لگائی جا رہی ہیں۔

اس خاندان کو سکھر میں لا کر چھوڑ دیا گیا، جہاں وہ کھلے آسمان تلے دیگر متاثرین کے ساتھ کھانے پینے اور سائبان کے بغیر بیٹھے ہوئے ہیں۔

گلن بنگلانی بتاتے ہیں کہ ان کی چالیس کے قریب گائے اور بھینیسیں تھیں جو ساری ڈوب گئیں اب وہ کنگلے ہوچکے ہیں۔’جب پانی میں تھے تو انہوں نے خود کو خدا کے حوالے کردیا تھا اب بھی وہ خود اس کے رحم و کرم پر سمجھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں