شناختی کارڈ ہے تو امداد ملے گی

امدادی کیمپ فائل فوٹو
Image caption سیلاب سے ضلع گھوٹکی کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں

پاکستان اِس وقت بدترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے اور لاکھوں لوگ مصیبتوں کا شکار ہیں۔ کسی کو امداد نہیں مل رہی تو کسی کے پاس چھپانے کے لیے ٹھکانہ نہیں ہے جبکہ ہزاروں سیلاب زدگان ابھی بھی بے گھر ہیں۔

سندھ کے ضلع گھوٹکی میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی کیمپ لگائے تو گئے ہیں لیکن کئی متاثرین ایسے ہیں جنہیں ان کیمپوں میں رہنے کی اجازت اس لیے نہیں دی جا رہی کیونکہ اُن کے پاس قومی شناختی کارڈز نہیں ہے۔

ضلع کشمور کے علاقے غوث پور سے تعلق رکھنے والے علی نواز بھی ایسے افراد میں شامل ہیں جو امدادی کیمپ کے باہر سڑک پر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے نوگاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کسی شخص کا شناختی کارڈ نہیں بچا‘۔

انہوں نے کہا ’ہم غوث پور سے بڑی مشکل سے یہاں پہنچے اور جب سرکاری کیمپ میں آئے تو کیمپ والوں نے ہم سے شناختی کارڈ مانگے، ہم نے کہا سیلابی ریلے میں سب کچھ بہہ گیا تو کارڈ کہاں سے بچے ہوں گے؟۔‘

علی نواز نے بتایا کہ کیمپ والوں نے انہیں کیمپ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی کوئی امداد ملی۔’ہم نے حکومتی علمداروں کو کئی بار کہا کہ اگر آپ ہمارے علاقے سے پچھوانا چاہتے ہیں تو پچھوالیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کے پاس بھی گئے تھے تو انہوں نے بھی کوئی ڈپلیکیٹ شناختی کارڈ نہیں دیا اور کہا کہ اپنے علاقے سے بنواؤ۔

علی نواز کے مطابق انہیں اپنا علاقہ چھوڑے ہوئے کئی دن ہوگئے ہیں لیکن شناختی کارڈ کے بغیر آج تک کوئی امداد نہیں ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد ان سیلاب متاثرین کی امداد کر رہے ہیں کوئی کھانا دے رہا ہے تو کوئی پانی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ کچھ دن پہلے شناختی کارڈ بنوانے اپنے علاقے غوث پور گئے تھے لیکن وہا ں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا اور کہا کہ’تم یہاں کے نہیں ہو تم تو علاقے میں لوٹ مار کرنے آئے ہو‘۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے کسی سے سفارش کروا کر اپنی جان چھڑوالی۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب نے انہیں ایسی مصیبتوں میں ڈال دیا ہے اور وہ ایک وقت کے کھانے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ہم بھیک مانگیں گے یا پھر چوری کرنے پر مجبور ہوں گے‘۔ علی نواز کے مطابق حکومت انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

ایک اور متاثرہ شخص علی اکبر نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے بھوکے ہیں اور ’امدادی کیمپ میں صرف راشن مل رہا ہے کوئی زمین تو دے نہیں رہے ہیں جس کےلیے شناختی کارڈ کی اتنی مانگ کر رہے ہیں‘۔

علی اکبر نے بتایا کہ ’حکومتی عملداروں نے کہا کہ آپ سب متاثرین کراچی چلیں جائیں اور وہاں پر کیمپ میں رجسٹریشن کرائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے پاس نمک خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو وہ کراچی کا کرایہ کہاں سے لائیں؟

اس سلسلے میں گھوٹکی کے ڈی سی او عبدالعزیز اُکیلی کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک کیمپ میں داخلے کے لیے شناختی کارڈ کا تعلق ہے تو وہاں زیادہ سختی نہیں ہے اور صرف تصدیق کی جاتی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اگر فرض کریں کہ کوئی متاثرہ شخص یہ کہتا ہے کہ وہ غوث پور سے ہے اور اُس کا شناختی کارڈ گم ہو گیا ہے یا پانی میں بہہ گیا ہے تو ہم تصدیق کرتے ہیں اور بعد ان کو کھانا دے دیا جاتا ہے‘۔

عزیز اُکیلی نے یہ بھی کہا کہ ’ کئی ایسے افرادہیں جو اس ضلع کے ہیں، جن کے گھروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے وہ شناختی کارڈ نہ ہونے کا بہانا کرتے ہیں اور کیمپوں سے امداد لینے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت کو پتہ چلتا ہے کہ یہ متاثرین نہیں ہیں تو پھر ایسے افراد کو امداد نہیں دی جاتی اور انہیں کیمپ میں بھی نہیں رکھ سکتے۔

یاد رہے کہ سیلاب سے ضلع گھوٹکی کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور کچے کے علاقے میں تقریباً ایک سو بیالیس گاؤں زیرِ آب آ چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے تقریباً ایک سو چھیاسی سکولوں کو کیمپ میں تبدیل کیا گیا ہے جن میں تقریباً پچاس ہزار متاثرین رہ رہے ہیں اور باقی پچاس ہزار افراد نے دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں پر پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں