ہسپتال تھا مگر نا تھا !

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی سولہویں کڑی جس میں وسعت اللہ خان صادق آباد میں ہیں۔

جمعرات انیس اگست ( صادق آباد)

گزری رات نیشنل ہائی وے پر ٹریفک جام کا تجربہ اتنا ہولناک تھا کہ غنودگی میں بھی ذہن نہ صرف جاگتا رہا بلکہ بار بار ریوائنڈ ہو کر مجھے کوٹ سبزل کی جانب دھکیلتا رہا جیسے میں اب بھی دیوہیکل لمبے لمبے ٹرالرز کے بیچ پھنسی گاڑی میں سو رہا ہوں۔ایک گھنٹے تک نیند کو طاری کرنے کی ناکام مشق کے بعد کھڑکی سے چھن کر آنے والی روشنی نے اٹھنے پر مجبور کردیا۔ مجھے ایک ہی طریقہ سمجھ میں آیا دماغ کے ریڈی ایٹر کو ٹھنڈا کرنے کا۔ بہت دیر تک شاور تلے کھڑا رہا۔۔

پونے دس بجے وقف ِ خدمتِ سماج قمر الزماں خاں اپنے ہی جیسے جواں سال رضاکاروں اور ڈاکٹروں کے ساتھ آن پہنچے۔ اس گروپ میں ایک صاحب سبزی منڈی کے تاجر ہیں۔ ایک ڈاکٹر کا تعلق شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان سے ہے۔ ایک لیڈی ڈاکٹر ہیں اور کچھ سماجی کارکن ہیں۔ سب کو سیلاب نے پچھلے دو ہفتے سے جوڑ رکھا ہے۔

یہ گروپ دوائیں اپنی جیب سے خریدتا ہے۔ دواؤں کے عطیات جمع کرتا ہے اور پھر ایک چھوٹے سے ٹرک میں رکھ کر صبح جو نکلتا ہے تو شام تک نکلا ہی رہتا ہے۔ میں کچھ وقت ان کے ساتھ بھی فیلڈ میں گزاروں گا۔ فی الحال تو یہ قافلہ بھونگ کی طرف جا رہا ہے اور بطور پخ میری گاڑی بھی ساتھ لگ لی ہے۔

صادق آباد سے لگ بھگ پندرہ کلومیٹر شمال کی جانب بھونگ شریف کا قصبہ احمد پور لمہ کے بعد آتا ہے۔اس پندرہ کلومیٹر کے راستے پر سب سے پہلے ایک خمیہ بستی دکھائی دی۔ یہ خیمہ بستی سڑک سے دو فٹ نیچے کھلے میدان میں بنائی گئی ہے۔ جب اردگرد کے زیرِ آب علاقوں سے لٹے پٹے خاندانوں نے ان خیموں میں پہلے روز قدم رکھا تو یقیناً خدا کا شکر ادا کیا ہوگا کہ کم ازکم دھوپ کے تپتے سائبان سے تو نجات ملی۔

پتہ یہ چلا کہ خیمہ بستی لگانے کے لئے اس میدان کا انتخاب مقامی افسروں نے کیا تھا۔ کیونکہ انہیں سن گن مل گئی تھی کہ وزیرِ اعلی شہباز شریف کئی روز سے کھلے آسمان تلے پڑے سیلابیوں کو دیکھنے کے لئے اچانک آ رہے ہیں۔ لہذا جو پہلی جگہ نظر آئی وہاں عجلت میں خیمے گڑنے شروع ہوگئے۔

Image caption سیلاب نے نہ کوئی محمود چھوڑا نہ آیاز

محکمہ زراعت والوں نے ہانپتے کانپتے میدان کے ایک کونے پر دو میزیں بچھا کر اس پر کچھ دوائیں اور ڈبے دھر دیئے اور ایک ڈنگر ڈاکٹر بٹھا دیا گیا۔اس کے سر پر ایک بینر بھی ٹنگ گیا۔

’یہاں مویشیوں کو مفت ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔گل گھوٹو کی بیماری سے بچنے کے لئے مویشیوں کے ہمراہ تشریف لائیں۔‘

