خیبر ایجنسی: اہلکاروں سمیت پانچ ہلاک

Image caption تحصیل باڑہ میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن کو دو روز بعد ایک سال مکمل ہو جائے گا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں مختلف کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار اور دو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک گاڑی میں ماموڑیں کے علاقے میں جا رہے تھے کہ اس دوران پہلے سے نصب بارودی مواد سے ایک دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے سے دو اہلکار صوبیدار محمد زاہد اور سپاہی محمد سہیل ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے یہ علاقے خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ان دونوں قبائلی ایجنسیوں میں اس وقت فوجی آپریشن جاری ہے۔

اس سے پہلے کل رات نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کو چھریوں کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن کو دو روز بعد ایک سال مکمل ہو جائے گا لیکن اس علاقہ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باڑہ بازار ایک سال سے بند ہے جس سے معاشی سرگرمیاں ختم ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس فوجی آپریشن کے ابتدائی چھ ماہ میں حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے جہاں ایسا لگتا تھا کہ علاقے میں اب امن قائم ہو جائے گا لیکن توقعات کے برعکس باقی چھ ماہ میں حالات مزید کشیدگی اختیار کرتے گئے۔

اسی بارے میں