سندھ،: سیلاب سے اربوں کا نقصان

سیلاب سندھ
Image caption سیلاب کے بعد بازآبادکاری کے کام میں ایک بڑی رقم خرچ ہوگی

صوبہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے ساڑھے پانچ ارب روپےکا نقصان پہنچا ہے، جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حکومت سیلاب سے متاثر ہونے والے دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے لیے ایک منصوبہ بنانے اور سندھ میں ڈونرز کانفرنس کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز لاڑکانہ اور ٹھٹہ میں مزید شگاف پڑنے کے بعد مالی نقصان سات ارب تک پہنچ جائیگا۔

کراچی میں جمعرات کو پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ طبی سہولیات اور صفائی کی عدم دستیابی اور کمزوری کے باعث ایک سو سولہ اموات ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ غوثپور، کرم پور، ٹھل اور آمری سمیت پچیس قصبے زیر آب آئے ہیں، ان شہروں میں سیوریج، گیس اور بجلی کا نظام دوبارہ ڈالنے پڑے گا۔

قیصر بنگالی کے مطابق دریا سندھ کے دائیں کنارے پر چاول، کپاس، گنے کے فصلیں اور سبزیاں ڈوب گئیں ہیں اس کا اثر جی ڈی پی پر بھی پڑے گا، ان علاقوں میں آبپاشی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے اکثر آبی گزرگاہیں دوبارہ بنانے کی ضرورت پڑے گی۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر نے بتایا کہ سیلاب سے اب تک تین لاکھ ستر ہزار پکے اور گیارہ لاکھ کچے مکانات اور سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ سڑکوں کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کے لیے تیس ارب رپے درکار ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد لوگوں کو فی گھر ایک لاکھ پچہتر ہزار رپے فراہم کیے گئے تھے سندھ میں یا تو وھ ہی فار مولا اپنایا جائیگا یا اس رقم میں اضافہ ہوگا فی الحال کہنا قبل از وقت ہے۔

قیصر بنگالی نے بتایا کہ سیلاب نے صحت کے ڈ ھانچے کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا گیا، جس میں پانچ تحصیل ہپستال اور سو بنیادی طبی مراکز اور پندرہ دیہی طبی مراکز زیر آب آگئے ہیں، اسی طرح نو ہزار چھوٹے اور چار سو بڑے اسکول متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں