شہروں کو سیلاب سے بچانے کی کوششیں

Image caption ضلع دادو میں اسّی ہزار متاثرین کو امدادی کیمپوں میں رکھا گیا ہے

سندھ کے ضلع دادو میں حکام سیتاروڈ، جوہی اور میہڑ کو سیلابی پانی سے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سیلابی پانی خیر پور ناتھن شاہ شہر کو پہلے ہی ڈبو چکا ہے جبکہ دادو کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے ضلع میں ڈھائی سو دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور آٹھ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ضلع دادو سے ایک بڑی تعداد میں سیلاب متاثرین ضلع جامشورو کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں جہاں انھیں خوراک اور رہائش کی عدم دستیابی جیسی مشکلات کی اطلاعات ہیں۔

سیلاب ڈائری: ایشیا کا سب سے بڑا شگاف!

پانی کم ہو رہا ہے عذاب نہیں: ویڈیو

ضلع دادو کی چار تحصیلیں سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں جن میں دادو، خیر پور ناتھن شاہ، میہڑ اور جوہی شامل ہیں۔ سیلابی پانی اس وقت ضلع دادو کے ایک اور شہر سیتاروڈ سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے اور علاقے کے سابق رکن صوبائی اسمبلی میمن شاہ نے مقامی آبادی سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر سے نقل مکانی نہ کریں بلکہ شہر کے حفاظتی پشتے کو محفوظ بنانے میں انتظامیہ کی مدد کریں۔

Image caption ضلع دادو میں ڈھائی سو دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں

نامہ نگار نثار کھوکر کے مطابق محکمۂ آبپاشی کے مقامی انجینئر شفقت حسین کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اگرچہ میہڑ شہر سے دس کلومیٹر دور ہے، تاہم شہر کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ میہڑ کی مقامی آبادی نے شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے میہڑ کینال میں دو شگاف ڈال کا پانی کا رخ خیر پور ناتھن شاہ کی جانب موڑ دیا ہے جس کی وجہ سے پانی کے دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ضلع دادو کی ایک اور تحصیل جوہی میں واقع جوہی شہر کے حفاظتی پشتے سے سیلابی پانی ٹکرا چکا ہے اور شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے انتظامیہ اور مقامی لوگ مل کر حفاظتی پشتے کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔کاچھو کے پہاڑی سلسلے سے متصل جوہی تحصیل کے بیس سے زائد دیہات سیلابی ریلے کا نشانہ بنے ہیں۔

ضلع دادو میں واقع منچھر جھیل میں سیلابی پانی پہنچنے سے، جھیل کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ُادھر حکام کے مطابق، دریائے سندھ میں بڑا سیلابی ریلا اب سمندر میں گِر رہا ہے تاہم سیلابی پانی سے ضلع ٹھٹہ کے ساحلی علاقے جاتی اور کیٹی بندر کے مزید بیس دیہات زیرِ آب آگئے ہیں۔متاثرہ علاقے کے لوگ پہلے ہی مکلی اور ٹھٹہ کی جانب نقل مکانی کر چکے تھے۔

Image caption ضلع ٹھٹہ کے مزید بیس دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں

اس سے قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دادو کے ضلعی رابطہ افسر اقبال میمن کا کہنا تھا کہ سیلاب سے دادو میں دو لاکھ اور شہداد کوٹ، جوہی تحصیل، میہڑ تحصیل میں تقریباً آٹھ لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دادو سے لوگوں کے انخلا کی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔

اقبال میمن نے بتایا کہ دادو کی مجموعی صورتِ حال خراب ہے اور وہاں امداد کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں خوراک اور پینے کے صاف پانی کی شدید کمی ہے۔ ڈی سی او کا کہنا تھا کہ’ہم یوٹیلٹی سٹورز سے خوراک خرید کر متاثرین کو بھجوا رہے ہیں لیکن ہمیں خوراک کی جتنی ضرورت ہے اتنی فراہم نہیں کی جا رہی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے حکومت کو خیمے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے اور’ہمیں دس ہزار خیموں کی ضرورت ہے لیکن صرف دو سو خیمے مہیا کیے گئے ہیں‘۔ اقبام میمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اایک اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ کی شدید کمی کا ہے اور’ اگرچہ لوگ ٹریکٹر، بسوں کے ذریعے کراچی جا رہے ہیں تاہم زیادہ آبادی ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی شدید کمی ہے‘۔

دادو سے ضلع جامشورو کی جانب نقل مکانی

دریں اثنا ضلع دادو سے بڑی تعداد میں سیلاب متاثرین ضلع جامشورو کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جہاں انھیں کھانے پینے کی اشیا اور عارضی رہائش گاہوں کی کمی کا سامنا ہے۔

ضلع جامشورو کے ضلعی رابط افسرسمیع الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ ضلع میں پہلے سے ہی دیگر شہروں سے آنے والے سیلاب متاثرین کی ایک بڑی تعداد عارضی کیمپوں میں قیام پذیر ہے جہاں انھیں مفت طبی سہولیات، رہائش اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی اور خیرپور ناتھن شاہ میں سیلاب کی وجہ سے وہاں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے ضلع جامشورو میں آنا شروع ہوئے ہیں۔

متاثرین کو خوراک کی عدم دستیابی کی اطلاعات پر انھوں نے کہا کہ ضلع دادو میں دریا کی پٹی ایک سو ستر کلومیٹر طویل ہے اور وہاں سے لوگ نقل مکانی کر کے جب ضلع جامشورو کے مختلف علاقوں میں آتے ہیں تو جب تک ان کی رجسٹریشن یا شناخت نہیں ہوتی اس وقت تک انھیں امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ضلع دادو کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کسی بھی وقت نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور رات کو کسی بھی مقام پر پڑاؤ ڈال لیتے ہیں جب تک ہمارے فیلڈ سٹاف کو ان کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو بعض اوقات اس میں بارہ سے چوبیس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

ڈی سی او سمیع الدین صدیقی نے کہا کہ جب تک فیلڈ سٹاف کو ان کے بارے میں معلوم نہیں ہو جاتا ہے اس وقت تک انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں