سیلاب میں مزہ نہیں رہا۔

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی پندرہویں کڑی جس میں وسعت اللہ خان صادق آباد پہنچ گئے ہیں۔

سیلاب شمالی علاقوں کے پہاڑی سلسلوں سے لے کر پنجاب کے سندھ میدان تک سڑکیں بہا کر لے گیا

جمعرات انیس اگست ( صادق آباد)

کبھی کبھی اندھا اعتماد بھی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے۔یہ بات میں کیوں کہہ رہا ہوں۔آپ کو پڑھتے پڑھتے لگ پتا جائے گا۔

کوٹ مٹھن سے واپسی پر تاج گوپانگ اور اسلم رسول پوری کو راجن پور چھوڑا۔آگے کی راہ سنسان ، پراسرار و پر خطر ہے۔نو روز کے مسلسل سفر کے دوران شائید ہی دس پندرہ کیلومیٹر سے زائد کی کوئی ویران پٹی ملی ہو جیسی راجن پور سے کشمور تک کوئی ایک سو دس کیلومیٹر کی پٹی ہے۔انڈس ہائی وے پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسا ویرانہ ہے کہ کوئی بے گھر سیلاب زدہ بھی سڑک پر بیٹھا دکھائی نہیں پڑ رہا ۔

ٹھنڈی ٹھنڈی زردی مائل چاندنی میں انڈس ہائی وے کے دونوں جانب تاحدِ نگاہ سیلابی پانی سیال چاندی کی صورت پھیلا ہوا ہے۔ جی چاہ رہا ہے کچھ دیر کے لئے گاڑی رک جائے اور میں کنارے سے اتر کر اس ہلکورے لیتی سیال چاندی میں پاؤں رکھ دوں۔

میں نے اپنے ساتھی ڈرائیور وسیم عباس سے پوچھا۔کیا کچھ دیر کے لئے گاڑی روک سکتے ہو۔اس نے مجھے بغور دیکھتے ہوئے کہا سر یہ علاقہ بھروسے والا نہیں ہے۔بس ڈیڑھ گھنٹے میں کشمور پہنچ جائیں گے۔پیشاب وہیں کر لیجئے گا۔

وسیم عباس کا آخری جملہ سن کر میرے سر پر سوار جمالیاتی بھوت بھاگ نکلا اور میں دھڑام سے ایک بار پھر تلخ حقیقی دنیا میں گر گیا۔

آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد روجھان مزاری کی روشنیاں دکھائی پڑنے لگیں۔ہائی وے کے دونوں جانب کھلے ریستورانوں میں چہل پہل تھی۔ایک ریستوران کے باہر کیبل ٹی وی کوئی انڈین فلم چل رہی تھی اور بیس پچیس مقامی اس میں غرق تھے۔مگر یہ چہل پہل ہائی وے کے دم سے تھی۔روجھان مزاری قصبہ سڑک سے دریا کی جانب کچھ کیلومیٹر اندر ہے جہاں زندگی مغرب کے بعد بستر بچھا لیتی ہے ۔

چند برس پہلے میں ایک دن مرحوم شوکت مزاری کے ہاں رکا تھا۔دو سو برس پرانی نقشین چھت کے نیچے پورے کمرے کی چار دیواری پر یا پرانی بندوقیں سجی ہوئی تھیں یا پھر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کے فریم تھے۔ہر تصویر میں زوالفقار علی بھٹو ضرور تھے۔شوکت نے ایک ایک تصویر کے موقع محل کے بارے میں مجھے بتایا تھا۔ایک تصویر مجھے اسوقت بطورِ خاص یاد آرہی ہے جس میں بھٹو سفید ہیلی کاپٹر سے اتررہے ہیں اور ہیلی کاپٹر کو سیلاب زدہ مزاریوں نے گھیر رکھا ہے۔

Image caption سیلاب سے ہونے والی تباہی کی تصویر پورے ملک میں ایک جیسی ہے

جی تو بہت چاہ رہا ہے کہ آج پھر روجھان مزاری قصبے کے اندر جاؤں لیکن وہاں اب شوکت مزاری نہیں ہے۔کسی نے مجھے راجن پور میں یہ بھی بتایا تھا کہ تحصیل روجھان مزاری میں خاصا نقصان ہوا ہے لیکن مزاری سماج مزاجاً شمالی کوریائی ہے۔چنانچہ اس بند قبائیلی سماج میں آج بھی بیرونی دنیا کی مداخلت بہت زیادہ پسند نہیں کی جاتی۔اگر رات نہ ڈھل رہی ہوتی اور کوئی مقامی مزاری ساتھ ہوتا تو میں ضرور قصبے کے اندر چلا جاتا۔بھلے کچھ دیر کے لئے ہی سہی۔

انڈس ہائی وے پر کھلے ریستورانوں میں سے ایک پر میں اور ڈرائیور چائے پینے کے لئے بیٹھ گئے۔اجنبیوں کو دیکھ کر مقامی دیدے تیزی سے گھومنے لگے۔ برابر کی چارپائی پر بیٹھے ایک عمر رسیدہ شخص نے پرانی روائیت کے مطابق حال احوال کا تبادلہ شروع کردیا۔میں نے باتوں باتوں میں پوچھا آپ کے علاقے سےسیلاب نے کیسا سلوک کیا ہے۔بوڑھا کچھ نہیں بولا۔میں نے پھر اپنی بات دھرائی ۔بوڑھے نے نگاہیں ملائے بغیر کہا۔

’بھٹو کے بعد سیلاب میں مزہ نہیں ہے ۔وہ کاپٹر ( ہیلی کاپٹر) میں آتا تھا اور دکھ لے جاتا تھا۔ابھی شہباز شریف بھی کاپٹر میں آیا تھا۔مگر مزا نہیں ہے۔‘

میں نے پوچھا آپ کہاں رہتے ہیں ؟ کہنے لگا رھتا تھا۔ اب نہیں رہتا۔سامنے والے میدان میں مکان تھا۔ابھی میں اور میرا بیٹا اور اس کی ماں اور میرے پوتے پوتیاں سڑک پر کھڑے ہوکر اسے دیکھتے ہیں ۔پانی اتنا ہے کہ جا نہیں سکتے اور مکان آ نہیں سکتا۔

معلوم نہیں کیوں اس بوڑھے کی باتیں سن کر بہت عرصے بعد دھاڑیں مارنے کو جی چاہا۔لیکن میں نے اپنے چہرے کو ہتھیلیوں کی پوری طاقت لگا کر ڈھانپ لیا اور تین چار منٹ تک حالتِ خوف میں بیٹھا رہا ۔کہیں چہرے پر نارملسی کی مصنوعی قلعی بکھر نہ جائے۔

Image caption شمالی علاقوں سے تو سیلاب تیزی سے نکل گیا لیکن میدانی علاقوں میں اس کی رفتار سست ہے

بوڑھے نے کھڑے ہو کر ہاتھ ملایا۔رخصت کیا اور پھر اسی چارپائی پر بیٹھ گیا۔گاڑی آگے بڑھ گئی۔کشمور تک ایک گھنٹے کا سفر تھا۔وہ انڈس ہائی وے جس پر نارمل حالات میں ہر دس سے پندرہ منٹ بعد کراچی سے پختون خواہ جانے والا مال بردار ٹرک ، نیٹو کےسامان سے لدا کنٹینر ٹریلر یا سپیڈو میٹر کی سوئی سے آزاد مسافر کوچ تقریباً ساؤنڈ بیریئر توڑتے ہوئےگذرتی تھی ۔جانے یہ سب ٹرک ، ٹریلر اور کوچیں کہاں دفعان ہوگئے۔ ۔آج وہووا رود کوہی کا پل ٹوٹے دو ہفتے ہوگئے ہیں۔نہ پل جڑے گا نہ انڈس ہائی وے بحال ہوگی۔

روجھان مزاری سے کشمور تک گھنٹے بھر کے سفر میں کرنے کو کچھ نہیں تھا۔لہذا میں سامنے سے منہ پر پڑنے والی ہیڈ لائٹس گنتا رہا۔تین مسافر بسیں، پانچ ٹرک ، دو کاریں ، دو ٹریکٹر ٹرالیاں اور تین موٹر سائکلیں گذریں اور پھر ہم کشمور میں داخل ہوگئے۔

کشمور سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کا ٹرانزٹ پوائنٹ ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے شہر صرف دو طبقات پر مشتمل ہو۔ایک طبقہ ٹرک اور بسیں چلاتا ہے۔اور دوسرا طبقہ پہلے طبقے کی مالش کرتا ہے۔کھانا اور چرس کا سگریٹ فراہم کرتا ہے۔دلہن کی طرح سجے ٹرکوں اور بسوں کو دھوتا ہے سنوارتا ہے اور آگے روانہ کردیتا ہے۔

بڑے بڑے ٹرک اڈے ، رنگین ٹیوب لائٹس سے جگمگاتےبڑے بڑے ریسٹورنٹ ۔بڑی بڑی چارپائیاں۔ان پر رکھے ہوئے نیلے رنگ کے بڑے بڑے کولر اور تھوکنے اور ہاتھ دھونے کے لئے ہر چارپائی کے نیچے دھرے ڈالڈا کے خالی ڈبے۔ اگر کسی روز اچانک ٹرک اور بسیں دنیا سے غائب ہوجائیں تو کشمور بھی لیٹ جائے گا۔بعض شہروں کی قسمت ہی ٹائروں سے بندھی ہوئی ہوتی ہے۔کشمور کا یہ ٹرانسپورٹرانہ ماحول دیکھ کر کسی کو گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ پاکستان میں چاول کی سب سے بڑی فصل بھی کشمور ضلع میں ہی ہوتی ہے۔

یہاں سے ہم نے انڈس ہائی وے سے رخصت لی اور گڈو بیراج جانے والی پتلی سڑک پر چڑھ گئے۔میں نے زندگی میں پاکستان اور بیرونِ پاکستان کئی سڑکیں ناپی ہیں۔ لیکن کشمور سے گڈو بیراج تک کے دس کیلومیٹر ہمیشہ یاد رہیں گے۔کاش یہ کچا راستہ ہوتا تو کتنا آرام دہ ہوتا۔

سڑک پر گڑھے نہیں ہیں چھوٹے چھوٹے غار ہیں۔ کہیں کہیں ڈامر کے پورے پورے ٹکڑے اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور گاڑی گیند کی طرح اچھلتی ہے۔ چونکہ دریا سے بالکل جڑا ہوا علاقہ ہے اس لئے بھاری گاڑیوں نے راہ گذر کی مٹی پیس پیس کر پاؤڈر کردی ہے۔ سڑک اتنی چوڑی نہیں کہ ایک ساتھ دو گاڑیاں گزر سکیں لہذا ایک گاڑی کو لامحالہ نیچے اترنا پڑتا ہے۔ اور اس کے بھاری ٹائروں سے پوڈر جیسی مٹی یوں اوپر اٹھتی ہے کہ ڈائریکٹ پھیپڑوں میں پہنچ کر رکتی ہے۔ بیراج تک سڑک کا یہی حال ہے۔راستے میں تین مال بردار ٹرک کچھوے کی طرح الٹے ہوئے نظر آئے ۔جس سڑک پر ملک کا بہت بڑا بجلی گھر اور اس سے بھی زیادہ اہم بیراج ہے۔اس کا یہ حال کیوں ہے کہ پتہ اچھل کر حلق میں آجائے ؟؟ اس کا جواب دفاعی ، طبی ، مواصلاتی یا انتظامی ماہرین میں سے کون دے سکتا ہے ؟ خدا بہتر جانتا ہے۔

Image caption سینکڑوں پل سیلاب کی نذر ہو گئے

بیراج شروع ہونے سے ذرا پہلے رینجرز کی ایک گاڑی کھڑی تھی۔انہوں نے ٹارچ مار کر چہرے دیکھے ۔کہاں جارہے ہیں کہاں سے آرہے ہیں ٹائپ سوالات کئے اور ٹارچ ہلا کر آگے بڑھنے کا سگنل دے دیا۔ نیچے گیارہ لاکھ کیوسک سے زائد پانی گذر رہا ہے اور اوپر سے ہم گذر رہے ہیں۔ سوائے بیراج کے ہر طرف گھپ اندھیرا ہے۔ پانی کے دل دہلاؤ شور سے دریا کا عضہ ناپا جاسکتا ہے۔نمی اتنی زیادہ کہ اس نے دھند کی شکل اختیار کرلی ہے۔ معلوم نہیں سندھو کو دریا کیوں کہتے ہیں۔دریا اتنے چوڑے اور اتنے ہیبت ناک تھوڑا ہی ہوتے ہیں۔مگر یہ بات اگست کے مہینے میں گڈو بیراج سے گذرے بغیر سمجھ میں آ بھی نہیں سکتی۔

