کوہستان: متاثرین کی تعداد معلوم نہیں

فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دُور افتادہ ضلع کوہستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے آنے والی تباہی کو تقریباً ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن تاحال حکام کو نہ تو ابھی متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ ہو سکا ہے اور نہ ہی امدادی سرگرمیوں میں کوئی خاص تیزی آئی ہے۔

ضلع کوہستان کی انتظامیہ سیلاب متاثرین کی تعداد کا اندازہ سنہ انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کو سامنے رکھ کر لگاتی نظر آتی ہے اور متاثرین کی تعداد کے بارے میں سوال پوچھنے پر ہر کسی کے پاس مختلف اعداد و شمار ہیں۔

ضلع کوہستان کے ڈسٹرکٹ کوارڈینٹر افسر ہمایوں خان نے اپنا پڑاؤ ضلع شانگلہ کی تحصیل بشام میں ڈال رکھا ہے جہاں سے وہ ضلع میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے ضلع کی چار تحصیلیں، داسو، کاندیاہ، پٹن اور پالس زیادہ متاثر متاثر ہوئی ہیں اور مردم شماری کے مطابق آبادی کی تعداد چار لاکھ سے زائد ہے۔

تو اِن میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد کتنی ہے؟ اس پر ڈی سی او اور دیگر متعلقہ عملے کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے کہ متاثرین کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے۔ضلع کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ مردم شماری میں آبادی کا اندارج اندازے سے کیا گیا تھا اس لیے آبادی کہیں کم ہے۔

اس طویل بحث و مباحثے میں متاثرین کی صحیح تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں ہو سکا اور صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ ہلاکتیں انہتر ہوئی ہیں جب کہ تحصیل پٹن کا علاقہ دوبیر اور تحصیل کاندیاہ بری طرح متاثر ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے سروے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں اور امید ہے کہ سات سے آٹھ روز میں صورتحال معلوم ہو جائے گی۔

اس کے بعد تحصیل پٹن میں فوج کے امدادی کیمپ سے معلوم ہوا کہ یہاں قائم دو امدادی کیمپوں سے تحصیل پٹن اور پالس کے متاثرین کو امداد فراہم کی جاتی ہے۔

امدادی کیمپ کے باہر بڑی تعداد میں متاثرین موجود تھے لیکن اُس دن امداد کی باری دوبیر بالا کے علاقے کی تھی اور باقی متاثرین کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔

کیمپ میں موجود حکام کا کہنا تھا کہ ایک دن پہلے تین سو سے زائد خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی اور چونکہ دو دن سے موسم خراب تھا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد نہیں پہنچی اس وجہ سے آج ایک سو ستر کے قریب خاندانوں کو امداد کی تقسیم ممکن ہو سکے گی۔

ان سے معلوم کیا کہ آپ کے پاس متاثرین کی تعداد موجود ہے تو اس کا جواب موجود نہیں تھا۔ یہاں سے صرف یہ معلوم ہو سکا کہ اُن کے پاس موجود معلومات کے مطابق تحصیل پٹن کی آبادی چھیاسی ہزار ہے اور نوے فیصد آبادی سے زمینی راستے منقطع ہے جبکہ تحصیل پالس کی آبادی نوے ہزار اور پچانوے فیصد آبادی تک زمینی راستے سے رسائی مکن نہیں ہے۔

لیکن ڈی سی او نے تو پالس کی آبادی ایک لاکھ پینسٹھ ہزار اور پٹن کی آبادی ایک لاکھ بائیس ہزار بتائی تھی لیکن یہاں سے جواب ملا کہ ان کے پاس یہ ہی معلومات ہیں۔

یہاں سے ان معلومات کو ذہن نشین کرتے ہوئے جب کوہستان کے صدر مقام داسو پہنچا تو وہاں موجود ضلعی انتظامیہ کے اہلکار وحید احمد نے کاغذات دیکھنے کے بعد بتایا کہ مردم شماری کے مطابق تحیصل داسو کی آبادی ایک لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو انیس ہے۔

تو اِس میں متاثرین کی تعداد کتنی ہے، تو جواب ملا کہ کہ تقریباً ستر فیصد آبادی تو لازمی متاثر ہوئی ہو گی۔

انھوں نے بتایا کہ ابھی تک چھ سے سات ہزار متاثرین کو امداد فراہم کی جا رہی ہے اور جو متاثرین آ رہے ہیں ان کو امداد فراہم کر رہے ہیں جبکہ متاثرین کو مقامی افراد کے ذریعے امداد پہنچانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

علاقے میں موجود فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اُن کا کام صرف امداد کی تقسیم ہے اور متاثرین کی تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا سول انتظامیہ کا کام ہے جب کہ سول انتظامیہ نے سیلاب آنے کے چوبیس دن بعد متاثرہ علاقے کے سروے کے لیے ٹیمیں روانہ کی ہیں اور ان کا کام مکمل ہونے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک تو سیلاب متاثرین کی بے چینی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے صدر مقام داسو میں امداد کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی ہو چکا ہے۔

شاید اسی وجہ سے حکام تحصیل کاندیاہ جس کی آبادی سینتالیس ہزار ہے کے متاثرین کو خوراک تقسیم کرنے گئے تو وہاں خوراک کے منتظر ایک بڑے ہجوم کو دیکھ کر حکام نے کہا کہ امداد تو صرف چار سو افراد کے لیے ہے۔ کوئی بات نہیں تین دن بعد جب ان کی دوبارہ باری آئی گی تو زیادہ امداد لے آئیں گے۔

اسی بارے میں