کیا حال سناواں دل دا!

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی چودہویں کڑی جس میں وسعت اللہ خان راجن پور میں ہیں۔

بدھ، اٹھارہ اگست کی شام ( مٹھن کوٹ)

راجن پور شہر سے کوٹ مٹھن تک دس گیارہ کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے دوران سڑک کے دونوں جانب اور نہری پشتوں پر بے بسی و بے گھری کے وہی مناظر خود کو دھرا رہے ہیں جو میں گذشتہ نو روز سے ملتان سے میانوالی اور کالا باغ سے راجن پور تک دیکھتا آیا ہوں۔لہذا انہیں دھرانے کا کوئی موڈ نہیں ویسے بھی ’درد کا حد سے گذر جانا دوا ہوجانا‘ہوجاتا ہے۔

ہاں ایک منظر قدرے نیا ہے۔ ریلوے کراسنگ پار کرنے کے دوران میں نے دیکھا کہ دائیں جانب کوٹ مٹھن ریلوے سٹیشن پر پٹڑی کے دونوں طرف اور پلیٹ فارم پر خیمے لگے ہوئے ہیں ۔ ریلوے لائن پر سینگ پھنسا کر اٹھکیلیاں کرتی بکریوں کو بھی معلوم ہے کہ ٹرین آنے کا کوئی خطرہ نہیں ۔دو چھوٹے بچے انہیں دیکھ دیکھ کر تالیاں بجارہے تھے اور انکے بڑے پلیٹ فارم پر اکڑوں بیٹھے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں یا جمائیاں لے رہے ہیں۔

پلیٹ فارم اور اس کے آس پاس قیام پذیر یہ افتادگانِ خاک وقت کیسے کاٹتے ہوں گے۔رات کو کیا سوچتے ہوں گے۔نیند سے بیدار ہوتے سمے کیا چند سیکنڈ کا زہنی جھٹکا نا لگتا ہوگا۔بھلا یہ کونسی جگہ ہے؟ میں کہاں ہوں؟ کب تک ہوں ؟

سفر درپیش ہے اک بے مسافت

مسافت ہو تو کوئی فاصلہ نئیں

میں چند سال پہلے بھی یہ ریلوے کراسنگ پار کرچکا ہوں۔تب فرید کانفرنس ہورہی تھی ۔سٹیج پر بیٹھی زاہدہ پروین کی گائیکی کی صوتی شعائیں جس جس پے پڑ رہی تھیں حال سے بے حال ہورہا تھا۔

کیا حال سناواں دل دا

کوئی محرمِ راز نہ ملدا

اس وقت یہ شعر کسی محبوبہ کی آہ لگ رہا تھا۔آج یہی شعر گنگناتے ہوئے منظر کے ساتھ پسِ منظر بھی بدل گیا۔لوگ خواجہ غلام فرید کے یونہی تو دیوانے نہیں ۔

ریلوے کراسنگ پار کرتے ہی بائیں جانب کے سنگِ میل پر درج ہے مٹھن کوٹ شریف نو کلومیٹر۔گاڑی کے شیشے میں پیچھے بھاگتے خیموں، انسانوں اور جانوروں کے منظر میں سے وہ مٹھن کوٹ ابھرنے لگا جس کی بنیاد سترہ سو تیرہ میں مٹھن جتوئی کی زمین پر خواجہ غلام فرید کے سگڑ دادا خواجہ شریف محمد نے رکھی تھی۔ایک چھوٹا سا مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ڈیڑھ سو برس تک اونچی فصیل کے اندر بنے گھروں میں سب ہنسی خوشی رہتے رہے۔

پھر تیرہ اگست اٹھارہ سو باسٹھ آگیا۔دریائے سندھ پاگل ہوگیا۔اسٹنٹ کمشنر تحصیل مٹھن کوٹ مسٹر لین نے رپورٹ بھیجی کہ چار سو گھروں پر مشتمل تین ہزار چھ سو اناسی نفوس کی آبادی کو دریا چبا چبا کر نگل گیا ہے۔

مگر شہر کی غرقابی سے قبل اتنا وقت مل گیا کہ شہر کے بانی خواجہ شریف محمد ، انکے صاحبزادگان خواجہ نور محمد اور خواجہ عاقل محمد ، پوتے خواجہ احمد علی اور پڑ پوتے خواجہ خدا بخش کے تابوت قبروں سے نکال کر دریا سے بارہ کیلومیٹر پرے اس مقام پر پھر سے دفن کرنے کے لئے منتقل کئے گئے جہاں موجودہ مٹھن کوٹ بسا ہوا ہے۔

