مگر پینسٹھواں دروازہ !

گدو بیراج
Image caption گدو بیراج میں یہ سینکڑوں جوتیاں کدھر سے آئی ہیں

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی اکیسویں کڑی جو وہ گڈو بیراج سے بھیج رہے ہیں۔

سوموار تیس اگست کی سہہ پہر (گڈو بیراج )

میں گھوٹکی سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر موجود گڈو بیراج کی دھلیز پر ہوں۔ چار ہزار چار سو پینتیس فٹ لمبے بیراج پر قدم نہ رکھوں تو ضلع گھوٹکی میں رہوں گا۔ بیراج کے پینسٹھ دروازوں عبور کرلوں تو ضلع کشمور میں داخل ہوجاؤں گا۔

خرچے ساڈے تے نخرے تہاڈے

بیراج سے چار نہریں نکل رہی ہیں۔ بائیں کنارے پر گھوٹکی فیڈر اور رینی کینال اور دائیں کنارے پر بیگاری اور ڈیزرٹ پٹ فیڈر کینال۔ بائیں کنارے پر مشرف دور سے زیرِ تعمیر رینی نے جو تباہی مچائی اس سے سو گنا زائد تباہی دائیں جانب کی بیگاری نے برپا کی۔( تفصیل شاید آگے آئے گی) ۔

میں نے دیکھا کہ دریا کے بائیں جانب سے نکلنے والی گھوٹکی فیڈر کے ہیڈ ورکس پر بیسیوں لوگ چڑھے اور جھکے ہوئے ہیں۔ انکے ہاتھوں میں رسیاں ہیں۔ رسی کے دوسرے سرے پر بڑے سائز کے ٹوکری نما دھاتی جال بندھے ہوئے ہیں جنہیں پانی میں ڈالا جا چکا ہے یا جا رہا ہے۔ساتھ میں تھیلے رکھے ہوئے ہیں۔جونہی مچھلی یا مچھلیاں ٹوکری نما جال میں پھنستی ہیں اسے اوپر کھینچ لیا جاتا ہے اور تڑپتی ہوئی مچھلیاں تھیلے میں غائب ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ ایویں ہی کھڑے ہیں وہ شکاریوں اور شکار کو رشک و حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔

چند شکاری جن کا تھیلا آدھا بھر چکا ہے سائیڈ پر بیٹھ کر اپنا ہی شکار بیچ رہے ہیں۔ پکنک کی پکنک، کمائی کی کمائی ۔ جنہیں سیلاب نے آ لیا وہ نہری بند پر بیٹھے ہیں۔جنہیں سیلاب نے کچھ نہیں کہا وہ مچھلی پکڑنے کا آنند لے رہے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ناٹ ایوری ڈے از سنڈے!

بیراج کے اس جانب ایک تختی بھی نصب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر اسکندر مرزا نے دو فروری انیس سو ستاون کو اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ جبکہ بیراج کے دوسری طرف بھی دو تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ واپڈا پرنٹنگ پریس کی تیار کردہ پیتل کی بڑی تختی پر ان انجینرز کے نام ہیں۔ سب پاکستانی انجینئر ہیں مگر انہوں نے یہ بیراج اقوامِ متحدہ کے تکنیکی تعاون کے بورڈ کے مشوروں اور معاونت سے مکمل کیا ۔اس مشاورتی بورڈ میں شامل تین ناموں میں سے ایک پر میں چونکا ۔ کلاؤسن ؟ کلاؤسن ؟ کلاؤسن۔ اوہو ! یہ تو غالباً وہی صاحب ہیں جو بعد ازاں اسی کی دھائی میں عالمی بینک کے صدر بھی رہے ۔(مغربی ہونے کا یہی تو فائدہ ہے ، آدمی ترقی پر ترقی کرتا چلا جاتا ہے)۔ برابر میں لگی دوسری تختی سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ایوب خان نے یکم مارچ اینس سو تریسٹھ کو گدو بیراج کا تکمیلی فیتہ کاٹا۔

یہ دونوں تختیاں بیراج کے پینسٹھویں گیٹ کے بازو میں نصب ہیں۔انہیں پڑھتے پڑھتے میں نے یونہی پینسٹھویں گیٹ سے نیچے جھانکا اور دل حلق میں آگیا۔ بیسیوں چھوٹی بڑی چپلیں بند گیٹ کے درمیان پھنسے ہوئے پانی میں تیر رہی ہیں۔چونسٹھویں گیٹ میں یہ بیسیوں چپلیں درجنوں میں اور تریسٹھویں گیٹ پر یہ درجنوں چپلیں سینکڑوں میں اور باسٹھویں گیٹ میں ۔۔۔اور اکسٹھویں گیٹ میں اور ساٹھویں گیٹ میں۔۔۔اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ہمت جواب دے رہی ہے۔

