’تعلیم پر سوالیہ نشان‘

Image caption حکومت نے سکولوں میں سے پانی کے اخراج کے لیے لِفٹ پمپ مہیا کر دیے ہیں جو بہت جلد اپنا کام شروع کردیں گے: ملک مسعود ندیم

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو جہاں پھر سے اپنے گھروں میں آباد ہونے کی فکر ہے وہاں وہ اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ ان کے بچوں کا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا۔

ان اضلاع میں خدمات انجام دینے والے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ اور کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے سینکڑوں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے یا تو منہدم ہوگئے ہیں یا پھر ان میں ابھی تک پانی کھڑا ہے۔ اس وجہ سے نو ستمبر کو شروع ہونے والے تعلیمی سلسلے پر ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے حالیہ سیلاب کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں ضلع مظفر گڑھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اس ضلع میں کام کرنے والے ای ڈی او ایجوکیشن ملک مسعود ندیم کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں ان کے ضلع کے گیارہ سو پچھتر سکول متاثر ہوئے ہیں جن میں اٹھارہ ہائی اور تین ہائر سکینڈری سکول شامل ہیں۔

ان سکولوں میں کم و بیش پونے دو لاکھ بچے زیر تعلیم تھے۔ ان کے مطابق ان میں سے بیشتر سکولوں کی عمارتیں منہدم ہوچکی ہیں اور کچھ سکولوں میں ابھی تک پانچ سے سات فٹ پانی کھڑا ہے اور حکومت نے ان سکولوں میں سے پانی کے اخراج کے لیے لِفٹ پمپ مہیا کر دیے ہیں جو بہت جلد اپنا کام شروع کردیں گے۔

ملک مسعود ندیم کا کہنا تھا کہ یونیسف حکام نے ایک میٹنگ کے دوران انھیں کپڑے اور پلاسٹک کی عارضی عمارتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ ان کے مطابق بعض ایسی جگہوں پر جہاں پانی خشک ہوچکا ہے نو ستمبر سے کلاسوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

ضلع ڈیرہ غازی خان کے ای ڈی او ایجوکیشن ملک ارشاد کا کہنا ہے کہ ان کے ضلع میں ایک سو تیس سکول متاثر ہوئے ہیں جن میں سولہ ہائی اور دو ہائر سکینڈری سکول شامل ہیں۔ ان سکولوں میں کم و بیش تینتیس ہزار طلبہ زیر تعلیم تھے۔

ضلع راجن پور میں کام کرنے والے ای ڈی او ایجوکیشن مجاہد حسین کے مطابق ان کے ضلع میں سیلاب سے متاثر ہونے والے سکولوں کی تعداد چار سو بارہ ہے جن میں گیارہ ہائی اور دو ہائر سکینڈری سکول شامل ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان سکولوں میں کتنے طلبہ زیر تعلیم تھے تو ان کا جواب تھا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے۔

ضلع لیہ میں خدمات انجام دینے والے محکمہ تعلیم کے افیسرحافظ عبدالواحد اولکھ کے مطابق لیہ کے نوے سکول حالیہ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جن میں پانچ گرلز اور چھ بوائز ہائی سکول بھی شامل ہیں۔

ضلع رحیم یار خان کے ای ڈی او ایجوکیشن مرزافاروق بیگ کے مطابق ان کے ضلع میں ایک سو تیرہ سکول متاثر ہوئے ہیں جن میں پانچ ہائی، آٹھ ایلیمنٹری اور اور سو کے قریب گرلز و بوائز پرائمری سکول شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب میں تعلیم کے وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صوبہ بھر میں چار ہزار چارسو اکاسی سکول حالیہ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سات سو دو مکمل طور پر تین ہزار ایک سو چوالیس جزوی طور پر اور چھ سو پینتیس معمولی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ سیکریٹری احد چیمہ نے اپنے ایک اخباری بیان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالب علموں کی فیسیں معاف کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ صوبہ بھر میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔سیلابی ریلے سے تباہ ہونے والے پرائیویٹ سکولوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

جب اس حوالہ سے مختلف شہروں کے طلبہ اور ان کے والدین سے گفتگو کی تو زیادہ تر کا جواب یہ تھا کہ ابھی تو انھیں اپنی زندگی بچانے کی فکر ہے ۔علم کی ضرورت اور سوال تو تب ہو کہ جب انھیں یقین ہوگا کہ ان کی زندگی بچ جائے گی۔

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ایک ڈیرہ غازی خان میں مقمیم جام پور اور ضلع مظفر گڑھ سے تلعق رکھنے والے چند بچوں سے بات ہوئی تو ان کے مطابق وہ تو اپنے ساتھ اپنی کتابیں بھی نہ لاسکے۔گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول غازی گھاٹ میں زیر تعلیم دسویں جماعت کے طالب علم طارق کا کہنا تھا کہ جب سیلاب آیا تب انھیں نہیں بتایا گیا تھا اس لیے وہ اپنے ساتھ کتابیں نہ لا سکا۔

ان نے کہا کہ سکول میں چھٹی سے دسویں جماعت کے طالب علموں کو یہاں اساتذہ پڑھا تو رہے ہیں مگر ان کے پاس کتابیں نہیں ہیں۔جام پور کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں پانچویں کلاس میں پڑھنے والی طالبہ چندا کا کہنا تھا کہ ان کی کتابیں گھر میں تھیں اور گھر پانی میں ڈوب گیا ہے اس لیے کتابیں بھی ساتھ ہی ڈوب گئی ہونگی۔

ان کے مطابق اب انھیں نہیں معلوم کہ ان کی کتابیں کہاں سے آئیں گی کیونکہ ان کے والد درزی ہیں اور ان کی دُکان اور کپڑے سینے والی مشین تک پانی میں بہہ گئی ہے۔

اسی بارے میں