کیمپوں کے بجائے مندر بہتر ہیں

سیلاب سے متاثرہ ہندو لوگ
Image caption ہندو برادری کے لوگوں نے امدادی کیمپوں میں امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے

دوپہر کے کھانے کا وقت ہے، لوگ شامیانوں سے نکل کر چبوترے کی طرف آرہے ہیں جہاں دریاں بچھائی گئی ہیں۔ اسٹیل کے پلیٹیں سب کے سامنے رکھی گئی ہیں جن میں چاول ڈالے جا رہے ہیں اور اس کے اوپر چنے کا سالن ۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع سوامی نارائن مندر کا یہ منظر ہے جس کے میدان میں قائم کیمپ میں چار سو سیلاب زدگان موجود ہیں۔

ہندو کمیونٹی کے یہ لوگ جیکب آباد، کشمور، ٹھٹہ اضلاع اور بلوچستان کے علاقوں سے آئے تھے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اوستہ محمد، گنداخہ اور جھٹ پٹ کے متاثرین واپس چلے گئے ہیں۔

اس کیمپ کے انچارج نانک رام چھابڑیا کا کہنا ہے کہ سوامی نارائن مندر کی انتظامیہ نے صوبے کے بڑے مندروں میں پیغام بھیجا تھا کہ متاثرین کراچی میں ان کے پاس آسکتے ہیں۔

ان کے مطابق ’یہ سب انتظام سوامی نارائن ٹرسٹ کی جانب سے کیا گیا ہے، جس میں کسی بھی سیاسی یا سماجی تنظیم کا کوئی کردار نہیں ہے۔ متاثرین کو کھانے پینے کے علاوہ طبی سہولیت فراہم کی گئی ہیں صبح اور شام ڈاکٹروں کی ٹیمیں آتی ہیں۔''

نانک رام نے بتایا کہ انہیں ایک سے ڈیڑھ مہینے تک کا وقت دیا گیا ہے اگر حالات معمول پر نہیں آتے تو یہ کیمپ مزید عرصے تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔

بابو رام ضلع ٹھٹہ کے شہر میرپور بٹھورو سے آئے ہیں جہاں ان کی سائیکلوں کی دکان تھی، وہ پہلے رلیف کیمپ میں گئے مگر اگلے ہی روز وہاں سے واپس آگئے۔

’وہاں راشن کا اگر ٹرک آتا تھا تو لوگ آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے۔ اس دوران کسی کا سر پھوٹ جاتا ہے تو کوئی گرکر زخمی ہوجاتا، عزت و احترام کے ساتھ کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا ہے۔ ہم نے سوچا کہ یہاں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اس لیے مندر میں آگئے، یہاں چائے کھانا صاف پانی سب دستیاب ہے۔''

مھیش کمار غوثپور ضلعہ کشمور سے تعلق رکھتے ہیں، دریائے سندھ کے ٹوڑھی بند میں شگاف پڑنے کے بعد سب سے پہلے غوثپور زیر آب آیا۔ غوثپور کا کاروبار ہندو کمیونٹی کے ہاتھ میں ہے۔ سیلاب کے وقت ان کی دکانوں سے لوٹ مار بھی ہوئی۔

Image caption سیلاب کے سبب اس بار جنم اشٹمی کا تہوار پھیکا ہے

مھیش کمار کا کہنا ہے کہ لوگوں کو وہاں کھانا کے لیے کچھ دستیاب نہیں تھا، جس وجہ سے انہوں نے دروازے توڑ کرکے ساری کی ساری چیزیں اٹھا لیں اور ایک دکان کو بھی نہیں چھوڑا ۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سارا دن مندر میں بھگوان کی مورتی کے سامنے بیٹھے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ غوثپور سے پانی نکلے تو وہاں چلے جائیں، مگر انہیں پتہ نہیں ہے کہ ان کی دکان میں سامان بچا ہوگا یا نہیں۔

دنیا بھر میں بدھ کو ہندو کمیونٹی نے سیتلا ماتا کی عبادت کی جسے اناج کی دیوی مانا جاتا ہے۔ اس موقع پر میٹھے پکوان بنائے جاتے ہیں جبکہ اگلے روز کرشن بھگوان کا جنم دن یعنی جنم اشٹمی کا تہوار منایا جاتا ہے۔

سوامی نارائن مندر میں ایک بچی شمائلہ نے بتایا کہ اس تہوار پر وہ بہت کچھ بناتے اور کھاتے ہیں۔’ پاپڑ، پکوڑے اور مال پڑے بناتے ہیں یہاں پر تو کچھ بھی نہیں ملا۔ یہاں پر کیمپ سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں ہے اس لیے سارا دن بیٹھ بیٹھ کر بیزار ہوجاتے ہیں اپنے گھر میں تو سارا دن چلتے اور کھیلتے ہیں۔''

کھلے میدان میں لگائے گئے، شامیانوں میں ہر علاقے کے لوگوں کو الگ الگ رہائش فراہم کی گئی ہے، اب بھی کئی متاثرین آرہے ہیں مگر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس گنجائش نہیں۔

ایک کمپاونڈ میں موجود اس مندر کے احاطے میں باگڑی کمیونٹی کے ایک خاندان سے ملاقات ہوئی، جو ناامید بیٹھا تھا۔ سیتا نامی عورت نے شکایت کی کہ کیمپ میں انہیں مسلمانوں کا بچاکچا کھانا دیتے ہیں جو بھی کاغذ پر رکھ کر، پینے کا پانی بھی اسی طریقے سے فراہم کیا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ تم ہندوں ہو، ان رویوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں نہ پہننے کو اور نہ ہی بچھانے کو کپڑا، مندر والے کہتے ہیں کہ جگہ نہیں ہے پھر وہ کہاں جائیں؟۔

اقلیتی امور کے صوبائی وزیر موھن لال کوہستانی بھی ہندو کمیونٹی سے روا رکھےگئے رویے کی تصدیق کرتے ہیں۔ بقول ان کے جام شورو، حیدرآباد اور سکھر سمیت پوری سندھ سے یہ شکایت پہنچی رہی ہیں کہ انہیں جھوٹا اور باسی کھانا مل رہا ہے۔

ان کے مطابق جہاں جہاں سے یہ شکایت آتی ہے وہاں کی ضلعی افسر سے بات کرتے ہیں کہ اور ان معاملات کو ٹھیک کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

کراچی شھر کی کیمپوں میں ساٹھ ہزار سے زائد سیلاب زدگان موجود ہیں۔ کچھ روز قبل ایک کیمپ میں گائے کا گوشت فراہم کرنے پر ہندو برداری کے لوگوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

صوبائی وزیر موھن لال کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے بعد انہوں نے چیف سیکریٹری سندھ سے بات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ اقلیتی لوگ زیادہ تر سبزیاں کھاتے ہیں وہ گوشت نہیں کھاتے اس لیے انہیں گائے کا گوشت فراہم نہیں کیا جائے۔

غیر سرکاری اعداد و شمار مطابق سندھ میں ہندو کمیونٹی کی آبادی تیس لاکھ سے زائد ہے، کاروبار اور سیاسی معاملات میں ہندو اقلیتی برداری کے صرف اونچے طبقے کو عمل دخل حاصل ہے اور اسی طبقے کے لوگ ایوان میں موجود ہیں۔ صوبائی وزیر موھن لال کا کہنا تھا کہ ہندو تاجروں کا کروڑوں رپوں کا نقصان ہوا ہے ان کو مدد فراہم کرنے کے لیے انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو گذارش کی ہے۔

اسی بارے میں