امداد کی تقسیم پر تشویش

متاثرین
Image caption تنظیم کا کہنا ہے کہ تاثرین کو منلے والی امداد ابھی کم ہے

بین الاقوامی طبی تنظیم ’میڈیسن سانز فرنٹیر‘ (ایم ایس ایف یا ’ڈاکٹر وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے کہا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کو آئے ہوئے ایک مہینہ گزرگیا ہے لیکن ابھی تک بہت کم متاثرین کو امداد ملی ہے اور جو ملی ہے وہ بھی بہت کم ہے۔ اس موقع پر تنظیم نے کسی گروپ، فوجی، سیاسی اور حکومتی امداد قبول کرنے سے بھی انکار کردیا ہے۔

پاکستان میں ایم ایس ایف کے کنٹری ڈائریکٹر تھامس کونان نے جمعرات کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب ایک بہت بڑا سانحہ ہے جس رد عمل قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امداد دینے والے کئی ممالک اپنے قومی مفاد کی خاطر بھی بڑھ چڑھ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور اس بارے میں امریکی سینٹیر جان کیری بھی کھل کر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو امداد دینے میں ان کا قومی مفاد بھی وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد آزادی کے اصولوں پر منحصر ہونی چاہیے جبکہ متحارب دھڑے، حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں ان اصولوں کی پاسداری نہیں کرتیں۔ان کے مطابق ایم ایس ایف افغانستان اور پاکستان میں کام کرنے کے لیے حکومتی فنڈز قبول نہیں کرتی بلکہ نجی طور پر جمع کیے جانے والے فنڈ پر ہی انحصار کرتی ہے تاکہ فوجی اور حکومتی دباؤ سے آزاد رہے اور متاثرین اور ضرورت مندوں کی بھر پور مدد کرسکے۔

تنظیم کے کمیونیکشن افسر سہیل خان کے مطابق حکومت، سیاسی جماعتوں اور امدادی اداروں کو متاثرین سیلاب کی مدد کسی سیاسی وابستگی پر نہیں بلکہ خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بلاتفریق کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے قریب بعض علاقوں میں متاثرین سیلاب سیاسی بنیادوں پر امداد کی تقسیم کی شکایتیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت اس بات کا نہیں رہا کہ کوئی سیاسی وابستگی گنوائے بلکہ تمام لوگوں کو بلا تفریق اپنے متاثرہ ہم وطنوں کی ہرحالت میں بڑھ چڑھ کر امداد کرنی چاہیے۔

ایم ایس ایف کے اعداد و شمار کے مطابق تنظیم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب تک سولہ ہزار چار سو چونسٹھ افراد کو طبی سہولیات فراہم کیں، پانچ لاکھ لیٹر روزانہ پینے کا صاف پانی فراہم کیا ، چودہ ہزار چھ سو پینتیس امدادی سامان کے تھیلے تقسیم کیے اور چار ہزار سات سو خیمے بھی مہیا کیے۔

ایم ایس ایف کے طبی انچارج ڈاکٹر احمد مختار نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی کمی اور صحت کی صفائی کی ناکافی سہولیات سے وہاں مختلف بیماریوں کے پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے جیسا کہ پانی سے پیدا ہونے والی پیٹ کی بیماریاں اور ہیضہ وغیرہ۔ تنظیم نے ان بیماریوں کے علاج کےلیے چھ مزید مرکز بھی قائم کردیے ہیں۔

اسی بارے میں