سیلاب: اموات کی تعداد پر سوال۔

پاکستان سیلاب
Image caption سیلاب میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور سندھ میں ہلاک ہونے والوں کی جتنی کم تعداد بتائی جاتی ہے وہ ناقابل یقین ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب کی بروقت اطلاع کے سبب کم اموات ہوئی ہیں۔

پاکستان میں بعض حلقے حکومت کے اس دعوے سے متفق نہیں ہیں۔

پنجاب میں سیلاب نے ہزاروں دیہات ڈبو دیے ہیں، بے شمار گھر بہا دیئے ہیں اور اسی لاکھ افراد کو یا تو بے گھر کیا یا وہ بری طرح متاثر ہوئے۔ ایسے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد صرف اسی بتائی جاتی ہے۔

حکومت پنجاب کے محکمہ ریلیف کےمطابق سیلاب کے پانی میں ڈوب کر مرنے والے اسی افراد میں صرف وہ شامل ہیں جو پانی میں ڈوب گئے اور جن کی لاشیں مل گئیں یا پھر وہ جو بہہ گئے اور ان کےبارے میں یہ یقین ہوگیا کہ وہ مر چکے ہیں۔

پنجاب کے محکمہ ریلیف کے ڈائریکٹر میاں اکرام کاکہنا ہے کہ یہ تعداد اس لیے کم ہے کیونکہ پیشگی اطلاع کے نظام کی وجہ سے لوگوں کو بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔

انہوں نے کہا حکومت پنجاب نے ہلاک شدگان کے ورثا کے لیے امدادی رقم ایک لاکھ سے بڑھا کر تین لاکھ کردی ہے اور یہ سب کو علم ہے اس لیے ان کے بقول کوئی اپنے مرنے والے کا سرکاری اندراج کرنا نہیں بھولتا۔

متاثرین کی ایک بڑی تعداد حکومت کےاس موقف کو درست نہیں مانتی۔

بعض متاثرین کاکہنا ہے کہ آفت زدہ لوگوں کے لیے اندراج کے لیے سرکاری دفتروں کے دھکے کھانے سے زیادہ ڈوب جانے والے کے کفن دفن اور بہہ جانے والے کی لاش کی تلاش کی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔

میں نے مظفر گڑھ کے ایک مقامی شہری کے ہاتھ نواحی علاقے کھوریاں میں موبائل فون پہنچوایا جہاں ایک ٹیلے پر رب نواز اپنے رشتہ داروں کو لیکر بیٹھے تھے۔

رب نواز نے بتایا کہ ان کے چچا اور چچازاد بھائی ایک ہفتے پہلے گھر سے کچھ سامان لینے کے لیے گئے لیکن سیلاب کے پانی میں بہہ گئے۔ زندہ بچ جانے والوں نے آکر بتایا تو انہوں نے فوجیوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی لاشیں ڈھونڈ دیں لیکن جواب ملا کہ ابھی وہ زندوں کو بچالیں لاشیں بعد میں ڈھونڈیں گے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں ایسے لوگوں جابجا ملتے ہیں جن کے عزیز واقارب پانی بہہ گئے لیکن ان کے ناموں کا سرکاری کھاتوں میں اندراج نہیں ہے۔

ایسے متاثرین میں ضلع مظفرگڑھ کے موضع گجرات کےایک شہری الطاف نذیر بھی شامل ہیں جن کےچچا کی نہ تو لاش ملی اور نہ ہی کہیں سرکاری طور پر اندارج ہوپایا۔

ضلع مظفر گڑھ میں مقامی اخبار کے نامہ نگار عمر دراز کاکہنا ہے کہ وہ خود اس ایک لاش کی تلاش میں نکلے انہوں نے کئی انسانی لاشیں کیچڑ میں گلتے سڑتے دیکھی ہیں۔

صحافی عمردراز موت کے سرکاری اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے ان کے بقول حکومت کا دعوی ہے کہ ان کے ضلع میں صرف سینتیس افراد ہلاک ہوئے حالانکہ اس سے زیادہ لاشیں وہ خود دیکھ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیماریوں اور سانپ اور بچھو کے کاٹنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس کےعلاوہ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امدادی رقم بھی حقائق کے راستے میں ایک رکاوٹ ہوسکتی ہے کیونکہ جتنی زیادہ لاشیں ہوں گی سرکاری عملے کو اتنا ہی زیادہ کام کرنا پڑے اور گا اتنی ہی زیادہ رقم بھی دینا پڑے گی۔

اسی بارے میں