پختون خواہ میں آبپاشی کانظام درہم برہم

Image caption ڈی آئی خان خیبر پختون خواہ کا ایک زراعتی شہر ہے

حالیہ سیلاب اور بارشوں سے خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں لگ بھگ پچاس فیصد آبپاشی کا نظام تباہ ہوگیا ہے جسے بحال کرنے میں ایک برس تک لگ سکتا ہے۔

علاقے میں مونگ ،چاول اور گنے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

چشمہ رائیٹ بینک کینال ڈیرہ اسماعیل خان میں آبپاشی کا سب سے بڑا زریعہ ہے اور یہی نہر صوبہ پنجاب میں تونسہ کے قریب دریائے سندھ سے جا ملتی ہے۔ حالیہ سیلابی ریلوں سے یہ نہر پچیس مقامات پر ٹوٹ چکی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں نائب رابطہ افسر حمیداللہ جان نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ صوبہ میں پچاس فیصد تک آبپاشی کا نظام تباہ ہوگیا جس میں چشمہ رائٹ بینک کینال ، پہاڑپور کینال اور ان نہروں کی زیلی شاخوں کے علاوہ ٹیوب ویل اور کنویں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں سے مونگ کی تمام فصل تباہ ہوگئی ہے جبکہ چاول کی اسی فیصد اور گنے کی بیس فیصد تک فصل تباہ ہوئی ہے۔

حمیداللہ جان کے مطابق ضلع میں آبپاشی کا نظام بحال کرنے میں چھ ماہ سے ایک سال تک کا وقت درکار ہے اورسب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ جب گندم کی بوائی کا موسم آئے گا تو اس کے لیے آبپاشی کا کوئی نظام دستیاب نہیں ہوگا جس سے ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان ایک زراعتی شہر ہے ۔ اس کا کل زرعی رقبہ اٹھارہ لاکھ ایکڑ کے لگ بھگ ہے جس میں سے کوئی چھ لاکھ ایکڑ اراضی قابل کاشت ہے اور باقی بنجر پڑی ہے۔ اس وقت تین لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو رہی ہے جس میں نہروں سے ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی اور باقی زمین دیگر زرائع سے سیراب ہوتی ہے۔

ضلع میں گنے کی پیداوار کی وجہ سے چار شوگر ملز کام کر رہی ہیں جن میں دو چشمہ شوگر ملز ، میرن اور معز شوگر ملز شامل ہیں۔ تاہم گنے کی پیداوار متاثر ہونے سے ان ملز میں چینی کی پیداوار پر بھی اثر پڑے گا۔

اسی بارے میں