گرم مصالحے، گرم خیمے اور گرم مزاج

کیمپ
Image caption کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کالے ٹینٹ سخت گرمی کے لیے مناسب نہیں ہیں

سیلاب زدگان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں ایک ثقافتی تضاد بھی شامل ہے، جن میں کھانے سے لے کر رہن سہن تک کی مشکلات شامل ہیں۔

سکھر میں واقعے سیلاب زدگان کے کیمپوں کے دورے کے موقع پر بچوں اور بڑوں کی ایک بڑی تعداد نے پیٹ میں درد اور ہاضمے کی شکایت کی، جس کی وجہ وہ اس کھانے کو قرار دیتے ہیں جو انہیں دو وقت فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں دیگ میں پکایا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، جس میں گرم مصالحہ، لونگ اور دیگر مصالحوں کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے اور وہ عام زندگی میں استعمال نہیں کرتے تھے، یہ مصالحہ جات ان سے ہضم نہیں ہوتے جس کے باعث انہیں سینے میں جلن اور پیٹ میں تکلیف ہوتی ہے۔

دریا کے کچے کے علاقے میں رہنے والے ہر شخص کے پاس مال مویشی ہوتے ہیں جبکہ سبزیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں، متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ تر دودھ دہی اور سبزیوں کا استعمال کرتے ہیں مگر کیمپوں میں مسلسل بریانی اور مصحالہ دار چنے کی دال کے ساتھ نان فراہم کیے جا رہے ہیں۔

بائی پاس کے قریب واقع ایک کیمپ میں کراچی کے ایک فلاحی ادارے کا کیمپ موجود تھا، یہ ادارہ کراچی میں ہسپتالوں اور جیلوں کے باہر بھی لوگوں کو کھانا فراہم کرتا ہے جس میں زیادہ تر قورمہ نان ہوتا ہے، اس کیمپ میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے ایک افسر موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ لوگوں نے انہیں تو کبھی ایسی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ پیٹ اور سینے میں جلن کے امراض کھانے کے باعث ہو رہے ہیں۔

ایک سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے روٹی اور سبزی بنانا ممکن نہیں ہے، اس لیے بریانی اور دال بنائی جاتی ہے کیونکہ یہ کھانا شہر کے باورچی بناتے ہیں اس لیے وہ اس میں مصالحوں کی مقدار شہریوں کے مزاج کے مطابق رکھتے ہیں۔

سکھر ہو، خیرپور یا شکارپور متاثرین کے لیے لگائے گئے کیمپوں میں کئی کا رنگ سیاہ ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مقامی آب و ہوا کے مطابق نہیں ہے۔

خیرپور کی ایک غیر سرکاری تنظیم کھجی کے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سکھر اور خیرپور کا درجہ حرارت ان دنوں پینتالیس ڈگری تک ہوتا ہے، سیاہ رنگ گرمی کو جذب کرتا ہے جس کے باعث خیمہ کے اندر گرمی کا درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور خیمہ ایک تندور جیسا ہوجاتا ہے۔

Image caption متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں بریانی اور چنے کی دال دی جاتی ہے و انہیںہضم نہیں ہوتی

انہوں نے بتایا کہ ان خیموں کے باعث کئی لوگوں اور خاص طور پر بچوں کو گرمی دانے نکل آئے ہیں، اس کے علاوہ گیسٹرو کی وجوہات میں بھی ایک وجہ یہ سیاہ خیمے بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ کا خیال ہے کہ سوات اور کشمیر میں تو یہ خیمے بہتر ہیں جہاں موسم سرد ہے، مقامی اور بین الاقوامی اداروں کو سندھ کے موسم کے مطابق خیمے فراہم کرنے چاہیے تھے۔

سندھ کے شبعہ سوشیالوجی کے استاد احمد علی بروھی کا کہنا ہے کہ یہ متاثرین مختلف سماجی، تقافتی اور معاشی پس منظر رکھتے ہیں جن کو اکٹھا بٹھانے سے ثقافتی تضادات جنم لیں گے۔ ان کے مطابق جس طرح سے امداد فراہم کی جا رہی ہے بعض لوگ اس کو بھی تذلیل سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ عزت اور احترام سے امداد فراہم کی جائے بصورت دیگر انہیں یہ قبول نہیں ہے۔

کچے کے علاقے میں مختلف قبائل اور برادریوں کے اختلافات اور تنازعات بھی ایک بڑے عرصے سے رہے ہیں، ان کی جھلک ریلیف کیمپوں کے اندر اور باہر بھی نظر آتی ہے۔

خیرپور کے ایک پرائمری سکول میں کشمور کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے متاثرین پہلے سے موجود تھے کچھ روز بعد اسی علاقے کے کچھ اور متاثرین کو اسی سکول میں رہائش فراہم کی گئی مگر پہلے سے موجود متاثرین نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اس برادری سے ان کی نہیں بنتی انہیں وہ رہنے نہیں دیں گے انتظامیہ کے سخت رویے کے بعد دونوں برادریاں ایک جگہ رہنے پر مجبور ہوگئیں۔

نوشہرو فیروز کے کچے کے علاقے میں جب ایک کشتی کچھ لوگوں کو ریسکیو کرنے جا رہی تھی تو ملاح برداری کے ایک شخص کو اس بنیاد پر اتارا گیا کہ وہ کشتی کلھوڑا برادری کے گاؤں میں جارہی تھی جہاں باہر کے آدمی کا داخلہ منع تھا۔

سکھر کے ایک کیمپ کے باہر کچھ نوجوانوں کو یہ اعتراض تھا کہ تمام قبائل اور برادریوں کو ایک ساتھ خیمہ فراہم کیے جارہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ خیمہ کی تقسیم برادریوں کے سطح پر ہونے چاہیے تھی ہر کسی کا اپنا محلہ ہونا چاہیے تھا۔

کیمپوں میں خیموں سے کچھ دور پلاسٹک کی شیٹوں کی مدد سے ٹوائلیٹ بنائے گئے ہیں، جن کے اندر ڈرین اور پانی کی سہولت دستیاب نہیں، بعض خواتین کو یہ اعتراض تھا کہ ان کو ’کوورڈ‘ ہونا چاہیئے کیونکہ متاثرین میں دوسرے قبائل اور برادریوں کے لوگ بھی ہیں جن کے سامنے وہ ٹوائلیٹ جانے کو معیوب سمجھتی ہیں۔ اس مسئلے کا حل ان خواتین کے پاس یہ ہے کہ وہ سورج ڈھلنے کے بعد ٹوائلیٹ استعمال کرتی ہیں۔

اسی بارے میں