سارا مرحلہ تحصیل کے میر منشی اور فلڈ ریلیف کمشنر رائے ہتھورام کی نگرانی میں بخیرو خوبی انجام پا جاتا اگر اس وقت کے سجادہ نشین خواجہ فخر جہان کا اپنے بھتیجے کے ساتھ اس بات پر جھگڑا نہ ہوتا کہ تابوت یہاں دفنائے جائیں یا وہاں اور کس کی قبر کس کے برابر میں ہوگی۔ بلاخر ایک ہندو تاجر ٹیک چند پوپلی کی قیادت میں تین رکنی ثالثی کمیٹی نے ٹاس کرکے فیصلہ کروایا کہ کون سا تابوت کس قبر میں اتارا جائے۔

یہ تماشا سجادہ نشین فخر جہاں کے چھوٹے بھائی خواجہ غلام فرید کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔شائید یہ واقعہ انکی طبیعت پر بھی اثرانداز ہوا ہوگا۔ شائد ان اثرات کے نتیجے میں ہی انکے دل کی روشنائی سے مہر و محبت کی شاعری پھوٹی ہوگی۔ شائید !!!

لیکن آج مٹھن کوٹ جس سیلاب کی زد میں ہے وہ اس لحاظ سے جداگانہ ہے کہ پانی بزرگانِ خاندانِ کوریجہ کے مزارات کی سیڑھیاں نہ چڑھ سکا۔آدھا شہر ڈوبا ہوا ہے اور آدھا خشک ۔ جو حصہ ڈوبا اس میں فرید میوزیم اور لائبریری کی عمارت بھی ہے۔ صحن میں ڈیڑھ ہفتے بعد بھی ایک فٹ پانی کھڑا ہوا ہے۔بس دو چارپائیاں کاریڈور میں پڑی ہوئی ہیں جن پر چوکیدار نیم دراز خود پر پنکھا جھل رہے ہیں۔

اس میوزیم و لائبریری کی بنیاد دو برس پہلے پڑی جب خواجہ غلام فرید کی دریا پار جنم بھومی چاچڑاں شریف سے انکی لائبریری مٹھن کوٹ منتقل کردی گئی۔اتنا وقت مل گیا کہ سارا اثاثہ بچا لیا گیا۔جس میں خواجہ غلام فرید سے متعلق تین سو اہم حوالہ جاتی کتابیں، ایک ہزار کے لگ بھگ نادر قلمی کتابیں و مخطوطات ، بشمول شہاب الدین سہروردی کی کتاب عوارف المعاروف کا قلمی نسخہ ، سونے کے پانی سے لکھی ہوئی آٹھ سو ہزار برس پرانی کچھ کتابیں شامل ہیں۔

جبکہ تبرکات میں رسول اللہ کی دستار اور موئے مبارک ، خواجہ غلام فرید کے ملبوسات ، دستاریں ، تسبیحات، اور بزرگوں کے کچھ ملبوسات شامل ہیں۔اس کے علاوہ چولستان کے ڈیڑھ سو برس پرانے متروک زیورات اور دستکاری کے نمونے بھی بچا لئے گئے۔

مگر میں نے سجادہ نشین خواجہ معین الدین محبوب کو پھر بھی غمگین پایا۔انکے ارد گرد گٹھڑیاں بندھی رکھی تھیں۔کہنے لگے قلمی نسخوں کے صفحات نمی سے گل رہے ہیں۔میرے اپنے گھر میں پانی بھرا ہوا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں اس خزانے کو کہاں لے جاؤں۔اگر کچھ عرصے اسی طرح پڑا رہا تو ختم ہوجائے گا۔

میں نے محکمہ اوقاف اور وزیرِ اعلی پنجاب سے لے کر وزیرِ اعظم تک سب کو ایس او ایس بھیجا ہے کہ سڑکیں بھی بن جائیں گی۔مکانات بھی کھڑے ہو جائیں گے۔لوگ بھی بس جائیں گے۔فصلیں بھی لہلہا اٹھیں گی۔لیکن آٹھ سو ہزار سال پرانا قلمی اثاثہ ضائع ہوگیا تو واپس نہیں آئے گا۔اب تک میری ایک بھی درخواست کا جواب نہیں آیا ہے۔

آدھا شہر پانی میں اور آدھا خشکی میں۔اس منظر کو دیکھ کر کچھ کہتے ہیں کہ مٹھن کوٹ نہیں بچایا جاسکا۔کچھ کہتے ہیں کہ بچا لیا گیا۔سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کہوں۔کس سے پوچھوں۔راجن پور میں کسی نے بتایا کہ کوٹ مٹھن کو اگر کسی ایک شخص نے پوری طرح ڈوبنے سے بچایا تو وہ کمال فرید ہے ۔جو دو مرتبہ شہر کا ناظم رھ چکا ہے۔

