’سپاٹ فکسنگ کی رپورٹ دی جائے‘

رحمان ملک
Image caption جب رپورٹ آئےگی تو پاکستان کے تفتیش کار اس کا جائزہ لیں گے اور حکمت عملی طے کی جائےگی

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مبینہ سپاٹ فکسنگ کی ابتدائی رپورٹ فراہم کی جائے۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے بتایا کہ سیکریٹری داخلہ نے اسلام آباد میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے رابطہ افسر سے ملاقات کر کے کہا ہے کہ اس واقعے کی رپورٹ دی جائے۔

ان کے مطابق اگر ضرورت پڑتی ہے تو ایک ٹیم لندن جا کر حقائق جاننے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رپورٹ آنے کا انتظار کریں۔ جب رپورٹ آئےگی تو پاکستان کے تفتیش کار اس کا جائزہ لیں گے جس کے بعد حکمت عملی طے کی جائےگی۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر کوئی حقائق سامنے آتے بھی ہیں تو وہ وزارت کھیل کو دستیاب ہوں گے۔ وزارت کھیل ہی کا مرکزی کردار ہوگا کیونکہ جو کھلاڑی یا حکام ہیں وہ وزرات کھیل کے ملازم ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی ملک میں کسی کارروائی میں ملوث پایا جاتا ہے یا کوئی انکوائری آتی ہے تو فوری ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں اس کی رپورٹ آجاتی ہے۔

’جب لندن سے یہ اطلاعات آئیں تو ڈی جی ایف آئی اے نے فوری ایکشن لیا اور انٹرپول سے رابطہ کر کے کہا کہ اس میں پاکستان اور پاکستانیوں کا نام آ رہا ہے۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ آپ نے کس بنیاد پر یہ چھاپہ مارا اور یہ قدم اٹھایا‘۔

ُادھر وفاقی وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی کا کہنا ہے کہ یہ خبر پاکستان کے لیے تو بدنامی کا باعث بنی مگر کرکیٹ کے شائقین کے لیے بھی ایک صدمہ ہے۔

’اس وقت ہم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب رپورٹ آئے گی تو اس کا جائزہ لے کر ٹیم تشکیل دیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اسے برطانیہ بھیجیں گے۔

اسی بارے میں