ٹھٹہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی

نقل مکانی
Image caption ٹھٹہ سے لوگوں کا انخلا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں بند میں شگاف پڑنے کے بعد سیلابی پانی آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے باعث بڑے پیمانے پر آْبادی کا انخلا ہو رہا ہے۔

سرجانی بچاؤ بند کو آر ڈی اٹھارہ کے پاس شگاف پڑا ہے جو پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ایک سو فٹ چوڑا ہوچکا ہے، لوپ بند بھی اس پانی کا مقابلہ نہیں کرسکا۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ شگاف سے نکلنے والے پانی کے باعث کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ پانی کا رخ اس وقت کوٹ عالموں کی طرف ہے جس کے بعد دڑو اور میرپور بٹھورو شہر آتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شام تک پانی میرپور بٹھورو میں داخل ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت ٹھٹھہ کے قریب دریائے سندھ سے نو لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔

دوسری جانب پانی کا دباؤ توڑنے کے لیے لوپ بند کو کٹ لگایا گیا جس کے باعث سجاول شہر کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اچانک بدلتی صورتحال کے باعث لوگوں میں افراتفری پھیل گئی ہے۔

دڑو، میرپور بٹھورو اور سجاول شہروں سے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں مگر انہیں شکایت ہے کہ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث انہیں دشواری کا سامنا ہے۔

دوسری جانب شہداد کوٹ کے جنوب میں واقع گولو سیم نالے میں شگاف پڑا گیا ہے۔

مقامی غیر سرکاری تنظیم کے کارکن غفار پندرانی نے بتایا ہے کہ لوگوں کو شہر چھوڑنے کے لیے شہر کی مساجد سے اعلان کیے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ بائی پاس کے مقام پر مٹی سے بنائے گئے حفاظتی بند پر پتھر ڈال کر مضبوط کرلیا گیا تھا، مگر انتظامیہ کو اب دوسری جانب سے خطرے کا سامنا ہے جہاں مشینری بھیجی جا رہی ہے۔