کوئی پانچ منٹ تک گاڑی بیراج پر دوڑتی رہی اور اس راستے پر آگئی جو مزید چالیس کیلومیٹر کی مسافت کے بعد ہمیں قومی شاہراہ پر پہنچا دے گا۔جسے پیار سے مقامی لوگ کے ایل پی ( کراچی ۔لاہور۔پشاور ہائی وے) کہتے ہیں۔

ہم کے ایل پی کے ٹی جنکشن پر پہنچ کر بائیں جانب مڑ گئے ۔صادق آباد تیس کلومیٹر۔ دل نے پلاؤ پکانا شروع کردیا۔بس آدھے گھنٹے ہی کی تو بات ہے۔آرام سے گیسٹ ہاؤس پہنچیں گے۔نہائے دھوئیں گے۔گرم کھانا کھائیں گے۔صادق آباد انتیس کیلو میٹر۔۔۔۔صبح تک آرام کریں گے ۔اٹھ کر رپورٹ بھیجیں گے اور پھر بھونگ کی طرف نکل کھڑے ہوں گے۔صادق آباد اٹھائیس کیلو میٹر۔۔۔

اور پھر گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔ہمارے آگے ایک کے بعد ایک کے بعد ایک کے بعد ایک کے بعد ایک کے بعد ایک کے بعد ایک ٹرک اور دیوہیکل کنٹینر ٹرالر تا حدِ نگاہ ساکت کھڑےہوئے تھے۔وسیم نے گاڑی کچے میں ڈال کر تین کیلو میٹر بھگائی۔ پھر سڑک کے پکے کنارے پر ایک ڈیڑھ کلو میٹر بھگائی۔ پھر مخالف سمت سے آنے والی ٹریفک کی شاہراہ پر دو ڈھائی کیلومیٹر بھگائی لیکن ٹریفک جام کا اژدھا اتنے کا اتنا ہی رہا۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ سینکڑوں ٹرکوں پر مشتمل اس لائن کا اگلا سرا کہاں پر ہوگا۔

ایک مقام پر آ کر وسیم کی مہارت اور پھرتی بھی جواب دے گئی۔کیونکہ آگے بڑھنے کی زرا سی بھی گنجائش نہیں تھی۔ہر ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ ناقابلِ اختتام لائن پانچ چھ سو گز آگے بڑھتی اور پھر اگلے ایک گھنٹے کے لئے ساکت ہوجاتی۔بس اتنا معلوم ہو سکا کہ سندھ اور پنجاب کی حد پر واقع کوٹ سبزل کے قصبے سے کے ایل پی کے آر پار سیلابی دھارا اتنی تیزی سے بہہ رہا ہے کہ صرف بھاری ٹریفک کو ہی اسے پار کرنے کی اجازت ہے۔کاروں اور موٹر سائکلوں کو سائڈ میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ پولیس ایک جانب سے جب سو سوا سو ٹرک گذروانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تب دوسری جانب کے اتنے ہی ٹرکوں کو یہ دھارا پار کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔کئی ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ سحری کے وقت سے اس ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ روزہ بھی یہیں رکھا اور کھولا بھی یہیں۔اور جس رفتار سے یہ آہنی قطار آگے بڑھ رہی ہے۔ اگلی سحری بھی انشااللہ یہیں ہوگی۔

صرف یہی ایک مصیبت نہیں تھی۔ ہوا بھی رکی ہوئی تھی۔ مجال ہے ایک پتہ بھی ہل رہا ہو۔ سب ہی نے اپنی قمیضیں اتاری ہوئی تھیں۔ میں نے بھی اتار کر کمر سے باندھ لی۔ایک ٹرک ڈرائیور نے ترس کھا کر پانی کا لوٹا دیا۔ جسے میں نے سر پر انڈیل لیا۔

میں نے دل ہی دل میں اپنے شیڈول پر اناللہ وانا علیہ راجعون پڑھ لیا۔ خود کو ذہنی طور پر اگلے چوبیس گھنٹے اسی جگہ رہنے پر تیار کیا۔ دل و دماغ سکون میں آگئے۔ٹینشن ختم ہوگئی۔گاڑی کے شیشے چڑھائے۔اے سی آن کیا۔ سیٹ پیچھے کی اور ڈیش بورڈ پر پیر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔

آنکھ اس وقت کھلی جب گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھتی محسوس ہوئی۔ وسیم چیخا ٹریفک کھل گیا ہے۔گھڑی دیکھی تو صبح کے سوا چار بج رہے تھے۔گاڑی بھاگتے چلتے اور ٹیک کرتے ٹرکوں کے بیچ میں سے زگ زیگ ہوتی ہوئی لگ بھگ پانچ کیلومیٹر طے کرکے اس مقام تک پہنچ گئی جہاں تقریباً چالیس فٹ چوڑی اور ڈھائی تین فٹ اونچی پانی کی دیوار سڑک کے آر پار چل رہی تھی۔

ایک ٹریفک سارجنٹ قریب آیا۔

گزر جاؤ گے ؟

گزر جائیں گے ؟

وسیم نے گاڑی روکی پہلا گیئر لگایا اور خود کش بمبار کے انداز میں ایکسلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ بالکل ایسے جیسے بل فائٹنگ کا بیل منہ سے جھاگ نکالتا ہوا نوکیلے سینگ نیچے کرکے کھروں سے زمین کھودتے کھودتے دوڑ پڑتا ہے۔

کوئی تیس سیکنڈ کے لئے ونڈ سکرین کے آگے سفیدی چھا گئی اور پھر منظر بحال ہوگیا۔ لگ بھگ پانچ گھنٹے کے ٹریفک جام سے رہائی اتنی خوشی دے گئی جیسے عمرقید بھگتنے والا اچانک بغیر زہنی تیاری کے پانچویں برس میں رہا ہوجائے۔

قومی شاہراہ پر یہ سنگین مذاق پچھلے کئی روز سے جاری تھا۔ کوٹ سبزل میں ایک ٹرک ہوٹل پر کچھ دیر کے لئے گاڑی روکی گئی ۔اس ہوٹل کے مالک کے بقول ٹریفک جام کی کہانی اس دن شروع ہوئی تھی جب گڈو بیراج سے نکلنے والی رینی کینال کا پانی آپے سے باہر ہونے لگا ۔ کینال کے دوسری جانب آباد لوگوں نے خود کو بچانے کے لئے مبینہ طور پر راکٹ فائر کرکے دوسری جانب کے پشتے میں شگاف ڈال دیا۔ پانی نے کوٹ سبزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور پھر اس منہ زور دھارے نے قومی شاہراہ کے آرپار راستہ بنا کر ٹریفک معطل کردی۔

میں نے کوٹ سبزل کی حدود سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا کہ قومی شاہراہ کے کراچی جانے والے رخ پر پولیس گاڑیوں نے پنجاب کی طرف سے آنے والی ٹریفک بلاک کی ہوئی ہے۔ڈرائیور وسیم نے دوسری جانب کے ٹریفک جام کی طوالت ناپنے کے لئے کلومیٹر گننے شروع کردیئے۔ تئیس کلو میٹر تک گاڑیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کھڑی تھیں۔ذرا دیر بعد صادق آباد بائی پاس آگیا۔جس کے اختتام پر وہ ریسٹ ہاؤس نظر آیا جس میں ہمیں مبینہ طور پر وہ رات گزارنی تھی جو کبھی نہیں آئی ۔

بہرحال میں کمرے میں پہنچ گیا ہوں۔ باہر درخت پر بیٹھے کووں اور چڑیوں نے صبح کا ورد شروع کررکھا ہے۔اگر آنکھ لگ گئی تو ٹھیک۔ نہ لگی تو بھی ٹھیک۔ کیونکہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

اسی بارے میں