’امداد کل ملے گی‘

Image caption شانگلہ میں متاثرین کی ایک بڑی تعداد خوراک کی عدم دستیابی کی شکایت کرتی نظر آئی، کوئی بارہ گھنٹے کا سفر طے کر کے آیا تھا تو کوئی تین دن سے امداد کا منتظر دیکھائی دیا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع شانگلہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقے کروڑہ میں عالمی ادارہ خوراک کے امدادی مرکز کے باہر سخت دھوپ میں متاثرین کی طویل قطاروں کی جانب بڑھتے ہوئے اچانک ایک عمر رسیدہ شخص نے مجھے روک لیا۔

ان سے معلوم کیا کہ کس لیے روکا تو انھوں نے اشارے سے کچھ بتانے کی کوشش کی۔ اس دوران قریب کھڑے ہوئے ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ ان کا نام ابراہیم خان ہے اور یہ یونین کونسل شاہ پور سے کئی گھنٹے کا پیدل سفر کر کے امداد کے لیے یہاں پہنچے ہیں۔

قریب کھڑے لوگوں نے بتایا کہ یہ گونگے بہرے ہیں اس لیے ان کے اشاروں سے بات سمجھنا پڑے گی۔

قریب کھڑے لوگوں کے ذریعے ان سے معلوم کیا کہ کیا ان کو اب تک خوراک ملی تو جواب ملا کہ نہیں ’گزشتہ پانچ، چھ روز سے اس امید سے آتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ مل جائے گا لیکن ناکام واپس لوٹنا پڑتا ہے‘۔

مزید سوال و جواب کے بعد معلوم ہوا کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے جس کی وجہ سے انھیں خود امداد کے لیے یہاں آنا پڑتا ہے۔

’تو آپ خوراک کے مرکز سے چھ سات سو گز کے فاصلے پر کیوں بیٹھے ہیں‘ اس پر ابراہیم خان نے جو چھڑی کے سہارے کھڑے تھے اشارے سے اپنی کانپتی ٹانگوں اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے امدادی مرکز کے باہر کھڑے ہجوم کی جانب دیکھا اور بتانے کی کوشش کی کہ ’اس طویل قطار میں کھڑا نہیں ہو سکتا‘۔

اسی دوران قریب میں کھڑے ہوئے چند افراد نے کہا کہ صبح چار بجے سے امداد کے لیے یہاں پہنچے ہیں لیکن سب سے آخر میں جگہ ملی ہے، اور اب دوپہر کا ایک بجنے والا ہے لیکن امداد کا کوئی پتہ نہیں۔

ابراہیم نے اسی دوران پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دور کہیں پہاڑوں میں چھپے ہوئے اپنے گاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں گھر کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ ’مصیبت میں ہوں کچھ کریں‘۔

سوچا کہ متعلقہ اہلکاروں کے پاس جا کہتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو ان کو جلد امداد دے دی جائے۔

یہ سوچ کر مرکز کی جانب روانہ ہوا تو لوگوں کے ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا۔ متاثرین کی قطاریں دھکے لگنے سے ایک فٹ آگے تو دو فٹ پیچھے ہو رہیں تھیں۔ یہ دیکھ کر سوچا کہ اس قطار میں گھنٹوں کھڑے ہونے کے لیے ہمیت چاہیے اور یہ ابراہیم خان جیسے لاغر شخص کے بس کا کام نہیں ہے۔

جوں جوں مرکز کے قریب پہنچا متاثرین کی ایک بڑی تعداد خوراک کی عدم دستیابی کی شکایت کرتی نظر آئی، کوئی بارہ گھنٹے کا سفر طے کر کے آیا تھا تو کوئی تین دن سے امداد کا منتظر دیکھائی دیا۔

اس دوران تھوڑی دور اچانک بھگڈر مچی اور لوگوں کا ایک ہجوم میری سمت بھاگتا ہوا نظر آیا۔ ہجوم سے بچنے کے لیے جلدی سے ایک طرف ہو گیا۔

اسی دوران ایک عمر رسیدہ شخص جس کی ٹانگیں، جوتے، کپڑے کچڑ سے لت پت تھے میرے قریب آ کر کچھ کہنے لگا۔ اشارے سے معلوم ہوا کہ یہ بھی بول نہیں سکتے اور مرکز کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن قطاروں میں کھڑے لوگوں کے دھکے برداشت نہیں کر سکتے اور قطار سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس والوں کے ڈنڈے برستے ہیں۔

اس دوران مرکز سے اعلان ہوا کہ گزشتہ روز ہونے والی بارش کی وجہ سے امداد نہیں پہنچی اور جوں تھوڑی بہت موجود تھی وہ تقسیم ہو چکی ہے لہذا اب امداد کل تقسیم ہو گی۔

اس دوران ہجوم کی جانب سے تھوڑی دیر کے لیے احتجاج ہوا اور پھر ہجوم نے واپس جانا شروع کر دیا۔ واپس جانے والے کتنے ہی متاثرین کے چہروں سے یہ پریشانی واضح طور پر عیاں تھی کہ وہ گھر جا کر فاقہ کشی پر مجبور اپنے بیوی بچوں کو کیا بتائیں گے۔

اسی بارے میں