کتنے ہیلی کاپٹر؟

پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے بتایا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے چھیاسٹھ ہیلی کاپٹر اس وقت سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے امداد کے لیے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج کے پینتالیس ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے پندرہ اور عرب امارات اور جاپان کے تین تین ہیلی کاپٹر امدادی کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی فوج کے چار ہیلی کاپٹر امدادی کاموں کے لیے پاکستان آئے تھے اور وہ امدادی کام کرنے کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق جاپان سے تین مزید ہیلی کاپٹر امدادی کاموں کے لیے آ رہے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود بھی اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انہیں امدادی کاموں کے لیے چالیس مزید ہیلی کاپٹر درکار ہیں۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے رابطہ دفتر ’اوچا‘ کی ایک ترجمان سٹیسی ونسٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت بائیس ہیلی کاپٹر ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن وہ دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ چالیس مزید ہیلی کاپٹر فوری طور پر فراہم کریں۔

جب اقوام متحدہ دنیا سے فوری چالیس ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی اپیل کر رہا ہے ایسے میں افغانستان سے امدادی کاموں کے لیے آئے ہوئے چار ہیلی کاپٹروں کا فوجی ترجمان کے مطابق امدادی کام ختم کرکے واپس چلے جانے کے بیان کے بارے میں بہت سارے شکوک پیدا ہوئے ہے۔

Image caption فوج کے پینتالیس ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں استعمال ہو رہے ہیں

یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے افغانستان کی فوج کے چار ہیلی کاپٹروں کو خود واپس بھیج دیا ہو۔ لیکن فوجی ترجمان ایسے کسی تاثر کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ اپنا کام مکمل کرکے واپس چلے گئے ہیں‘۔

میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ گلگت کے لیے مانسہرہ سے کاغان اور بابوسر سے جانے والی سڑک بحال ہو گئی ہے اور وہاں سے ٹریفک چل پڑی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ دبیر کے علاقے کا راستہ ایک پل تباہ ہونے سے کٹا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک طرف وہ پل بنا رہی ہے تو دوسری طرف ٹرالی سروس بحال کی ہے جس سے کھانے پینے کا سامان پھنسے ہوئے لوگوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں پھنسے ہوئے لوگوں کو گلگت اور اسکردو ایئر بیسز سے تین ہیلی کاپٹر امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’گن شپ ہیلی کاپٹر‘ استعمال ہوتے ہیں اور انہیں کارگو سروس کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ پاکستان میں سب سے بڑا ہیلی کاپٹر ایم آئی سترہ ہیلی کاپٹر ہے جس میں تین ٹن سامان یا بائیس مسافروں کو اٹھانے کی گنجائش ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکہ کے شنوک ہیلی کاپٹر میں چار ٹن اور تیس کے قریب مسافروں کو لانے یا لے جانے کی گنجائش ہے۔