Image caption گدو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی توقع کی جا رہی ہے

یہ ہزاروں چپلیں کس کی ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں بلکہ کہاں کہاں سے آئی ہیں؟؟ شاید کوئی سکردو سے چلی ہو۔ شاید کچھ چپلیں کالام سے شامل ہوئی ہوں۔ شاید نوشہرہ سے۔۔یا شاید لیہ سے، راجن پور سے؟ کیا انہیں پہننے والے بھی دریا میں بہہ گئے؟ نہیں ؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر سینکڑوں ہزاروں لاشیں بھی اپنی چپلیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے گیٹ نمبر پینسٹھ تک ضرور آتیں۔شاید یہ وہ عورتیں ، مرد اور بچے تھے جو سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے سرپٹ بھاگے ہوں گے اور ان کے پیروں سے چپلیں اترتی چلی گئی ہوں گی ۔نہیں ؟ کیونکہ سیلابی ریلا خشکی پر چڑھنے کے بعد اتنی جلدی دریا میں دوبارہ شامل نہیں ہوتا۔شاید یہ چپلیں پہاڑی نالے لوٹ کر لائے ہوں اور مالِ غنیمت دریا بادشاہ کے مرکزی خزانے میں جمع کرا دیا ہو؟ نہیں؟ کیونکہ پہاڑی نالوں کے قریب بسے ہوئے زیادہ تر لوگ بہت غریب ہوتے ہیں۔ان میں سے بہت کم ایسی رنگ برنگی چپلیں افورڈ کر سکتے ہیں۔یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ بے بس لوگوں نے سب کچھ لوٹ لینے پر دریا کو جوتے مارنے کی کوشش کی ہو۔لیکن نہیں ! اس طرح کے دریا مخالف مظاہرے کی پچھلے ایک ماہ سے کوئی اطلاع کہیں سے نہیں آئی ۔تو پھر یہ ہزاروں چپلیں کس کی ہیں ؟ شاید کسی کمپنی کا مال رجکٹ ہوگیا ہو اور اس نے پوری کھیپ دریا میں ڈال دی ہو؟ لیکن ایسا کہاں ہوتا ہے۔رجیکٹڈ مال تو لوکل مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔اور کونسی ایسی کمپنی ہوگی جو دریا کے کنارے چپلیں بناتی ہو۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ۔ہنسوں۔ روؤں۔شک میں مبتلا رہوں۔ قیاس کے گھوڑے دوڑاتا رہوں۔۔کیا کروں ؟

اس وقت تو بس ایک ہی راہِ نجات ہے۔ شفٹ + آلٹ + ڈلیٹ کا بٹن دباؤں اور اس عجیب و غریب پراسرار منظر کو دماغ کے ری سائیکل کوڑے دان میں پھینک دوں۔ ضرورت پڑی تو بعد میں اسی کوڑے دان سے اٹھا لوں گا؟ اٹھا لوں گا نا! میں نے فی الحال یہی کیا ہے۔اور گدو بیراج کے کنٹرول روم کی سیڑھیاں چڑھ گیا ہوں اور خود کو انجینیر نثار شاہ اور علی اکبر کلوڑ سے گفتگو میں ڈبو دیا ہے۔اب میں ان سے گیٹ نمبر پینسٹھ ، چونسٹھ ، تریسٹھ ، باسٹھ ، اکسٹھ کے علاوہ ہر موضوع پر بات کروں گا۔

وہ بتا رہے ہیں کہ ایک گھنٹے پہلے کی ریڈنگ کے مطابق اس وقت بیراج پر دریا پانچ لاکھ اڑتیس ہزار کیوسک پانی ڈسچارج کررہا ہے۔یہ اونچے درجے کے سیلاب کی کیٹگری ہے۔

ان دونوں سے میں یہ بھی جاننا چاہ رہا ہوں کہ بیراج پر آپ کی عمر گذر گئی۔اس مرتبہ اتنا پانی کہاں سے آگیا؟ اس بریفنگ نے کئی عقدے کھولے اور کئی تصورات و تاثرات پارہ پارہ بھی کیے۔خلاصہ کچھ یوں ہے۔

’جولائی کے آخری ہفتے میں خیبر پختونخواہ میں دریائے سوات کے کیچ منٹ ایریاز میں اور مشرقی و جنوبی افغانستان اور خیبر پختونخواہ میں دریائے کابل کے کیچ منٹ ایریاز میں شدید بارشوں کی ایک لہر آئی۔ اس کا اندازہ یوں ہوسکتا ہے کہ دریائے سوات نے اپنے کنارے پھوڑ ڈالے ۔ایسا معلوم تاریخ میں نہیں سنا گیا۔جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر دو ہزار پانچ میں مون سون کے انتہائی عروج کے دنوں میں بھی ایک لاکھ ستر ہزار کیوسک سے زائد پانی نہیں گذرا۔ اسی دریائے کابل سے جولائی دو ہزار دس کے آخری دنوں میں میں پانچ لاکھ چھبیس ہزار کیوسک ریکارڈ پانی گذرا جس نے نوشہرہ اور چارسدہ سمیت نواحی اضلاع کو ڈبو دیا۔

جبکہ اسی دوران میں شمالی علاقہ جات میں شدید بارشوں نے دریائے سندھ اور اس میں گرنے والے نالوں کے پانی میں اچانک اضافہ کردیا۔جب سندھو کے اس پانی سے غضب ناک دریائے سوات اور دریائے کابل نے مصافحہ کیا تو اس نے سپر فلڈ کی شکل اختیار کرلی۔ جب دریائے سندھ اتنے بڑے ریلے کے ساتھ اگست کے پہلے ہفتے میں پنجاب میں داخل ہوا تو اس نے بائیں کنارے پر کالا باغ سے مظفر گڑھ تک بربادی پھیلا دی۔

سونے پے سہاگہ تونسہ سے راجن پور تک کے آٹھ بڑے پہاڑی نالوں ( کاہا سلطان ، چیچڑ، وڈور، سوری لند، سخی سرور، واہووا ، سنگھڑ، کوڑا ) نے پھیرا۔ ایسے بھی دن آئے جب کوہ سلیمان کے ان آٹھ باغی نالوں نے دریا کو ڈھائی لاکھ کیوسک تک پانی کا خراج دیا۔جب یہ آبی لشکر اگست کے دوسرے ہفتے میں سندھ میں داخل ہوا تو اس نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی نہ دایاں کنارہ دیکھا نہ بایاں۔اور ٹھٹھہ تک زندگی کو گھسیٹتا ہوا لے گیا۔

بنیادی طور پر یہ تین مغربی دریاؤں ( سوات ، کابل ، سندھ) کا سیلاب تھا۔اگر دو مشرقی دریاؤں ( جہلم ، چناب) میں بھی اتنا پانی آجاتا تو پھر تباہی کا تصور ہی ناقابلِ تصور ہے۔مثلاً انیس سو تہتر میں جب دریائے جہلم اور چناب پنجند کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوئے تو دریائے سندھ میں سوا آٹھ لاکھ کیوسک پانی بڑھ گیا۔لیکن انیس سو دس کے مون سون میں کسی بھی دن دریائے سندھ میں جہلم اور چناب کے پانی نے تین لاکھ گیارہ ہزار کیوسک سے زیادہ کی حد پار نہیں کی۔

اس مرتبہ تباہی کی ایک بنیادی وجہ دریا میں تجاوزات کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ برسوں سے جمع ہونے والی سلٹ ( ریت اور چکنی مٹی کا آمیزہ ) بھی تھی۔دریا کے مرکزی راستے میں سالانہ دو سے تین انچ موٹائی کی سلٹ جمع ہوتی رہتی ہے۔اگر ہر سال طغیانی آتی رہے تو جمع شدہ سلٹ کی آدھی مقدار دریا کا بہاؤ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ لیکن گذشتہ پندرہ برس میں سندھو بادشاہ کو اس سلٹ کی صفائی کا موقع نہ مل سکا۔ اس تناظر میں اگر سن چھہتر کے آخری بڑے سیلاب کے بعد سے سلٹ کی سالانہ مقدار ایک انچ بھی تصور کر لی جائے تو اس شرح سے دو ہزار دس تک پچھلے چونتیس برس میں دریا کا بیڈ تین فٹ کے لگ بھگ اونچا ہوچکا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ تہہ جمنے سے پہلے اگر بیڈ سے دس لاکھ کیوسک پانی نقصان پہنچائے بغیرگذر سکتا تھا تو سلٹ کی اتنی موٹی تہہ جمنے کے بعد سات لاکھ کیوسک پانی بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