کمال فرید میوزیم کی عمارت سے متصل اپنے گھر میں مل گئے۔انہوں نے عجیب داستان سنائی۔

’ پہلی وارننگ ہمیں پچیس جولائی کو ملی۔جس کے بعد ہم نے ہیلپ فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے دریا سے نصف کیلومیٹر کے فاصلے پر قائم مرکزی پشتے کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ ساتھ ہی ساتھ نواحی علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے کام کا بھی آغاز ہوگیا۔ تین دن بعد میں نے محکمہ آبپاشی اور ورکس والوں کو خبردار کیا کہ اگر یہ پشتہ ٹوٹا تو اس طرف سے ٹوٹے گا جو حصہ نہر کے بند سے جا کر جڑتا ہے۔لہذا اس جانب سے ممکنہ رساؤ کو ہرممکن طور پر روکنا آپ کی زمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ بے فکر ہوجائیں انشااللہ کچھ نہیں ہوگا۔‘

دو اگست کی رات کو سامنے والے پشتے میں چالیس فٹ کا شگاف پڑ گیا۔انتظامیہ نے شہر خالی کرنے کی وارننگ جاری کردی۔لیکن ہم نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ ہمیں دوسری دفاعی لائن قائم کرنے کا وقت دے دیں۔اگر ناکام ہوگئے تو بے شک شہر خالی کرالیں۔مجھے یقین تھا کہ نئی دفاعی لائن شہر کو بچا لے گی کیونکہ جب تہتر اور چھیاسی میں سیلاب آیا تھا تو اسوقت کوئی حفاظتی بند نہیں تھا پھر بھی ایک عارضی پشتے کے زریعے پانی کو روک دیا گیا تھا۔

میں نے زمانہ طالب علمی کے اپنے اس تجربے کو کام میں لاتے ہوئے رات بارہ بجے کام شروع کیا۔صرف دو ٹریکٹر تھے۔تین بجے ہمیں زمین کھودنے والی ایک مشین بھی انتظامیہ کی جانب سے مل گئی۔صبح ساڑھے آٹھ بجے تک دو سو کے لگ بھگ شہریوں نے جان توڑ ڈالی اور ساڑھے چار کیلومیٹر طویل پانچ فٹ اونچی ڈیفنس لائن بنا لی۔اسکے بعد مزید مٹی ڈالنے کے لئے انتظامیہ نے ایک بلڈوزر بھیج دیا لیکن وہ متحرک ہونے سے پہلے ہی خراب ہوگیا۔

تین اگست کو دریا نے اوریجنل پشتے کے اوپر سے پچاس فٹ چوڑی آبشار کی صورت میں چھلانگ لگائی۔لیکن دوسری حفاظتی لائن ہونے کے سبب وہ پانی پسپا کردیا گیا۔دو دن اور رات ہم پہرہ دیتے رہے۔

پانچ اگست کو اطلاع ملی کہ اوریجنل پشتے کا وہ حصہ جو نہر کے بند سے جڑا ہوا ہے اور محکمہ آبپاشی اور ورکس کے کنٹرول میں ہے وہاں سے پانی کا رساؤ شروع ہوگیا ہے۔اس دوران وزیرِ اعلی شہباز شریف وہاں تشریف لائے۔انکے جانے کے پندرہ منٹ بعد ہی اس حصے میں شگاف پڑ گیا اور پانی کے دھارے نے شہر کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔مجھے یاد آیا کہ جب اٹھائیس جولائی کو میں نے آبپاشی اور ورکس کے اہلکاروں کو اس حصے کی کمزوری کے بارے میں خبردار کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ بے فکر ہوجائیں کچھ نہیں ہوگا۔واقعی یہ بات سچ ثابت ہوئی۔وہ بے فکر ہوگئے اور کچھ نہیں کیا۔نتیجہ اب پانی کی شکل میں شہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔

بلاخر شہر خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔کاش آپ اس وقت یہاں ہوتے۔ہزاروں لوگ راجن پور کی طرف بھاگ رہے تھے۔مگر ہمیں اچھی خبر یہ ملی کہ راجن پور سے بھی سینکڑوں گاڑیاں ، ٹرالیاں اور موٹر سائکلیں مٹھن کوٹ کی طرف دوڑ رہی ہیں تاکہ یہاں کے شہریوں کو جتنی جلد ممکن ہو دور لے جایا جاسکے۔

