سیلاب: صوبوں میں کتنی تباہی ہوئی؟

پاکستان میں حکومت اور امدادی تنظیموں کے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ایک کروڑ ستر لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے تاہم سیلاب کیفیت کے سندھ میں جاری رہنے سے خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

پنجاب

ہلاکتیں: 103

پاکستان کی آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اب تک متاثرین کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ اس صوبہ میں اسی لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ یہاں ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچا ہے۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر تیرہ ہزار مکانات کے تباہ ہونے سے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اٹھاسی کلومیٹر سڑک اور سات پلوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے ایک پل مکمل طور پر تباہ ہوا ہے۔ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے نو سو ملین روپے درکار ہیں۔

خیبر پختون خوا

ہلاکتیں: 1068

ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخواہ جانی نقصان برداشت کرنے کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں جس ضلع کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے وہ ڈیرہ اسماعیل خان ہے۔ یہاں خوراک کے امدادی ادارے کے عداد وشمار کے مطابق تقریباً چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔ دوسرے نمبر پر نوشہرہ ہے جہاں سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع چارسدہ کے اسی دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی کے متاثر ہونے سے یہ ضلع تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ ان تمام اضلاع کو ابتدائی دنوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا تھا لیکن اب انہیں بحال کر دیا گیا ہے۔

سیلاب کے باعث سب سے زیادہ نقصان صوبہ خیبر پختون خوا میں ہوا جہاں دو سو ساٹھ کلومیٹر سڑک اور پندرہ پلوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے چھ پل مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ ان کی بحالی کے لیے پینتیس سو ملین روپے درکار ہیں۔

تاہم خیبر پختونخوا کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے ہیں۔ ان علاقوں کو موسم صاف ہونے پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔

قبائلی علاقہ جات

ہلاکتیں: 79

قبائلی علاقہ جات میں چار ہزار سے زائد مکانات کو مکمل نقصان پہنا ہے جبکہ ساڑھے چھ ہزار ایکڑ پر پھیلی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ سندھ

ہلاکتیں: 116

سندھ میں ابھی سیلاب اپنی تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے لیکن اب تک کے اعداد وشمار کے مطابق متاثرین کی تعداد چھتیس لاکھ ہے۔ یہاں جیکب آباد وہ ضلع ہے جو سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اب تک سر فہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر تقریباً چھ لاکھ افراد کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ضلع کشمور ہے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد اکہتر ہے۔ یہاں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ سندھ میں ایک سو انتالیس کلومیٹر سڑک اور دو پل متاثر ہوئے ہیں اور ان کی مرمت پر تیرہ سو ملین روپے لاگت آئے گی۔

بلوچستان

ہلاکتیں: 48

آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹے صوبہ بلوچستان میں تقریباً سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں پچھتر ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

بلوچستان میں بیس کلومیٹر سڑک اور ایک پل متاثر ہوا ہے اور مرمت کے لیے ایک سو نوے ملین روپے درکار ہیں۔

گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

ہلاکتیں: 183 اور 71

ان علاقوں میں مجموعی طور پر تقریباً تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ڈیڑھ سو کلومیٹر سڑک اور دس پلوں کو نقصان پہنچا جن میں سے نو پل مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ ان کی مرمت کے لیے تئیس سو ملین روپے درکار ہیں۔

اسی بارے میں