مکلی کا قبرستان سیلاب زدگان کا ٹھکانہ

زیریں سندھ کے شہر ٹھٹہ کے دو کلومیٹر باہر واقع مکلی کا تاریخی قبرستان اس وقت سیلاب زدگان کا ایک اوپن کیمپ بن گیا ہے۔ تاریخی اہمیت کے حامل اس قبرستان میں اب تدفین نہیں ہوتی مگر شاید یہ پہلا قبرستان ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔

ٹھٹہ کے پہاڑی علاقے مکلی پر ڈی سی او آفیس سے لے کر پبلک پارک اور سڑکوں پر لوگوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں مگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس قبرستان کا رخ کیا ہے۔

ٹھٹہ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زیریں علاقوں دڑو، میرپور بٹھورو، سجاول، جاتی اور چوھڑ جمالی سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، جس کے بعد لوگوں کی اکثریت ٹھٹہ شہر پہنچی مگر شہر سے چار کلومیٹر دور جب پی بی بچاؤ بند کو شگاف پڑا تو ٹھٹہ شہر کو بھی خالی کرنے کا حکم جاری ہوا جس کے بعد تمام لوگوں نے مکلی کو بسیرا بنالیا جو پہاڑی پر واقع ہے۔

چودھویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی کے اس قبرستان میں اُس وقت کے گورنروں، سپاہیوں، سرداروں اور علماء کی قبریں موجود ہیں، جو سندھ کے سماں حکمرانوں کے علاوہ، ارغون، ترخان اور مغل دور سے تعلق رکھتی ہیں، اسے قبرستان کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔

کئی ایکڑ پر پھیلے ہوئے قبرستان میں کچھ بچے قبروں کو تکیوں کے طور پر استعمال کرتے نظر آئے تو کچھ لوگوں نے مقبروں کی دیواروں سے سایہ حاصل کیا ہے۔

محمد عثمان کا تعلق کوٹ عالموں سے ہے جہاں دریائے سندھ کو شگاف پڑا اور ان کا گاؤں زیر آب آگیا، وہ گزشتہ چار روز سے قبرستان میں رہتے ہیں۔

’کیا کریں اس ویرانے میں بیٹھے ہیں، کوئی راشن پانی بھی نہیں دیتا یہ قبرستان ہے مجبوری میں یہاں بیٹھے ہیں یہاں بچوں اور خواتین کے لیے کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے، انتظامیہ اعلانات تو بہت کر رہی ہے مگر بچوں کو دوائی تک دستیاب نہیں ہے۔‘

قبرستان میں قبروں میں گھرے ہوئے ایک قدیم کنویں سے کچھ لوگ پینے کا پانی حاصل کر رہے تھے۔ یہاں ایک شخص محمد بخش کا کہنا تھا کہ اور پانی یہاں دستیاب نہیں صرف یہ پانی ہے اس کے استعمال سے بچوں کے پیٹ میں تکلیف ہوتی ہے مگر انہیں پیاسا بھی تو نہیں مارسکتے اس لیے یہ پانی استعمال کرتے ہیں۔

قبرستان کے داخلی راستے کے قریب پانی کی ایک بڑی ٹنکی بنی ہوئی نظر آئی جس کی حالت خستہ ہوجانے کے بعد شاید اسے بند کردیا گیا تھا۔

قبروں کے بیچ کچھ خواتین کھانا پکا رہے تھیں، یہ خواتین سجاول سے یہاں پہنچی ہیں۔ انہیں بھی حکومت کی طرف سے نہ کیمپوں میں رہائش اور نہ کھانے پینے کی سہولت حاصل تھی۔

زبیدہ نامی خاتون کا کہنا تھا کہ کہیں اور جگہ نہیں ملی اسی وجہ سے یہاں ٹھکانہ بنایا ہے۔ کیمپوں میں تو جگہ ہی نہیں یہاں بھی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جارہی۔

ایک دیگچی میں پیاز کے بگھار کے ساتھ وہ آلو پکا رہیں تھیں جبکہ تھوڑی دور ایک دوسرے چولھے پر جو لکڑیوں سے جلایا گیا تھا ایک اور خاتون چاول کی روٹی بنا رہی تھیں۔

مسمات زبیدہ نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز سے کچھ کھانے کو نہیں ملا تھا اس لیے بچے رات کو بھوکے ہی سوگئے تھے آج ان کے شوہر کچھ آٹا اور سبزی لائے ہیں جو پکا رہی ہیں۔

ان کے شوہر سجاول میں مزدوری کرتے تھے مگر اس حال میں بھی وہ قدرے خوش ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلمان ہیں اس لیے انہیں اس قبرستان میں جگہ مل گئی کچھ ہندو خاندانوں کو تو قبرستان بھی دستیاب نہیں۔

دیگر اضلاع کے مقابلے میں ٹھٹہ میں کہیں بھی منظم کیمپ نظر نہیں آیا پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ بچوں کو جلدی امراض تو تھے مگر طبی کیمپ اور ڈاکٹروں کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آیا ۔

صوبائی وزیر سسئی پلیجو کا کہنا ہے کہ ان کے ضلعے کے پانچ لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اب جب ٹھٹہ کو خطرہ نہیں رہا کچھ ان لوگوں کی تعداد کم ہوگی کچھ لوگوں کو کراچی بھیجنے کی کوشش ہو رہی ہے اس کے علاوہ حکومت سے خیمے بھی فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

سسئی پلیجو کا کہنا تھا کہ ایک خیمہ بستی ایک دو روز میں قائم ہوجائے گی جس میں مکلی کے قبرستان میں موجود لوگوں کو منتقل کردیا جائے گا۔سسئی کی بات اپنی جگہ مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید کم ہے کہ وہ کیمپوں میں منتقل کردیے جائیں گے۔

اسی بارے میں