جب یہ بھگدڑ جاری تھی ۔ہمیں اطلاع ملی کہ ایک صاحب نے اپنا اینٹوں کا بھٹہ بچانے کے لئے ہم سے بغض رکھنے والے ایک اور آدمی کے ساتھ مل کر ہماری تیار کردہ دوسری دفاعی لائن میں شگاف ڈال دیا ہے۔اس ناگہانی سے نمٹنے کے لئے ہمیں مٹھن کوٹ بائی پاس کاٹنا پڑا۔ تاکہ پانی کا رخ دوبارہ دریا کی جانب ہوجائے۔گو شہر کا مرکزی حصہ جس میں مزارات اور اس سے جڑے ہوئے محلے تھے بچ گئے۔لیکن صد افسوس کے ہم نئی آبادی کے چھ سو گھروں اور بستی محب علی، بستی گنو کھانی، بستی میانی ، کوٹلہ حسین اور بستی شاہ پور سمیت بیسیوں بستیوں کو نہ بچا سکے۔ان کے سب مکانات تباہ ہوگئے۔اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ یہ سیلاب آیا تھا یا لایا گیا تھا۔

حالانکہ میرا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن افسوس وفاق سے کوئی نہیں آیا۔چیف منسٹر ضرور آئے۔مسلم لیگ ق کی ماروی میمن پشتہ دیکھنے صرف تین منٹ کے لئے تشریف لائیں اور ٹی وی کے ٹاک شو میں اپنے مشاہدات پر تیس منٹ بولیں۔ہم ناکام نہیں ہوئے ہمیں ناکام کیا گیا ہے۔

ہر اینٹ کے بدلے میں لہو اپنا دیا ہے

اس شہر کی بنیاد زبانی نہیں رکھی۔‘

اس کے بعد کمال فرید کو چپ لگ گئی۔آدمی ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتا ہے۔یا تو بولتا رہے یا پھر آنسو ضبط کرلے۔

فرید فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری خواجہ کلیم الدین کوریجہ نے بتایا کہ فوج بلا شبہہ اب امداد کی تقسیم کا کام منظم انداز میں کررہی ہے۔لیکن جب واقعی ضرورت تھی اس وقت مستعدی نہیں دکھائی گئی۔سیلاب آنے سے پہلے جب لوگوں کو نکالنے کا مرحلہ درپیش تھا تو یہاں پر ایک ٹرک میں پانچ چھ فوجی جوان دو اتنی بڑی کشتیاں لے کر آتے تھے جو پارک میں بچوں کو سیر کرانے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔وہ ایک مقررہ وقت پر آتے اور شام چھ بجے ٹرک میں کشتیاں لاد واپس چلے جاتے تھے۔اس وقت اگر ہمیں انکی بھرپور مدد میسر آجاتی تو پھر وہ واقعے کے بعد ہزاروں لوگوں میں خوراک کی تقسیم کے کام سے وہ بھی بچ جاتے اور ہم بھی بچ جاتے۔

مٹھن کوٹ میں آخری کام یہ کیا کہ خواجہ غلام فرید اور انکے اہلِ خانہ کے روضے پر حاضری دی۔پچھلی دفعہ جب میں آیا تھا تو مسجد کے صحن تک بھی نہ پہنچ پایا تھا۔آج یہاں ہو بول رہا ہے۔وضو کا حوض بھی خشک پڑا ہے۔جوتے جمع کرکے ٹوکن دینے والا بھی دکھائی نہیں دیا۔صرف دو پولیس والے دربار میں داخلے کی ڈیوڑھی میں کرسیوں پر اکڑوں بیٹھے ہیں۔روکنا پوچھنا تو درکنار انہوں نے تو مجھے یا کاندھے سے لٹکے بیگ کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں۔

پچھلی دفعہ آیا تھا تو پھول بیچنے والے بچے میرے پیچھے لگ گئے تھے۔آج بھی دو بچے موجود ہیں مگر انکے پھول منڈیر پر رکھے ہوئے ہیں اور خود کنچے کھیلنے میں مصروف ہیں۔

کیا حال سناواں دل دا

کوئی محرمِ راز نہ ملدا

پونے آٹھ بج رہے ہیں۔اسلم رسول پوری اور تاج گوپانگ کو راجن پور بس سٹاپ پر چھوڑ کر خدا حافظ کہنا ہے اور پھر کشمور کی راہ لینی ہے تاکہ صادق آباد پہنچا جاسکے۔اندھیرا ہے اور دو سو کلومیٹر سے زائد کا سنسان سفر درپیش ہے۔دعا کیجے گا ۔۔۔

اسی بارے میں