ووٹ دو راشن لو

Image caption امداد کی تقسیم کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں

جنوبی پنجاب کے علاقوں ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور تونسہ شریف میں شدید سیلاب سے متاثرہ افراد کو بلا امتیاز امداد کی فراہمی میں ان علاقوں کا سرداری نظام سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سیلاب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جن افراد کے پاس اپنے اپنے علاقوں کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی یا علاقے کے وڈیرے کی پرچی ہے اُن کو تو نہ صرف حکومتی راشن مل جاتا ہے بلکہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے امداد مل جاتی ہے لیکن جن افراد کے پاس کوئی سفارشی پرچی نہیں ہے وہ سورج نکلنے سے پہلے جہاں جہاں امداد ملتی ہیں وہاں پر پہنچ جاتے ہیں اور شام گئے خالی ہاتھ واپس گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔

ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کے علاقےمحمد پور دیوان کے رہائشی حضور بخش کہتے ہیں کہ وہ گُزشتہ پندرہ روز سے صبح پانچ فُٹ گہرا پانی کراس کرکے اپنے بچوں کے لیے راشن لینے کے لیے لائن میں لگ جاتا ہے لیکن سرکاری اہلکار پہلے اُسے یہ کہتے رہے کہ متعلقہ پٹوری سے لکھوا کرلاو کہ تم اسی علاقے کے رہنے والے ہو تب ہم تمہیں راشن دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکار اُس کے شناختی کارڈ کو بھی ماننے کو تیار نہیں تھے۔ حضور بخش کے مطابق دو دن تو وہ متعلقہ پٹورای کو ڈھونڈتا رہا نہ ملنے پر وہ اپنے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی کے پاس گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کرکوئی امداد یا سفارشی رقعہ دینے سے انکار کردیا کہ سنہ دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران اُن کے خاندان نے اُن کی مخالفت کی تھی لہذا اب وہ اُن کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔

دریائےسندھ کے کنارے پر واقع ڈیرہ غازی خان کے علاقے غازی گھاٹ کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں ہے یہاں پر بھی صرف اُنہی متاثرہ افراد کو امداد مل رہی ہے جن کا تعلق یا تو کھوسہ اور یا پھر لغاری قبیلے سے ہے۔

ان افراد کے پاس ان قبیلوں کے اہم افراد کی چٹیں ہوتی ہیں جن کو دیکھا کہ وہ نہ صرف خشک راشن لے رہے ہیں بلکہ اس کے علاوہ وہ اپنے اپنے گھروں کے قریب ٹینٹ لگا کر بھی دے رہے ہیں۔

فضلو بلوچ کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو قریبی علاقے سے ہی امداد مل رہی ہے لیکن اُس کا شناختی کارڈ دیکھ کر سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ اُن کا شناختی کاررڈ دوسرے علاقے سے بنا ہوا ہے اس لیے وہ اپنے علاقے میں جاکر امداد لیں۔

فضلو بلوچ کے مطابق مظفر گڑھ کے علاقوں سے بڑی تعداد میں سیلاب سے متاثرہ افراد اُن کے علاقے میں آئے ہیں جنہیں مقامی سرکاری اہلکار اُنہیں راشن اور ٹینٹ بھی فراہم کررہے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ یہ افراد لغاری یا کھوسہ قبیلے سے ہے۔

ڈیرہ غازی خان میں کھوسہ اور لغاری قبلیوں کا ہولڈ ہے۔ سابق صدر فاروق احمد خان لغاری اور سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کا تعلق اس علاقے سے ہے جبکہ ضلع راجن پور میں لغاری اور مزاری قبیلے سب سے زیادہ بااثر ہیں۔

