ضمنی انتخاب:پیپلز پارٹی کی امیدوار کی جیت

ضمنی انتخاب: فائل فوٹو
Image caption خدیجہ عامر کے شوہر کو جعلی سند کی بنا پر نا اہل قرار دے دیا گیا تھا

پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی امیدوار خدیجہ عامر ضمنی انتخابات میں اس نشست پر کامیاب ہوگئی ہیں جو ان کے شوہر کے نا اہل ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

خدیجہ عامر نے اپنے مدمقابل مسلم لیگ نون کے امیدوار میاں نجیب الدین اویسی کو غیر سرکاری نتائج کے مطابق چھبیس ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے۔

سنیچر کو جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چوارسی کی خالی ہونے والی نشست کے لیے ضمنی انتخاب ہوا جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔مسلم لیگ قاف کے امیدوار خالد محمود وارن پیپلز پارٹی کی امیدوار خدیجہ وارن کے حق میں دستبردار ہوگئے۔

یہ نشست پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عامر یار وارن کی جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے ان کے نااہل ہونے پر خالی ہوئی تھی۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق خدیجہ عامر نے پچہتر ہزارسے زائد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار کو انچاس ہزار کے قریب ووٹ ملے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چوراسی سے سردار عامر آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف گھلو کو شکست دی تاہم رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد وہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

عامر یار وارن نے کچھ عرصہ پہلے جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیْ دے دیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے ضمنی انتخابات میں انہیں دوبارہ اپنا امیدوار نامزد کیا۔

عامر یاروارن نے احتیاطی طور پر اپنی اہلیہ خدیجہ عامر کے کاغذات بھی آزاد امیدوار کے طور جمع کرائے تھے۔

ضمنی انتخابات سے دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ نے ایک آزاد امیدوار کی درخواست پر عامر یار وارن کو نااہل قرار دیتے ہوئے انہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جس کے بعد پیپلز پارٹی نے عامر یار وارن کی جگہ ان کی اہلیہ کو اسی حلقہ سے اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔

خیال رہے کہ اس حلقہ میں ضمنی چناؤ کے لیے مسلم لیگ نون نے میاں نجیب الدین اویسی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا جو دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ قاف کی طرف سے امیدوار تھے اور انہوں نے عام انتخاب میں اپنی ناکامی کے بعد عامر یار وارن کی تعلیمی سند کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اسی وجہ سے عامر وارن نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیْ دے دیا تھا۔

اسی بارے میں