Image caption گدو بیراج میں لوگ جال ڈال کر مچھلیاں پکڑ رہے ہیں

مثلاً دریائے سندھ پر کالا باغ کے نزدیک جس جگہ جناح بیراج ہے ۔وہاں سے انیس سو بیالیس میں نو لاکھ سترہ ہزار کیوسک پانی گذر چکا ہے۔جبکہ انیس سو دس کے مون سون میں نو لاکھ کیوسک سے کچھ کم پانی گذرا۔گدو بیراج جس کی ڈسچارج گنجائش بارہ لاکھ کیوسک ہے ۔انیس سو چھہتر کے سیلاب میں یہاں سے گیارہ لاکھ چھہتر ہزار کیوسک تک پانی گذرا۔لیکن موجودہ مون سون میں سیلاب کے عروج کے دوران بھی گڈو سے ایک وقت میں گیارہ لاکھ انچاس ہزار کیوسک سے زائد پانی نہیں گذرا۔ مگر اسکی تباہ کاری سن چھہتر سے زیادہ رہی۔

اسی طرح کوٹری بیراج جس کی ڈسچارج گنجائش آٹھ لاکھ پینتیس ہزار کیوسک ہے۔ وہاں سے سن چھپن میں نو لاکھ اکیاسی ہزار کیوسک ریکارڈ پانی گذرا۔ مگر جسے ہم دو ہزار دس کا سپر فلڈ کہتے ہیں اس دوران سن چھپن کے مقابلے میں تئیس ہزار کیوسک کم پانی گذرا ۔تاہم کم ہونے کے باوجود اس نے چھپن سے کہیں زیادہ تباہی مچائی۔ بلا شبہہ ہم اسوقت سپر فلڈ کے دور سے گذر رہے ہیں۔ لیکن تباہی کی شرح میں اضافے کا ذمہ دار صرف سپر فلڈ ہے یا دیگر وجوہات بھی اس میں شامل ہیں۔اس کی ہمیں اپنے مستقبل کی خاطر بغور جائزہ لینے اور فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اس وقت سہہ پہر کے تین بج رہے ہیں۔پارہ صفت شریف میرانی نے مجھے گڈو میں جوائن کیا ہے۔انہیں دیکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ صابر ظفر کے اس مصرعے کی تصویر ہیں کہ

چین اک پل نہیں اور کوئی حل نہیں۔

شریف میرانی کا گاؤں کندھ کوٹ کے مضافات میں ہے/ تھا؟ یہ ان سینکڑوں گاؤں میں سے ایک تھا/ ہے جنہیں توڑی بند کا شگاف بہا لے گیا۔شریف کو اس بات کا کوئی ملال نہیں کہ اسکے گھر کے ساتھ کیا ہوا۔غصہ صرف اس پر ہے کہ اسکی ماں کی قبر بھی پانی نے چرا لی۔ شریف نے اس خیال کی ٹیسوں سے بچنے کے لیے خود کو دوسروں کی بساط بھر مدد کرنے کے کام میں ڈبو لیا ہے۔ شریف کا وعدہ ہے کہ وہ آج ہر صورت میں مجھے ٹوری بند پر لے جائے گا۔جہاں جانے کا بظاہر اس وقت کوئی راستہ نہیں ۔

اک آب کا دریا ہے

اور تیر کے جانا ہے

مجھے انتہائی خوشی ہے گڈو بیراج کے دو سب انجینرز سے مل کر۔گاڑی کشمور شہر اور بخشا پور سے گذرتی ہوئی کندھ کوٹ لگ بھگ پچاس ساٹھ منٹ میں پہنچے گی۔ خدا جانتا ہے کہ وہاں سے توڑی بند پہنچنے میں کتنا وقت صرف ہوتا ہے۔

یہ سب تو ٹھیک ہے مگر وہ ہزاروں چپلیں جو گیٹ نمبر پینسٹھ سے لے کر جانے کونسے نمبر کے گیٹ تک اٹکی ہوئی ہیں۔اسوقت میرا دل گیٹ نمبر چھیاسٹھ اور دماغ گیٹ نمبر سڑسٹھ بنا ہوا ہے۔

اسی بارے میں