تونسہ شریف میں خواجگان اور قیصرانی قبیلے سب سے زیادہ بااثر ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے ضلعے مظفر گڑھ میں کھر، دستی، قریشی اور ہنجرا شامل ہیں۔ مظفر گڑھ کا ڈیرہ غازی خان سے ابھی تک زمینی رابطہ بحال نہیں ہے جس کی وجہ سے حکام کے مطابق ان علاقوں میں امدادی سامان بہت کم آرہا ہے۔

ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں جن افراد کےپاس مقامی بااثر افراد کی پرچیاں نہیں ہیں اُن کی کچھ نہ کچھ امداد مخیر حضرات اور یا پھر غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں۔

راجن پور کی تحصیل رُجحان مزاری کے ایک سیلاب سے متاثرہ شخص نور الدین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلےسرکاری امداد علاقے کے منتخب نمائندوں اور باثر افراد کے ڈیروں پر جاتی ہے جہاں پر سب سے پہلے اُن افراد کو امداد دی جاتی ہے جو اُن کے حمایتی ہیں یا انتخابات کے دوران اُن کے لیے کام کرتے ہیں۔

Image caption اس قیامت میں بھی سیاست پوری طرح جاری ہے

انہوں نے کہا جو امدادی اشیاء بچ جاتی ہیں وہ مختلف جگہوں پر کیمپ لگا کر دو سے تین سو افراد میں تقسیم کردی جاتی ہیں۔ نوالدین کا کہنا تھا کہ ان امدادی کممپوں میں بھی ان افراد کے حمایت یافتہ لوگ موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں اور آٹے کے تین تین اور چار چار تھیلے لیکر جاتے ہیں جبکہ دیگر افراد جن میں بچے ،بوڑھے ، خواتین اور مرد بھی شامل ہیں وہ خالی ہاتھ گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔

نورالدین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سیلاب سے متاثرہ ایسا شخص اُن کے رکن قومی اسبملی کے پاس چلا جائے جو اُن کے حلقے کا ہو اور وہ اُسے شناخت نہ کرتا ہو تو اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ اُس کے خاندان کے ووٹ کتنے ہیں اگر اُس کے خاندان میں ووٹ کے اہل پانچ افراد ہیں تو اُس کو اس یقین دہانی کے بعد راشن کی پرچی دی جاتی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اُسے ووٹ دے گا۔

ان علاقوں سے منختب ہونے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رویے سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں شدت پسندی کو رجحان وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ فروغ پاتا جارہاہے اور ان علاقوں میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ لوگوں نے نہ صرف امدادی اشیاء کے ٹرک راستے میں ہی لوٹ لیے بلکہ اُن افراد کو بھی مارا پیٹا جو یہ امدادی اشیاء لیکر آرہے تھے۔ راجن پور کی تحصیل جام پور کے سیلاب سے متاثرہ افراد نے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی شیر علی گورچانی کے خلاف نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ انڈس ہائی وے کو بھی بلاک کردیا۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ مزکورہ رکن صوبائی اسمبلی نے نہ تو اُن کی کوئی مدد کی ہے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ سے متاثرین کے لیے امدادی اشیاءلینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس کے خلاف جوابی کارروائی کی جس کے بعد پولیس آرام سے ایک طرف ہٹ گئی۔

سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے سیلاب آیا ہے اُس وقت سے لیکر آج تک کوئی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی امداد دینا تو دور کی بات اُن کو تسلی دینے بھی نہیں آیا۔

راجن پور کے لوگ جوسابق نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کو بھتار (سردار ) کہتے ہیں اور اُن کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے انہوں نے بھی اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اُن کے بھتار اب اُن کا خیال نہیں رکھتے اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔

ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں مہرے والہ، شیرو، کوٹلہ شیر محمد، کوٹلہ اندرون، داجل اور دریائے سندھ کے کچے علاقہ جو تونسہ سے شروع ہوکر گُڈو بیراج تک جاتا ہے اُن علاقوں میں ایسے ہزاروں افراد ابھی تک حکومت اور دیگر اداروں کی امداد کے منتظر ہیں۔

اسی بارے میں