نوے لاکھ ایکڑ متاثر، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

نقل مکانی

پاکستان میں حکام کے مطابق حالیہ سیلاب سے اب تک ملک بھر میں نوے لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا ہے جس سے دو سو پینتالیس ارب کا نقصان ہوا ہے۔

دریں اثناء امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھسنے ہوئے لوگوں کو امداد مہیا کرنے کے لیے مزید اٹھارہ ہیلی کاپٹر فراہم کرے گا۔

پاکستان میں سیلاب زدگان کو امداد مہیا کرنے کے لیے پہلے ہی امریکہ کے پندرہ ہیلی کاپٹر اور تین مال بردار جہاز کام کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صوبۂ سندھ میں گزشتہ دو دنوں میں دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

سندھ کے جنوبی شہر ٹھٹہ سے دو لاکھ افراد کو دریائے سندھ کے ایک پشتے میں شگاف پڑنے سے گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بند میں شگاف پڑ جانے کے باعث انتظامیہ نے شہریوں کومحفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

ٹھٹہ سے چار کلومیٹر دور دریائے سندھ کے بچاؤ بند میں پڑنے والے شگاف کو بند کرنے کی کوشش ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے، اس شگاف سے نکلنے والا پانی کلری بگھاڑ فیڈر میں داخل ہو رہا ہے۔

شکارپور کے قریب سچل نون گاؤں میں چار بچے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل سندھ کینال میں شگاف کے بعد سچل نون گاؤں زیر آب آگیا تھا۔ جہاں سے کچھ لوگ محفوظ مقامات پر چلے گئے تھے تاہم کچھ وہاں ہی رہ گئے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سے صوبہ سندھ میں دس لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

ٹھٹہ کو خطرہ

ٹھٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے شہر کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے مٹی کا حفاظتی بند بنانے کا فیصلہ کیا ہے، انتظامیہ اور مقامی اراکین اسمبلی نے ایک مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے ہیوی مشنری طلب کی گئی ہے۔

ٹھٹہ سے انخلاء

دوسری جانب ٹھٹہ سے چار کلومیٹر دور دریائے سندھ کے پی بی بچاؤ بند میں پڑنے والے شگاف کو پاکستان فوج کے اہلکار بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے، اس شگاف سے نکلنے والا پانی کلری بگھاڑ فیڈر میں داخل ہو رہا ہے

ادھر کوٹ عالموں کے مقام پر پڑنے والا شگاف رات تک تقریبا چار فٹ چوڑا ہوچکا ہے، جس سے خارج ہونے والے پانی سے بیلو شہر زیر آب آگیا ہے اب پانی کا رخ دڑو شہر کی طرف ہے۔ جو ٹھٹہ سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سیلابی پانی سے فقیر جو گوٹھ نامی گاؤں زیر آب آچکا ہے۔

سیلاب کہاں کہاں

سیلاب: صوبوں میں کتنی تباہی ہوئی؟

سندھ: سیلاب سے اربوں کا نقصان

اراضی کو نقصان

بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ تازہ ترین سرکاری اعداوشمار کے مطابق حالیہ سیلابی پانی سے ملک میں تقریباً چوالیس لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس نقصان کی مالیت دو سو پینتالیس ارب روپے یا تقریبا تین ارب ڈالر بنتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ پاکستان کی مجموعی قابل کاشت زرعی اراضی کا تقریباً پندرہ فیصد حصہ بنتا ہے جو بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اس بابت صوبے کی سطح پر صوبہ سندھ کو سب سے زیادہ اس اہم زرعی شعبے میں نقصان پہنچا ہے۔ اس جنوبی صوبے میں سترا لاکھ چالیس ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو حالیہ سیلاب کھا گیا جبکہ دوسرے نمبر پر صوبہ پنجاب ہے جہاں تقریباً پندرہ لاکھ ایکڑ اراضی پر فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں تقریباً ساتھ لاکھ ایکڑ اراضی، خیبر پختون خوا میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد، قبائلی علاقوں میں ساڑھ چھ ہزار اور گلگت بلتستان میں نو لاکھ ایکڑ اراضی پر فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

زرعی شعبے کو نقصان خوراک کی قلت کے خدشے کے پیش نظر حکومت کو توقع ہے کہ بیس لاکھ ٹن اضافی گندم برآمد کرنے کے اپنے ارادے کو ترک کر دے گا۔

پاکستان ایشیا میں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ حکومت نے اس سال اپریل میں اس برآمد کی خواہش ظاہر کی تھی۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق ذخیرہ کی گئئ چھ لاکھ ٹن گندم سیلاب سے تباہ ہوچکی ہے۔ وزارت خوراک کے ایک اہلکار کے مطابق مزید سوا لاکھ ٹن ذخیرہ شدہ گندم پانی سے ضائع ہوگئی ہے۔

گندم کے علاوہ چاول کی فصل کو بھی خصوصا شمالی سندھ میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سولہ لاکھ ٹن چاول ضائع

ہوگئے ہیں۔

صوبہ خیبرپختون خوا میں ان علاقوں میں جہاں سبزیاں اور فروٹ بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہے راستے کٹے ہونے کی وجہ سے منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ اس وجہ سے ان اجناس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ہلاکتیں

دوسری طرف نیشنل ڈیزاسڑ منیجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی ایم اے کی ترجمان امل مسعود نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

دس لاکھ افراد کا انخلاء

اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کے ترجمان نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ٹھٹہ اور قمبر شہدادکوٹ سے بدھ کے روز سے دس لاک افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

اوچا کے ترجمان گیلیانو نے کہا ’سندھ میں صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم امدادی کام تیز سی تیز تر کر رہے ہیں لیکن سیلاب ہماری کوششوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔‘

سندھ حکومت کے سینیئر اہلکار منظور شیخ نے اے پی کو بتایا کہ صرف ٹھٹہ سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو ایک لاکھ پچھتر ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں