’میڈیا نے ایک سرکس لگا دیا: تاثیر

Image caption ’میں نے یہ تماشا پوری دنیا میں کہیں نہیں دیکھا: گورنر پنجاب سلمان تاثیر

گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ جس طرح سیالکوٹ میں مجمع نے دو بھائیوں کو ڈنڈے مار کر ہلاک کردیا تھا ٹھیک اسی طرح کا سلوک میڈیا پاکستانی کرکٹ ٹیم سے کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ لاٹھیوں کی جگہ الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ پتہ لگائے بغیر کہ حقیقت کیا ہے پاکستان میں کرکٹرز کا اتنی شدت سے میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا جیسے وہ سب سے بڑے دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا نے یہ محض اس لیے کیا کہ انگلش میڈیا کےایک ایسے اخبار نے کرکٹرز پر الزام لگا دیا جو پہلے بھی لوگوں پر الزامات لگا چکا ہے جن میں متعدد الزامات جھوٹے بھی ثابت ہوئے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ مذکورہ انگلش اخبارنے پاکستانی کرکٹرز پرالزام لگایا تو پاکستانی میڈیا نے ایک سرکس لگا دیا۔

’جو پی سی بی کا چیئرمین بننے میں ناکام یا اب امیدوار ہے اس نے بھی الزام لگایا اور ناراض کرکٹرز اور کرکٹرز کی سابق گرل فرینڈ کے الزامات بھی نشر ہونا شروع ہوگئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے یہ تماشہ پوری دنیا میں کہیں نہیں دیکھا۔‘

گورنر پنجاب نے کہا کہ جو ویڈیو نشر کی گئی اس میں بھی کئی سقم موجود ہیں۔سلمان تاثیر نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ وہ ویڈیو جس میں نوبال کی بات کی گئی ہے وہ نوبال کرنے سے پہلے بنائی گئی یا نوبال ہوجانے کےبعد فلمبند کی گئی؟

گورنر پنجاب نے کہا کہ کرکٹر عامر تو اٹھارہ برس کا لڑکا ہے نہ تو ان کی کوئی تعلیم ہے نہ غیر ملک جانے کا تجربہ ہے۔ان کے بقول یہ شرمناک بات ہے کہ انہیں کوئی چکر دیکر یا شعبدہ بازی کر کے دباؤ ڈال کر کوئی غلط کام کرا لیا جائے۔

انہوں نے کہا یہ وہی انگلش میڈیا ہے جس نے پہلے وقار یونس اور وسیم اکرم کو دھوکہ دینے والا کہا اور بعد میں تمام انگلش بالر کہنے لگے کہ ’ہم خود ریورس سوئنگ کرتے ہیں‘۔

گورنر نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آئن بوتھم اورلیمب کے ذریعے عمران خان پر الزام لگایا اور بعد میں مقدمہ ہونے پر معافیاں مانگیں۔

انہوں نے کہا کہ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ انکوائری مکمل ہونے دیں پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا چاہیے۔گورنر نے کہا کہ وہ پاکستانی عوام کی جذباتیت پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔’پاکستان جیتے تو وہ بھنگڑے مارتے ہیں اور ہار جائے تو بڑا غصہ کرتے ہیں اور میچ فکسنگ کے الزامات لگاتے ہیں۔ میں پاکستانیوں کے موڈ سوئنگ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔‘

گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ غیرملکی دورے کے دوران کرکٹرز کے کمروں میں غیر متعلقہ لوگ نہ جائیں اور نہ ہی کرکٹرز ادھر ادھر اپنا وقت ضائع کریں۔

اسی بارے میں