کیمپ کے سامنے انسانوں کے علاج کے لئے بھی دو تنبو لگ گئے۔ایک میں ڈی ہائڈریشن کے مارے جھریوں زدہ چھوٹے سے بچے کو ڈرپ لگ رہی تھی۔ اور دوسرے تنبو کے نیچےمنرل واٹر کی بوتلوں کا انبار تھا جبکہ میز طرح طرح کی دواؤں اور سیرپس سے بھری ہوئی تھی۔ کچھ فاصلے پر انجمنِ فلاح ِ انسانیت ٹائپ کسی مقامی این جی او کے خیمے کی طنابیں کسی ہوئی تھیں ۔

یہ سارا منظر دیکھ کر افسران کو موقع پر معطل کرنے کے عادی چیف منسٹر صاحب یقیناً مطمئن ہوئے ہوں گے۔انہیں پناہ گزینوں کے سیمپلز سے بھی ملوایا گیا ہوگا جنہوں نے مقامی انتظامیہ کے بروقت اقدامات کو سراہا ہوگا۔

چیف منسٹر کے جانے کے بعد اگلی صبح آسمان نے اس خیمہ بستی کی انسپکشن شروع کردی۔ دو ڈھائی گھنٹے تک ایسی ٹوٹ کے بارش ہوئی کہ سڑک سے دو فٹ نیچے قائم اس ماڈل خیمہ بستی میں پانی بھر گیا۔غالباً جنوبی پنجاب میں یہ پہلا امدادی کیمپ تھا جو زیرِ آب آیا۔ تمام پناہ گزین کیمپ سے بچنے کے لئے ایک بار پھر سڑک پر آگئے ۔اب وہ ان افسران کو کوس رہے تھے جنہوں نے کیمپ قائم کرنے کے لئے اس نشیبی جگہ کا انتخاب کیا تھا۔

یہ واقعہ میرے پہنچنے سے چار روز پہلے پیش آیا تھا۔ کیمپ کی جگہ پھر بھی نہیں بدلی گئی ۔اس عرصے میں نشیبی میدان کا پانی دھوپ نے خشک کر دیا اور پناہ گزین دوبارہ انہی خیموں میں بسنے پر آمادہ ہوگئے۔ شائد انہیں مقامی انتظامیہ نے یہ کہہ کر قائل کیا ہو کہ موسم کے فرشتے میکائیل نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ آئندہ اس کیمپ پر برسات نہیں ہوگی۔

بھونگ کا عجیب منظر تھا۔ سولہ ہزار آبادی والا پورا قصبہ نہر کے پشتوں اور صادق آباد جانے والی سڑک پر بیٹھا ہوا تھا۔ کئی کے پاس خیمے تھے اور کئی درختوں کے نیچے سامان سمیت بیٹھے یا لیٹے ہوئے تھے۔

Image caption ہسپتال کے باہر کھلے آسمان تلے لگایا گیا عارضی طبی کیمپ

ہماری گاڑی نہر کے پشتے پر ایک ڈیڑھ کلومیٹر ڈرائیو کرتی ہوئی اس مقام تک گئی جہاں کچھ بھاری مشینیں کھڑی ہوئی تھیں اور بند کا بہہ جانے والا حصہ پاٹنے کے لئے بھاری پتھروں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ پھر ہم اسی پشتے پر چلتے ہوئے مخالف سمت میں گئے۔ وہاں قصبے کے سامنے کی سڑک ایسے سلیقے سے کٹی ہوئی تھی جیسے کسی نے ڈبل روٹی کا سلائس کاٹا ہو۔ قصبے میں جمع شدہ پانی اس جگہ سے باہر کی طرف نکل کر مزید پھیل رہا تھا۔ سامنے علاقے کےامیر ترین رئیس خاندان کے محلات ڈیڑھ ہفتے بعد بھی ڈھائی تین فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اور ان محلات کے پیچھے سے اس مسجد کا گنبد جھانک رہا تھا جو بھونگ کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔

میں پہلی دفعہ بھونگ کی یہ شہرہ آفاق مسجد دیکھنے اپنے اسکولی ہم جماعتوں کے ہمراہ چھتیس برس پہلے ڈے ٹرپ پر آیا تھا۔ سنگِ مرمر، لاجورد اور سنگِ سیاہ کا فراخدلانہ استعمال ، گنبد پر سونے کا چندھیا دینے والا کلس ۔آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے رنگوں سے چھت سے دیواروں تک کو ڈھانپتے ہوئے بیل بوٹے اور انکے درمیان نستعلیق میں لکھی گئی آئیتیں۔مجھ پر شعاعِ حسن تیرے حسن کو چھپاتی تھی وہ روشنی تھی کہ چہرہ نظر نہ آتا تھاوالی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔

اس مسجد سے وابستہ یہ کہانی بھی ہم نے بچپن میں ہی سنی تھی کہ رئیس غازی محمد کو خواب میں مسجد بنانے کی بشارت ہوئی تھی اور بشارت دینے والے نے یہ بھی کہا تھا کہ جس روز یہ مسجد مکمل ہوگی اس دن آپ کو آسمانوں میں بلا لیا جائے گا۔چنانچہ چالیس برس ہوگئے مگر تعمیراتی کام سمٹنے میں ہی نہیں آیا۔اللہ جانتا ہے اس کہانی میں کتنی صداقت ہے۔

مسجد کے بالکل سامنے رئیس غازی کے محل کا صدر دروازہ ، صحن اور کچھ کمرے بھی ہم بچوں کو دکھانے کے لئے کھول دیئے گئے تھے۔مگر اتنی شاندار مسجد اور محل کے اردگرد کے زیادہ تر مکانات بہت معمولی اور کچے تھے ۔ چھوٹا سا بازار گرد سے اٹا ہوا تھا۔ کچھ ٹھیلوں پر افسردہ سے پھل اور سبزیاں بک رہی تھیں۔ سب سے زیادہ رش ان دو ٹھیلوں پر تھا جہاں سے بھوکے زائرین آلو والے پکوڑے اور روٹیاں خرید رہے تھے۔ہم بھی انہی میں شامل تھے۔مجھے یاد ہے زرا زرا۔۔

چھتییس برس میں اس علاقے نے خاصی ترقی کرلی۔ صادق آباد سے آنے والی گرد آلود ٹوٹی سڑک کی جگہ ایک کشادہ سڑک نے لے لی ہے۔ قصبے کے اندر بیشتر مکانات پکے ہوگئے ہیں۔ سر پر ایک موبائیل کمپنی کا ٹاور بھی کھڑا ہے۔ بالکل شروع میں ایک شاندار میڈیکل کمپلیکس بھی ابھر آیا ہے ۔جس کے پہلو میں الغازی ٹرسٹ ہاسپٹل کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

ہمارے ساتھ سیلاب زدگان کی امداد کرنے والے رضاکاروں کی ٹیم کے ناظم قمر الزماں نے کہا کہ اگر آپ ان ڈوبے ہوئے محلات کو اندر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو رئیس غازی مرحوم کے صاحبزادے رئیس محبوب احمد اور ان کے بھتیجے رئیس محمد ابراہیم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔اس پیش کش کو بھلا کون کافر مسترد کرتا۔

دونوں روسا نے بڑی مہربانی کی کہ دس منٹ میں اپنے محل کے صدر دروازے پر ہمارے لئے آگئے۔ان کے اشارے پر اندر کھڑی کشتی بھی دروازے تک لائی گئی جس میں بیٹھ کر ہم محل کے اندر پندرہ بیس منٹ تک گھومتے رہے۔سیلاب اتنی تیزی سے آیا کہ کمروں میں فرنیچر یونہی رکھا رہ گیا۔ اب مکین اپنے اثاثے کو سوائے دور سے دیکھنے اور تصویریں بنوانے کے کچھ نہ کر سکتے تھے۔

Image caption ہسپتال آج کل خالی پڑا ہے

لیکن رئیس غازی محمد کا اپنا محل اور مسجد نسبتاً اونچائی کے سبب پانی کی مار سے بچ گئے ۔مگر باغ میں پانی کھڑا رہنے کے سبب اس ستر پچھتر برس پرانے محل کی ٹائلوں میں اوپر تک نمی آ گئی ہے اور رئیس محبوب کو مسلسل یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ اس تاریخی اثاثے کو نمی سے پہنچنے والے نقصان سے کیسے بچایا جائے۔

راجھستان سے نقل مکانی کرنے والے اندھڑ راجپوت قبیلے کے سردار نے لگ بھگ آٹھ سو برس قبل بھونگ کا قصبہ آباد کیا تھا۔رئیس غازی محمد اسی سردار کے وارث اور علاقے کے سب سے بڑے جاگیر دار تھے۔اس حیثیت میں انہیں ریاست بہاولپور کے دربارِ عباسیہ میں کرسی نشین کا درجہ بھی ملا ہوا تھا۔

سنہ تیس کے عشرے میں جب نواب آف بہاولپور صادق محمد خان خامس نے مہمان بننے کی درخواست قبول کی تو رئیس غازی نے نواب صاحب کے قیام کے لئے اس دور دراز علاقے میں یہ محل بنوایا اور نواب صاحب کی نذر کردیا۔نواب صاحب نے محل میں صرف ایک رات قیام کیا اور اس کی چابیاں میزبان کو لوٹاتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے آپ کے لئے تحفہ۔

رئیس غازی نے مسجد کی تعمیر سنہ چالیس کے عشرے میں شروع کی اور ستر کی دہائی میں ان کی وفات تک اس پر کام جاری رہا۔ مسجد کو انیس سو چھیاسی میں بہترین اسلامی فنِ تعمیر کے نمونے کا آغا خان ایوارڈ بھی ملا۔ محل میں ایوب خان سے پرویز مشرف تک اور ذوالفقار علی بھٹو سے یوسف رضا گیلانی تک سب آچکے ہیں۔ شائد ہی کوئی حکومت ایسی رہی ہو جو رئیس غازی محمد یا ان کے چار بیٹوں یا ان چار بیٹوں کی اولادوں سے ناخوش رہی ہو۔ ان سب نے تمام فوجی و نیم جمہوری و جمہوری ادوار میں علاقے کی نمائندگی کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ خاندان کے کچھ افراد حزبِ اختلاف میں چلے جاتے اور کچھ حزبِ اقتدار میں ۔آج بھی یہی پیٹرن ہے۔

جب ہم محلات اور مسجد دیکھ چکے تو دونوں روسا نے پیش کش کی کہ باقی گفتگو الغازی ہسپتال میں چل کر کرتے ہیں۔

رئیس محبوب اور ان کے بھتیجے رئیس ابراہیم کے بقول بھونگ شہر ہمیشہ سیلاب سے بچا رہا۔ صرف اردگرد کے دیہی علاقوں میں پانی آتا تھا۔ لیکن چھ اگست کی رات مقامی انتظامیہ کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود بھونگ سے دس میل دور داؤ والا بند ٹوٹ گیا یا توڑ دیا گیا۔ سیلابی پانی دندناتا ہوا بھونگ کی طرف بڑھنے لگا۔ بس اتنی مہلت ملی کہ شہر خالی ہو سکے ۔

Image caption راجن پور میں ابھی تک پانی کھڑا ہے

محلات کے مکینوں سے جھونپڑی والے تک سب محمود و ایاز پانی کے سامنے برابر ہوگئے۔ قصبہ آٹھ آٹھ فٹ پانی میں تیرنے لگا۔جب سب ڈوب گیا تو پھر اس کو بچانے کے لئے انتظامیہ حرکت میں آئی اور پانی کا دھارا گدو سے نکلنے والی رینی کنال میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔رینی کینال پانی کی اس قدر مقدار سے بدحواس ہوگئی اور کناروں سے باہر آنے لگی۔چنانچہ کینال کے دوسری جانب آباد قبیلے نے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے راکٹ لانچرز کا استعمال کیا اور کوٹ سبزل کی جانب والا پشتہ توڑ دیا۔ بھونگ کو تو خیر اس توڑم تاڑی سے کیا فائدہ ہوتا الٹا کوٹ سبزل پانی کے راستے میں آگیا اور پھر نیشنل ہائی وے پر پھیل گیا۔

رئیس محبوب احمد کا خیال ہے کہ بھونگ پر عذاب اس لئے آیا کیونکہ حکومتِ سندھ برسوں سے ریت جمع ہونے کے سبب گڈو بیراج کے تمام دروازے بروقت نہ کھلوا سکی۔ یوں حفاظتی بندوں پر پانی کا دباؤ ناقابلِ برداشت ہوگیا۔ لیکن ان کے بھتیجے رئیس ابراہیم کا خیال ہے کہ یہ تباہی آسمان سے آئی ہے۔ اور اس تباہی کے بعد ذاتی تعلقات کی بنا پر سندھ کے سینئر وزیر پیر مظہر الحق نے بھونگ کے ٹوٹے ہوئے پشتے کی مرمت کے لئے پتھر اور مشینری بھیجی۔ حکومتِ پنجاب بعد میں حرکت میں آئی۔

جس وقت یہ گفتگو جاری تھی ایک بوڑھا بلوچ جانے کیسے ہسپتال میں گھس آیا۔اس نے آبدیدہ ہوکر رئیس ابراہیم سے کچھ مدد مانگی۔ دونوں کے مابین سندھی میں مکالمہ ہوا۔ رئیس ابراہیم نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے تو اپنے گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں تیری کیا مدد کریں۔ بوڑھا بلوچ اس دلیل سے شائد پوری طرح قائل نہیں لگ رہا تھا۔ وہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا۔

ماحول میں تھوڑی سی افسردگی اور اداسی در آئی ۔میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی اور رئیس ابراہیم سے اس شاندار میڈیکل کمپلیکس کے بارے میں جاننا چاہا۔

’یہ الغازی چیریٹیبل ٹرسٹ ہسپتال میرے والد ( رئیس وزیر احمد) نے میرے دادا ( رئیس غازی محمد) کی خواہش پر اپنی جیب سے بنوایا۔ایک سو بیس بستروں کے اس ہسپتال میں تمام جدید سہولتیں موجود ہیں۔ عام بیماریوں سے لےکر گائنی اور آرتھو پیڈک کے علاج تک سب سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ ہر مہینے دو مہینے بعد آنکھوں کے علاج کا کیمپ بھی لگتا ہے۔آپ نے گیٹ کے باہر وہ بورڈ تو دیکھا ہوگا جس پر سپیشلسٹس کے نام لکھے ہوئے ہیں۔

یہ ڈاکٹر صادق آباد اور رحیم یار خان سے یہاں آ کر علاج کرتے ہیں۔صرف بھونگ سے نہیں دریا پار راجن پور سے لے کر کشمور اور گھوٹکی تک کے مریض یہاں آتے ہیں۔ ہسپتال پچھلے نو برس سے علاقے کے لوگوں کی چوبیس گھنٹے خدمت کرتا ہے۔ ہم ایسی شاندار عمارت اور سہولتوں والا کمپلیکس اگر لاہور ، کراچی یا رحیم یار خان میں بناتے تو یقین جانئے یہ آغا خان کی ٹکر کا ہسپتال ہوتا۔ہم اس سے کروڑوں روپے کما سکتے تھے۔لیکن دادا کی خواہش تھی کہ یہ ہسپتال دیہی علاقے میں بنے کیونکہ شہر والوں کے پاس تو یہ سہولتیں پہلے سے ہی موجود ہیں۔الحمدللہ دادا کا خواب پورا ہوا۔اور اب یہاں آنے والے ہزاروں مریض دعائیں دیتے ہیں۔‘

رئیس ابراہیم جب مونو لاگ کی شکل میں اس ہسپتال کے مقاصد اور سہولتوں پر روشنی ڈال چکے تو پھر ڈائیلاگ شروع ہوا۔

اس وقت یہ ہسپتال سائیں سائیں کیوں کررہا ہے؟

چونکہ نچلا عملہ مقامی ہے لہذا جب سیلاب آیا تو ہم نے انہیں چھٹی دے دی تاکہ وہ اپنے گھر والوں کو بچا ئیں اور انکی دیکھ بھال کرسکیں۔

ڈاکٹر کہاں ہیں ؟

ڈاکٹر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا صادق آباد اور رحیم یار خان سے آتے ہیں۔ آج کل سیلاب کے ڈر سے نہیں آرہے۔

اس ہسپتال کی چار دیواری کے باہر ایک خیمے میں دو عورتوں کو ڈرپ لگی ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک عورت غالباً حاملہ ہے۔کیا ان دو خواتین کو ایک سو بیس بستروں کے اس جدید ترین ہسپتال میں نہیں لٹایا جاسکتا تھا ؟؟

جب سیلاب آیا تو یقین کریں اس ہسپتال کے لان میں سات آٹھ سو سیلاب زدگان ہم نے ٹھرائے تھے۔ پھر حکومت نے کہا کہ ہم نے انکے لئے خیمہ بستی بنا دی ہے۔چنانچہ آٹھ دن بعد انہیں خیموں میں شفٹ کردیا گیا۔

لیکن میں آپ سے یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ جو میڈیکل کیمپ ہسپتال کے باہر خیموں میں لگا ہوا ہے وہ اس چار دیواری میں کیوں نہیں لگ سکتا۔ہسپتال ایمرجنسی کے لئے ہوتے ہیں۔اس سے بڑی ایمرجنسی اور کیا ہوگی ؟؟؟

وہ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن ہسپتال کے باہر والا کیمپ حکومتِ پنجاب نے لگایا ہے۔اور ہم سے جتنا ممکن ہے ان کی مدد کررہے ہیں۔اسوقت علاقے میں وزیرِ صحت مخدوم شہاب الدین کی دو ، حکومتِ پنجاب کی دو اور ہمارے ہسپتال کی دو ایمبولینسیں کام کررہی ہیں۔ان ایمبولینسوں کا عملہ سارا دن لوگوں کی مدد کرنے کے بعد یہیں آکر سوتا ہے۔

ہسپتال میں دواؤں کے ذخیرے کی کیا پوزیشن ہے ؟

ہمارے پاس جو دوائیں تھیں وہ ہم نے حکومت کے حوالے کردیں۔

لیکن وہ دوائیں اس ہسپتال میں بھی تو استعمال ہو سکتی تھیں ؟

لیکن اس وقت ان دواؤں کی باہر زیادہ ضرورت ہے ؟

اچھا یہ بتائیے کہ آپ کا خاندان اس علاقے کا سب سے طاقتور سیاسی خاندان ہے اور اللہ نے آپ کو وسائل بھی بہت دئیے ہیں۔آپ کیا کرر ہے ہیں؟

Image caption بہت سے علاقوں میں پانی ابھی تک نہیں اترا

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم خود بے گھر ہیں۔ میں خود پانچ دن تک خیموں میں سوتا رہا ہوں۔ہماری فصلیں اور باغات بھی تباہ ہیں۔اس کے باوجود ہم نے آٹھ سو پناہ گزینوں کی اسوقت تک کفالت کی جب تک وہ ہسپتال کے لان پر رہتے رہے۔دادا کے زمانے سے ایک لنگر بھی چل رہا ہے۔اسکے علاوہ ہم باہر کے لوگوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی آنکھوں سے یہاں کی تباہی کا نظارہ دیکھیں۔ شہباز شریف دو دفعہ آچکے ہیں۔ دوسری دفعہ تو خیر وہ اچانک ہیلی پیڈ سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر آئے اور چلے گئے۔ کل پرائم منسٹر صاحب بھی آرہے ہیں۔ہم ان کے سامنے بھی مسائل رکھیں گے۔ہم سے بطور فیملی جتنا ہورہا ہے کررہے ہیں۔

میں اس گفتگو کے بعد چپ تو ہوگیا مگر بوڑھے بلوچ کی طرح غیر مطمئن ہی رخصت ہوا۔ باہر نکلتے ہوئے عمارت کے پچھلے

کونے کے ساتھ ایک ایمبولینس الگ تھلگ روٹھی روٹھی سی کھڑی تھی۔میرے ایک ساتھی رضاکار نے کہنی مارتے ہوئے کہا کہیں یہ ایمبولینس ان دو میں سے تو نہیں ہے جو اسوقت فیلڈ میں سیلاب زدگان کی خدمت کررہی ہیں !!

میں دوبارہ اپنے رضاکار دوستوں کے ہمراہ صادق آباد شہر پہنچ چکا ہوں۔ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے میں رئیس ابراہیم ، قمر الزماں کو پانچ فون کرچکے ہیں۔ دو مرتبہ مجھ سے بھی بات کرائی گئی ہے۔ کسی نے ان کے بابا رئیس وزیر احمد کو مخبری کردی کہ ہسپتال میں کیا گفتگو ہوئی ہے۔ بابا رئیس ابراہیم سے سخت خفا ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ پھر بھونگ آؤں اور بابا سے ملوں تاکہ العازی چیریٹیبل ہسپتال کے بانی کے طور پر وہ مجھے ہسپتال کی خدمات کے بارے میں مطمئن کر سکیں۔ میری مجبوری یہ ہے کہ تھوڑی دیر بعد ٹیلوں پر بیٹھے سیلاب زدگان سے ملنے بھی جانا ہے اور اسکے فوراً بعد رحیم یار خان میں کچھ گھنٹے رکتے ہوئے چاچڑاں شریف پہنچنا ہے۔۔سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں سوائے رئیس ابراہیم سے ہمدردی کرنے کے علاوہ !!!

اسی بارے میں