آخری وقت اشاعت:  جمعـء 3 ستمبر 2010 ,‭ 17:49 GMT 22:49 PST

پاکستانی کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ

سلمان بٹ

پاکستان کے کپتان سلمان بٹ کو سب سے آخر میں کلبرن پولیس سٹیشن پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا

لندن پولیس نےجمعہ کے روز سپاٹ فکسنگ کے الزام میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو تھانے میں بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔

نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر سب سے پہلے شمالی لندن کے علاقے کلبرن کے تھانے میں پہنچے جہاں وہ دو گھنٹے تک رہے۔ میڈیم فاسٹ بولر محمد آصف دوسرے کھلاڑی تھے جس سے پولیس نےپوچھ گچھ کی۔معطل کپتان سلمان بٹ چھ بجے تک تھانے میں موجود تھے۔

پولیس نے ابھی تک پاکستانی کھلاڑیوں پر باضابطہ الزام عائد نہیں کیا جبکہ کرکٹ کی گورننگ باڈی، آئی سی سی پاکستانی کھلاڑیوں کو چارج کر کے انہیں معطل کر چکی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کرکٹ کونسل کے آرٹیکل دو کی کئی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

بی بی سی کے سپورٹس ایڈیٹر ڈیوڈ بونڈ لکھتے ہیں کہ یہ ہفتہ کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین ہفتوں میں سے ایک تھا۔ سپاٹ فِکسنگ کے الزامات کے مبینہ طور پر مرکزی کردار، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ کو، لندن کے کلبرن پولیس سٹیشن میں سب سے آخر میں تفتیش کے لیے بلایا گیا۔ شام سے پہلے تک پاکستانی بالرز محمد عامر اور محمد آصف باری باری پولیس کے سوالات کے جواب دے کر جا چکے تھے۔ تینوں کھلاڑیوں کو کرکٹ کا نگراں ادارہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل فی الوقت ہر قسم کی کرکٹ سے معطل کر چکا ہے۔ کرکٹ کونسل نے کھلاڑیوں کے خلاف الزامات کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی تاہم اس کا کہنا ہے کہ پولیس سے ملنے والے ثبوت کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کلِک پاکستانی ہائی کمشنر کیا کہتے ہیں، سنیے

فاسٹ بالر محمد آصف شمالی لندن کے علاقے کے کلبرن کے تھانے میں آ رہے ہیں

گزشتہ روز پاکستانی حکام کی طرف سے کرکٹ کونسل کے فیصلے کو بے بنیاد اور جلد بازی قرار دیا گیا لیکن کونسل نے اپنا بھرپور دفاع کیا۔ ابھی تک یہ واضع نہیں کہ لندن پولیس اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی تحقیقات کب تک مکمل ہوں گی لیکن جوے بازی کے الزامات کا سامنا کرنے والے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں نے اس وقت تک برطانیہ میں رہنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب تک لندن پولیس اپنی تحقیقات مکمل نہیں کرتی۔ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے اس اعلان کے بعد کہ اتوار کو اس کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف مزید الزامات کی فہرست سامنے لائی جائے گی، کرکٹ کی دنیا کو خدشہ ہے کہ حالیہ الزامات کہیں کرکٹ میں ہونے والی بدعنوانی کا ایک چھوٹا سا حصہ تو نہیں اور ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔

دریں اثناء آئی سی سی کے چیف ایگزیکیٹیو ہارون لورگارٹ نے جمعہ کو ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ کرکٹ کے کھیل کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے معاملے پر فوجداری قانون کے تحت تفتیش ہو رہی ہے۔ اس اخباری کانفرنس سے اینٹی کرپشن کمیٹی کے چئرمین سر رونی فلینیگن نے بھی خطاب کیا۔

ہارون لورگاٹ نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ جمعرات کی شام جب وہ مسٹر لورگاٹ سے ملے تھے تو انہیں اس بات کا کوئی عندیہ نہیں دیا تھا کہ سٹے بازی کے شبہہ میں آنے والے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف آئی سی سی کی جانب سے کوئی کارروائی کی جانے والی ہے۔

یہ الزمات آئی سی سی کے ’اینٹی کرپشن کوڈ فار پلیئرز اینڈ پلیئر سپورٹ پرسنل‘ کے تحت پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میچ میں مبینہ طور پر ضابطے کی خلاف ورزی کے حوالے سے لگائے گئے تھے۔

محمد عامر

محمد عامر شمالی لندن کے علاقے کلبرن کے تھانے میں داخل ہو رہے ہیں

لورگارٹ نے کہا کہ گزشتہ شب واجد شمس الحسن اور پاکستانی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے میری ملاقات کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ انہیں اس بات کا عندیہ دوں، اور واضح عندیہ دوں کہ ہم پاکستانی کھلاڑیوں کو نوٹس جاری کرنے والے ہیں۔ ملاقات کے بارے میں جو کچھ ہائی کمشنر کہہ رہے ہیں اس سے میں اتفاق نہیں کرتا۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تینوں کھلاڑیوں کے خلاف فوجداری مقدمے کی تفتیش ہو رہی ہے۔ آئی سی سی نے ان الزامات کے سلسلے میں تینوں کھلاڑیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

لیکن واجد شمس الحسن نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ آئی سی سی کے چئرمین شرد پوار سے بات چیت کے بعد کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ لورگاٹ میرے کمرے میں بیٹھے تھے کہ انہوں نے شرد پوار سے بات چیت کی۔ ’اس کے بعد کیا ہوا مجھے نہیں معلوم، لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کے کمروں میں نوٹس ڈال دیا۔‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

واجد شمس الحسن نے کہا کہ اس کی کوئی تک نہیں تھی کیونکہ آئی سی سی نے کوئی تفتیش نہیں کی ہے اور جب پولیس ایک مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے تو کسی دوسرے ادارے کی جانب سے تفتیش یا کارروائی کی گنجائش ہی کہاں ہے۔

واجد شمس الحسن نے یہ الزام بھی لگایا کہ آئی سی سی اپنی نااہلی کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے اور یہ پاکستان کو بین الاقوامی کرکٹ سے باہر رکھنے کی ایک سازش ہے۔ ہارون لورگاٹ نے اس الزام سے انکار کیا۔

انسداد بد عنوانی یونٹ کے سربراہ سر رونی فلینیگن نے کہا کہ کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کیس موجود ہے۔ لیکن انہوں نے کوئی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ نہ ہی انہوں نے ان خبروں کے بارے میں کچھ کہا کہ شبہہ کے دائرے میں آنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کےکمرے سے کوئی رقم برآمد ہوئی ہے یا یہ کہ آئی سی سی نے ان پر کس نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔

انہوں نے بس اتنا ضرور کہا کہ کھلاڑیوں کو ان الزامات کا علم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فی الحال ان کے پاس اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ تنازعہ کا شکار ہونے والے سڈنی ٹیسٹ میں میچ فکسنگ ہوئی تھی لیکن جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ان کی بنیاد پر ہی کسی حتمی فیصلے پرپہنچا جائے گا۔

رونی فلینیگن نے کہا کہ موجودہ کیس کا مطلب یہ نہیں کہ کرکٹ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ واقعات میں ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں نےبدعنوانی کی ہو، اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو ہم سخت کارروائی کریں گے لیکن میں یہ نہیں مانتا کہ بدعنوانی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