پاکستانی وفد کو جہاز سے اتار دیا گیا

پاکستانی فوج کے ایک وفد کا امریکی دورہ اس وقت منسوخ کردیا جب اس وفد کو واشنگٹن کے ڈیلس ائیرپورٹ پر ایک پرواز سے ایک مسافر کی شکایت پر اتار دیا گیا۔

پاکستانی فوج کا نو رکنی وفد ٹامپا میں واقع امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے دفتر ایک اجلاس کے لیے جا رہا تھا۔

واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار زبیر احمد نے بتایا کہ یونایٹڈ ایرلائنز کی پرواز کے دوران ایک مسافر نے غیر ملکی افراد کو ایک ساتھ دیکھ کر اور اردو زبان میں ان کی گفتگو سن کر ائیرلائن کے منتظمین سے انھیں پرواز سے اتارنے کا مطالبہ کیا۔

پرواز کو واشنگٹن کے ڈیلس ائیرپورٹ پر اتارا گیا اور وفد کے تمام نو ارکان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بعد میں امریکی حکام نے بھی ان سے پوچھ گچھ کی۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کی وفد کے رہنما نے حکام کو کاغذات دکھانے کے علاوہ یہ بھی بتایا کے وہ امریکی فوجی حکام سے سرکاری بات چیت کے لیے ٹامپا جا رہے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود جب حکام نے دوسری بار وفد سے پوچھ گچھ کی تو وفد کے سربراہ میجر جنرل نے ٹامپا کا سفر منسوخ کر دیا اور احتجاج کے طور پر پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

ائیرلائن کی انتظامیہ نے اس واقعہ پر معذرت کا اظہار کیا ہے اور بعد میں امریکی وزارت دفاع نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفد کو اپنا فیصلہ بدلنے کی درخواست کی۔

پاکستانی سفارت خانے کے مطابق وفد کا فیصلہ حتمی ہے اور تمام ارکان واپس پاکستان لوٹ رہے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع نے اس واقعہ پر معافی ضرور مانگی ہے لیکن پاکستانی فوجی وفد نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ایک پاکستانی فوجی وفد جو سینٹ کام کی دعوت پر امریکہ کے دورے پر گیا تھا کو واشنگٹن ائرپورٹ پر ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے غیر ضروری سکیورٹی چیکس سے گزارا گیا۔

پاکستانی فوجی وفد کوسکیورٹی چیک سے گزارنے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بیان کے مطابق امریکی دفاعی ادارے کے حکام نے اس واقعہ پر پاکستان سےمعذرت کی ہے۔ تاہم واشنگٹن ائرپورٹ پر پاکستانی فوجی وفد کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے پر پاکستانی فوج نے احتجاجاً یہ دورہ منسوخ کرتے ہوئے اپنے وفد کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں