’ملیریا کے لاکھوں مریض ہو سکتے ہیں‘

فائل فوٹو، سیلاب متاثرین
Image caption تیس لاکھ بچے ایسے ہیں جو پانچ برس یا اس سے کم عمر کے ہیں اور ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے: این ڈی ایم اے

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ’این ڈی ایم اے‘ نے بتایا ہے کہ پاکستان کے پونے دو کروڑ سے زیادہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں سے چھبیس لاکھ سے زیادہ ملیریا اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب کالرا کے مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

’این ڈی ایم اے‘ کی ترجمان امل مسعود نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ تاحال سات لاکھ چونتیس ہزار سے زیادہ متاثرین کو جِلد اور پانچ لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو ڈائریا کی ادویات فراہم کی جاچکی ہیں۔

نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے ہوں یا حکومتِ پاکستان کے یا پھر غیر سرکاری تنظیمیں ان کے اعداد و شمار میں ہمیشہ فرق نظر آتا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ پندرہ سو چالیس سے زیادہ افراد کو سانپ اور دو ہزار دو سو سے زیادہ لوگوں کو کتے کاٹ چکے ہیں۔ کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں پیش آئے ہیں جہاں دو ہزار سے زائد افراد کو کتوں نے کاٹا۔

ترجمان کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں اکہتر ہیلی کاپٹر اور بارہ سو اڑتیس کشتیوں کی مدد سے تاحال تیرہ لاکھ بیالیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق پونے دو کروڑ سے زیادہ سیلاب متاثرین میں سے تیس لاکھ بچے ایسے ہیں جو پانچ برس یا اس سے کم عمر کے ہیں اور ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں