کرکٹ فراڈ کا ملزم ضمانت پر رہا

یاور سعید
Image caption ان الزامات کی بنیاد پر کسی کا مستعفی ہونا ضروری نہیں:یاور سعید

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چوتھے ٹیسٹ کے دوران شرطیں لگانے کے فراڈ کے ملزم پینتیس سالہ مظہر مجید کو برطانوی پولیس نے فرد جرم عائد کیے بغیر ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات گمبھیر ہیں تاہم فی الحال یہ صرف الزامات ہی ہیں۔

مظہر مجید کو لندن میں پولیس نے سنیچر کی شب برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے اس الزام کے بعد گرفتار کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو خفیہ طور پر پیسے دیے تاکہ وہ دانستہ طور پر لارڈز میں جاری چوتھے ٹیسٹ کے دوران نو بالز کرائیں۔

نیوز آف دی ورلڈ نے دعوٰی کیا تھا کہ اس کے ایک نمائندے نے ڈیڑھ لاکھ پونڈ اس شخص کو دیے جس نے اسے یقین دلایا کہ پاکستانی بولر محمد عامر اور محمد آصف چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران پہلے سے مخصوص مواقع پر نو بالز کرائیں گے۔

ادھر لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر نے کہا ہے کہ ’سپاٹ فکسنگ‘ کے حوالے سے جن الزامات میں ان کی ٹیم کے ارکان کے نام آ رہے ہیں وہ سنگین نوعیت کے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ صرف الزامات ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان الزامات کی بنیاد پر کسی کا مستعفی ہونا ضروری نہیں۔

Image caption برطانوی اخبار نے اپنے اس آپریشن کی ویڈیو بھی جاری کی ہے

یاور سعید نے بتایا کہ ’سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیشی افسران نے ٹیم ہوٹل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر، محمد آصف اور کامران اکمل کے بیانات لیے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے محمد عامر، محمد آصف اور کپتان سلمان بٹ کے موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ’سپاٹ فکسنگ‘ سکینڈل کے حوالے سے رپورٹ پیش کی ہے۔ صدر زرداری نے اتوار کو پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

ادھر وزیرِ کھیل اعجاز حسین جاکھرانی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ہم پی سی بی کی جانب سے تفصیلی رپورٹ کے منتظر ہیں اور کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی اگر میچ فکسنگ میں ملوث پایا گیا تو اس پر تاحیات پابندی عائد کر دی جائے گی۔

ادھر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بک میکرز کو نقصان پہنچانے کی سازش کرنے کے الزام میں پینتس سالہ شخص کی گرفتاری کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی، دونوں کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کا انسدادِ رشوت ستانی یونٹ ان تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی کھلاڑی کو اس واقعے کے حوالے سے گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ پولیس کے پاس ہے اس لیے اب اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

نیوز آف دی ورلڈ کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹنگ ٹیم کے ارکان نے مشرقی بعید کے کاروباری حضرات کا روپ دھار کر ایک شخص کو پیسے دیے جس نے انھیں دوسرے دن کے کھیل کے بارے میں ٹھیک ٹھیک معلومات فراہم کیں۔

بی بی سی کے نمائندے اینڈی سوئس نے کہا کہ ان الزامات کا تعلق بظاہر بہت غیر ضروری معاملات سے ہے جو بہت سے لوگوں کو بہت غیر اہم اور معمولی نظر آتے ہیں لیکن یہ معمولی معلومات کھیل پر شرطیں لگانے والوں کے لیے بہت اہم اور بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شرطیں لگانے والے بہت ہی معمولی سی باتوں پر بھی سینکڑوں اور ہزاروں ڈالر کی شرطیں لگاتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایمانداری کرکٹ کے کھیل کا خاصا رہا ہے اور اس طرح کے الزامات کھیل کے لیے بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں